ایسی تصویریں جنہیں بار بار دیکھنے کا دل کریں

تصویریں ہم روز  دیکھتے ہیں لیکن کچھ تصاویر  ایسی ہوتی ہے جس کو دیکھنے کا بار بار دل کرتا ہے کیونکہ بہت بروقت نکالی گئی ہوتی ہے  آج آپ کو ہم ایسی ہی کچھ تصاویر دکھاتے ہیں

اس تصویر میں الٹا سر کہی نظر آرہا ہے کیا

جبڑا تو گیا میرا

ویٹر جب دشمنوں میں ہو

جوتا میزائل نشانےپر

بچہ وہیل کے منہ میں

تالی بجا میرا منہ نہیں

اڑتی ہوئی کار

مکی ماؤس کی شرارتیں

گلاس کہی اور جا رہا ہے

ایسے گرا جاتا ہے شاباش

بلی کی ہنسی

جوانی ہے مستانی

خدا کا خوف

ایک آدمی گھر پھر دیر سے آیا، آدھی رات تھی اور پڑوسیوں کے کتے بھونک بھونک کر ہلقان ہو رہے تھے. اس نے ہمیشہ کی طرح بہت پی رکھی تھی اور اسے اپنا کوئی ہوش نہیں تھا.

اس کی بیوی نے روز کی طرح آج بھی اس کے لیے دروازہ کھولا اور اس کو بیڈ تک سہارا دے کر لے گئی. بیڈ پر لے کر گئی تو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل زمین پر دے ماری، بیوی نے دیکھا کہ نیچے سارے کانچ ہی کانچ پھیل گئے ہیں، لیکن اس نے اپنے خاوند کو کچھ نہ بولا بلکہ اس کے جوتے اتارے، پھر اس کے کپڑے اتارے اس کے اوپر کنبل ڈالا اور اس کو سلا دیا.ہمیشہ کی طرح وہ بے سدھ پڑا سو رہا تھا. بیوی نے جھاڑو لا کر نیچے سے کانچ صاف کیے کانچ صاف کیے اور راستے میں کمرے تک آتے ہوئے اس کے شوہر نے جو کچھ بھی توڑا تھا، وہ ہر چیز کو اٹھا کر گھر صاف کرنے لگی.

صبح جب اس کا شوہر اٹھا تو وہ دعا کرنے لگا کہ آج بیگم لڑائی نہ کرے کیونکہ وہ ہر روز اتنی لڑائی کرتی تھی اپنے خاوند کے شراب پینے اور دیر سے گھر آنے پر، اور سونے پر سہاگہ، آج رات تو اس نے کتنے برتن اور شراب کی بوتل بھی توڑ دی تھی. وہ ڈرتا ڈرتا ناشتے کی میز پر پہنچا تو دیکھا کہ صرف اس کا بیٹا بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا. اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ماما کدھر ہیں؟وہ بولا کہ وہ بازار گئی ہیں گروسری کے لیے اور جاتے وقت آپ کے لیے آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنا گئیں تھیں اور آپ کے لیے یہ سٹکی نوٹ چھوڑ گئی تھیں. اس نے حیرت سے سٹکی نوٹ پڑھا تو لکھا تھا: میری جان میں ابھی آدھے گھنٹے تک واپس آرہی ہوں، آپ ناشتہ کریں. آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنایا ہے آج. آئی رئیلی لوو یو اے لاٹ. وہ حیران و پریشان تھا کہ یہ کیا مجرا ہے، بیگم آج لڑ کیوں نہیں رہی اور اتنا پیار کیوں جتا رہی ہے، اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تمہاری ماما کی طبیعت تو ٹھیک ہے، پاگل تو نہیں ہو گئی، میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کر رہی ہے آج؟بیٹا ہنسا اور بولا:

پاپا.. ماما نے مجھے ابھی جانے سے پہلے بتایا تھا کہ رات کو جب وہ آپ کے جوتے، موزے اور کپڑے اتار رہی تھیں کہ آپ پر سکون ہو کر سو سکیں تو آپ نے اتنی پی رکھی تھی کہ آپ نے ماما کو پہچانا ہی نہیں اور آپ نے ان کو بولا کہ او بی بی میں کوئی ایسا ویسا آدمی نہیں ہوں، خدا کا خوف کرو، پیچھے ہٹو، میں شادی شدہ ہوں. ماما آج صبح سے گانے گنگناتی پھر رہی تھیں. یہ سن کر باپ بھی ہنسنے لگ گیا. اگر آپ اپنے رشتے ٹھیک سے نبھائیں گے تو آپ چھوٹی غلطیاں کر سکتے ہیں لیکن کبھی کسی بڑی غلطی کا ارتکاب آپ کے لیے ممکن نہیں ہے. اپنی ترجیحات ٹھیک سے متعین کریں اور رشتوں کی قدر کریں. جب آپ کی ترجیحات کی درست تقرری ہوتی ہیں تو آپ کی عادتیں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں اور آپ کے گھر والے آپ سے پیار کرنے لگتے ہیں اور آپ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بھی پیار کرنے لگتے ہیں، پر یاد رہے کہ کسی بھی رشتے میں بے وفائی نا قابل معافی جرم ہے. ..

نیند کی کمی سے زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے

مجھے بے خوابی کا سامنا ہے اور میں جانتا ہوں کہ جب میری کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری نہیں ہوتی تو تھکاوٹ اور چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہوں۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ راتوں کو مناسب نیند نہ آنے کی وجہ سے میری یادداشت پر اثر پڑا ہے۔ ’نیند سے اہم باتیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے‘میں نے نیند اور یادداشت کے درمین تعلق کو طویل عرصے سے منسلک کر رکھا ہےاور ایک

معقول نظریہ یہ ہے کہ گہری نیند کے دوران آپ کا دماغ مختصر مدت کی یادداشت کو طویل المدت یادداشت کو محفوظ رکھنے والے حصے میں منتقل کر دیتا ہے اور اگر آپ اچھی نیند نہیں لیتے تو یہ یادداشت ختم ہو جائے گی۔ بی بی سی ون کے لیے نیند کے بارے میں حقائق جاننے کے دوران جس کے دوران جس چیز نے مجھے واقعی میں حیران کیا کہ کس طرح سے راتوں کی خراب نیند خون میں شوگر کی مقدار اور بھوک کو متاثر کر سکتی ہے جہاں تک اس تحقیق میں شامل صحت مند رضاکاروں کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔اس بارے میں مزید معلومات اور مدد حاصل کرنے کے لیے ہم نے لیڈز یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلینور سکاٹ سے بات کی۔اس کے بعد ہم نے رضاکاروں سے کہا ہے کہ وہ دو راتوں تک معمول کے مطابق نیند پوری کریں اور دو راتیں تین گھنٹے کی تاخیر سے بستر پر سونے جائیں اور اس کے بعد دو راتوں کو وہ جتنا چاہیں سو سکتے تھے اور میں بھی اس تحقیق میں شامل ہو گیا۔ مجھے ناخشگوار حیرانگی ہوئی کہ جن دنوں نیند کم لی تھی اس وقت میری بلڈ شوگر کا لیول بڑھ

گیا اور میری بھوک بڑھ گئی۔اس کی وجوہات پر ڈاکٹر سکاٹ کہتے ہیں کہ’ ہم جانتے ہیں جب آپ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو بھوک کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کو زیادہ بھوک محسوس ہو گی اور اس بات کا امکان کم ہے کہ آپ خود کو بھوکا محسوس نہ کریں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نیند کی کمی کا شکار لوگ اکثر میٹھی خوراک لیتے ہیں۔’ ڈاکٹرسکاٹ کے مطابق اگر آپ اس وقت نیند سے بیدار ہوتے ہیں جب آپ کو ہونا نہیں چاہیے تو اعصابی دباؤ کے زیادہ ہارمونز اور زندگی کے لیے ضروری کارٹی زال ہارمونز پیدا کرتے ہیں اور یہ شکر کے لیول پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ایسا اگلے دن بھی ہو سکتا ہے۔ کنگز کالج کی حالیہ تحقیق سے اندازہ ہوا ہے کہ نیند کی کمی کا شکار اوسطً 385 کیلریز اضافی لیتے ہیں۔

ﺍﺗﻨﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ہے

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺳﯿﺮ ﺳﭙﺎﭨﮯ ﮐﺮ ﺭہا ﺗﮭﺎ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﯽﻧﻈﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦﺳﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﺍﯾﻨﭧ ہوﺍﻣﯿﮟ ﻗﻼﺑﺎﺯﯾﺎﮞ ﮐﮭﺎﺗﯽ ہوﺋﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی. ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہو ﮐﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺳﮯﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﻪ ہے ﮐﻪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ہو ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ہوﺋﯽ ﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی ہے، ﮐﯿﺎ ﯾﻪ ﺍﺗﻨﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ہے؟؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ:ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺳﺎتھ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎہے،ﺍﮔﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻥ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﮩﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﺎﭼﺎہتے ہو؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ،ﺿﺮﻭﺭﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑہت ہی ﺍﭼﮭﯽ ﮔﺰﺭﺭہی ہے ،ﺍﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽﻻﺣﻖ نہیں ﺍﺳﯽ ﻭﺟﻪ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی ہے.

ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ. ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﺣﻀﻮﺭ. ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺗﺤﻘﯿﻖ پر ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ. ﺍﯾﮏ ہفتے ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﮭﯽ. ﺍﺱ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﺎﻡ ہوﺗﮯہی ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮہر ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭہتی ہے،

ﻭﻩ ﺟﯿﺴﮯ ہی ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﺎ ہے. ﺍﺱ ﮐﯽﺑﯿﻮﯼ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽﺑﺎﻟﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے،ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ہی ﻧﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہوﺗﺎ ہے،ﯾﻪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﻟﮕﺎﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺗﯽ ہے ﻧﻤﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﭼﯽ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے،ﮐﮭﺎﻧﮯﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہوﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﻟﮕﺎﺗﯽ ہے، ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮہر ﮐﻮ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺘﯽ ہے.ﮐﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﺎﺫﮐﺮ نہیں ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﯽ ہے. ﺟﺐ ﯾﻪ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﭘﯿﺶ ہوﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہوا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺍﻥ ﮐﮯﺩﺭﻣﯿﺎﻥ کچھ ﺭﻧﺠﺶ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻧﺘﯿﺠﻪ نکلتا ہے. ﭼﻨﺎﻧﭽﻪ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ہی ﮐﯿﺎ. ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﻪ ﺧﺒﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯼ ﮐﻪ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﺷﻮہر ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ہیں. ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮﮞ ہی ﮔﮭﺮپہنچا ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﻪ ﻧﻪ ﺗﻮ نہانےﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﭩﯽ ہے، ﻧﻪ ہیﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ہے، ﻧﻪ ہی ﺳﻮﻧﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺴﺘﺮ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯﻭﺟﻪ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﮌﯼ، ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻧﮯ بہت ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﻪ ﻣﯿﮟ ﻧﻪ ﻣﺎﻧﻮ.ﻏﺮﺽ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﯾﻪ ﻗﺼﻪ ﯾﻮﮞہی ﭼﻠﺘﺎ ﺭہاْ. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ہم ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں. ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻭﺯﯾﺮ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭﺍﺳﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﻬﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں ﮐﻪ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻻکھ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﻨﭧ پہلی ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺗﯽ ہی نہیں ہے. ﺑﺎﺩﺷﺎﺩﻩ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﯽ ﻓﻬﻢ ﻭﻓﺮﺍﺳﺖ ﮐﻮﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ہوﮔﯿﺎ ﮐﻪﺍﯾﻨﭧ ﮐﻮ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯنہیں ﺑﻠﮑﻪ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽﻧﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ہے.

..

انارکا دانہ

ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے انار خریدا کرتا تھا، وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ انار کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منھ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ….اور یہ کہہ کے وہ انار اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا…..وہ بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی “یہ تو با لکل میٹھا ہے” مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لیکے وہا ں سے جا چکا ہوتا ہے….

اس شخص کی زوجہ بھی ہر بار اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی ….اس کی بیوی نے پوچھا “جب اس کے انار ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا..”اس شخص نے مسکرا کے جواب دیا ” وہ بوڑھی ماں میٹھے انار ہی بیچتی ہیں مگر غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے اس کو کھانے سے محروم ہیں …

اس ترکیب سے میں ان کو ایک انار بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں …بس اتنی سی بات ہے”اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی …… سو وہ ایک دن پوچھ بیٹھی “یہ آدمی روزانہ تمہارے انار میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد انار وزن کرتی ہو…کیا وجہ ہے؟؟؟

”یہ سن کے بوڑھی عورت کے لبوں پر مسکراھٹ کھیل گئی اور وہ گویا ہوئی “میں جانتی ہو ں کہ وہ ایسا مجھے ایک انار کھلانے کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ میں اس سے بیگانہ ہوں، میں کبھی زیادہ وزن نہیں کرتی … یہ تو اسکی محبت ہے جو ترازو کے پلے کو بوجھل کر دیتی ہے” .محبت اور احترام کی مسرتیں ان چھوٹے چھوٹهے میٹھے دانو ں میں پنہاں ہیں …. سچ ہے کہ محبت کا صلہ بھی محبت ہے…!!

دنیا کے بڑے بڑے شہر پانی میں ڈوبنے والے ہیں؟ قرآن کریم میں 1400 سال قبل کی جانیوالی پیش گوئی

قرآن شریف دنیا کا سب سے بڑا وہ ظاہر معجزہ ہے اور وہ الہامی کتاب ہے جس میں قیامت تک پیش آنے والے ہر واقعہ کی پیش گوئی کردی گئی ہے، کچھ باتیں کھلی اور کچھ ڈھکی چھپی ہیں تاکہ سمجھنے والے اسے سمجھ سکیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ عقل والوں کے لیے اس میں کھلی نشانیاں موجود ہیں۔

آج دنیا زمین کے مسلسل بڑھنے والے درجہ حرارت سے پریشان ہے،جسے گلوبل وارمنگ کا نام دیا گیا ہے، سائنس دان بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، اس ضمن میں قرآن شریف میں بہت واضح طور پر کم از کم دو بار اللہ تعالیٰ دنیا بھر کو خبردار کرچکے ہیں۔

سورۃ الانبیا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک  دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے؟

( سورۃ انبیاء، آیت 44)سورہ الرعد میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے(سورۃ الرعد، آیت 41)ان دونوں سورۃ کی آیات کا ترجمہ دیکھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور ہم زمین کے کناروں کو گھٹاتے چلے آئے ہیں؟ کیسے؟؟

زمین پر تین حصے پانی، ایک حصہ خشکی:ہماری زمین پر تین حصے پانی اور صرف ایک حصہ یا اس سے کم خشکی ہے، سائنس دانوں کے مطابق زمین پر 71 فیصد پانی اور 29 فیصد خشکی ہے۔اس خشک حصے کا 20 فیصد پہاڑوں پر مشتمل ہے اور 20 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے جس میں پورا براعظم انٹار کٹیکا شامل ہے جہاں برف کے عظیم الشان گلیشیر بھی موجود ہیں۔

زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے:سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اس کی وجہ انسان خود ہے جو اپنی ایجادات،درختوں کے کٹاؤ اور دیگر اقسام کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کے سبب زمین کے اطراف موجود اوزون کی تہہ ختم کررہا ہے جس کے باعث دھوپ کی شعاعیں چھن کر آنے کے بجائے براہ راست زمین پر پڑ رہی ہیں اور درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔برف کے پہاڑ پگھلنے لگے:درجہ حرارت بڑھنے کے سبب زمین پر موجود برف کے عظیم الشان پہاڑ متاثر ہیں اور حالیہ رپورٹس کے مطابق ان کے پگھلنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

نتیجے میں سمندروں میں پانی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے اور سطح آب مسلسل بلند ہورہی ہے۔چند روز قبل ہی عالمی اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے سبب قطب جنوبی میں واقع براعظم انٹارکٹیکا میں 6 ہزار مربع کلومیٹر برفانی تودہ شگاف پڑ جانے کے باعث ٹوٹ کر خطے سے علیحدہ ہوگیا۔دنیا کے کئی بڑے شہر غرق ہونے کی پیش گوئیاں:سطح سمندر بلند ہونے سے زمین کا خشک حصہ کم ہورہا ہے

حتیٰ کہ کچھ اداروں نے برسوں بعد دنیا کے کئی بڑے شہر غرق آب ہونے کی پیش گوئی بھی کررکھی ہے جو کہ سمندر کنارے واقع ہیں۔یہ واقعی حقیت ہے کہ درجہ حرارت اگر اسی طرح بڑھتا رہا تو سمندر میں پانی کی سطح کئی انچ تک بلند ہوجائے گیاور پانی سمندر کنارے بنے شہروں میں داخل ہوجائے گا۔یہ بات سائنس دان اب کہہ رہے ہیں مگر 1400 برس قبل قرآن شریف میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا گیا تھا

بڑی پاکی حاصل کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ وڈیو دیکھیں

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضوء کا طریقہ بیان کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو (گٹوں تک)تین مرتبہ دھویا،پھر چلّو میں پانی لے کر کھلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑا پھر تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا ،اوعر پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا اور پھر آخرمیں دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبی دھویا اور فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی وضوء فرمایا کرتے تھے۔(صحیح بخاری مع الفتح،حدیث ۱۵۹)

اس حدیث شریف میں وضوء کے حوالے سے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (قرآن کی )عملی تفسیر ہے جو حدیث کی ایک قسم ہے ۔بلا حدیث مکمل وضوء کا طریقہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا لہٰذا ثابت ہوا کہ حدیث صحیحہ بھی اسی طرح حجت ہے جس طرح قرآن مجید حجت ہے۔

اس(مذکورہ)حدیث میں کامل مکمل و مسنون طریقہ وضوء بیان کیا گیاہے لیکن یاد رہے کہ اعضاء وضوء کو ایک ایک رمرتبہ اور دو دو مرتبہ دھونا بھی صحیح ہے اس طرح کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے ۔ (تفصیل کے لئے مشکوۃ مع مرعاۃ المفاتیح،جلد۲)

٭وضوء سے قبل نیت (دل میں وضوء کا ارادہ )کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ۔بلا نیت نہ تو وضوء ہوتا ہے اور نہ ہی نماز ،مگر یاد رہے کہ نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے جبکہ زبان سے نیت کے الفاظ کسی بھی صحیح حدیث میں منقول نہیں ہیں۔

٭وضوء کی ابتداء میں ’’بسم اللہ ‘‘پڑھنا بھی ضروری ہے ۔حدیث شریف میں ہے کہ ’’اس شخص کا وضوء نہیں ہوتا جو اللہ کا نام نہ لے ‘‘(مشکوۃ حدیث ۴۰۴،شرح معانی الآثار،حدیث ۹۹)۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’’بسم اللہ ‘‘کہتے ہوئے وضوء شروع کرو‘‘(مسند احمد،۱۶۵)

٭دوران وضوء اعضاء کو مسل کر دھونا چاہیئے اسے ’’دلک‘‘ کہا جاتا ہے ۔(نیل الاوطار دیکھیں)

٭ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے درمیان (دوران وضوئ)خلال بھی کرنا چاہیئے۔(ابو دائود ترمذی بحوالہ مشکوۃ ،حدیث ۴۰۷،۴۰۸،نیز نیل الاوطار بھی دیکھیں)۔

٭داڑہی کا خلال کرنا چاہیئے اور وہ اس طرح کہ چہرہ دھونے کے بعد (ایک )چلوپانی لے کر ٹھوڑی کی طرف سے داڑہی میں داخل کریں اور انگلیوں سے خلال کریں۔(ایک مرتبہ)تفصیل کے لئے مرعاۃ المفاتیح جلد دوئم ،نیل الاوطار جلد اول ،فتاویٰ الدین الخالص جلد اول)

٭پورے سر کا مسح (ایک مرتبہ )کرناہے ،طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیاں پانی میں بھگو کر دونوں ہاتھ سر کے بالوں کے ابتدائی حصے (پیشانی )پر رکھیں اسی طرح بالوں پر پھرتے ہوئے پیچھے گدی تک لے جائیں اور پھر اسی طرح دونوں ہاتھ واپس (پیشانی) تک لے آئیں ۔(ایک مرتبہ)(دیکھیئے صحیح بخاری مع الفتح حدیث ۱۸۵،۱۹۲،نیل الاوطار،جلداول)

٭کانوں کا مسح سر کے مسح کے بعد ہو گا افضل و اولی یہ ہے کہ کانوں کے لئے نیا پانی نہ لیں ۔مسح کا طریقہ یہ ہے کہ (سبا بہ)تشہد والی انگلی سیدھے اور الٹے ہاتھ کی کانوں کے سوراخوں میں داخل کر کے گھمائیں اور انگوٹھوں سے باہر کا مسح کریں(ایک مرتبہ)(دیکھیئے نیل الاوطاراور مرعاۃ المفاتیح)

٭ہر ہر عضو کے دھوتے وقت دعا پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیںہے (فتاویٰ رشیدیہ)۔اور نہ ہی درمیان وضوء کوئی خاص دعا منقول ہے ’’اللہم اغفرلی ذنبی ووسع لی فی داری۔۔۔۔‘‘یہ دعا نماز یا نماز کے بعد کبھی بھی پڑہی جا سکتی ہے اسے اثنائے وضوء میں پڑھنا بلا دلیل ہے (تفصیل ،فتاویٰ الدین الخالص جلد اول،نیل الاوطارجلد اول)

حج․․․جامع العبادات

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بہت سی پرحکمت عبادات سے ایک پر حکمت عبادت حج بھی ہے. حج کے لغوی معنی ارادہ اور قصد کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ایسی عبادت ہے جو ہر سال ایک خاص لباس میں مخصوص دنوں میں مکہ مکرمہ، منیٰ،عرفات اور مزدلفہ کے مقام پر مخصوص ارکان کے ساتھ ادا کی جاتی ہے.

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، قرآن و حدیث کی روسے حج کی بہت زیادہ فضیلت ہے. قرآن مجید میں حج کو صاحب حیثیت انسان کے لئے فرض اور لازم قرار دیا گیا ہے. حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا”جس شخص نے ایسا حج کیا کہ اس میں گناہ اور بے حیائی کا کوئی عمل نہ کیا گیا ہو یو حج سے ایسے واپس لوٹے گا جیسے آج پیدا ہوا ہو“. یعنی اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ بالکل معصوم بچے کی طرح پاک وصاف ہوجائے گا. حج میں دونوں عبادات یعنی مالی اور بدنی عبادت کا اشتراک ہے. اس لئے فقہائے اُمت نے اس عبادت کا مشترک عبادت یا جامع العبادات بھی قرار دیا ہے. اس عبادت کی ادائیگی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنی عظیم فرمائی کہ اس میں ایک خاص لباس کی شرط عائد فرما دی تاکہ انسانی نقابل اور تفاخر کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں اور لوگ اس ایک طرز پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوجائیں جس طرح قیامت کے دن میدان حشرمیں تمام ارواح کا اجتماع عظیم ہوگا. حج کی مصلحتیں بے شمار اور اس کو فوائد ان گنت ہیں، سب سے بڑا اور عظیم نکتہ جس پر ادائیگی حج کے دوران زور دیا گیا ہے وہ توحید الہٰی کی درست شناخت ہے. حج ہر قسم کے شرک کی نفی کرتا ہے اور انسان کو خدائے وحدہ کی عبادت کا درس دیتا ہے، اگر چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو اسی توحید کے اندر خود انسانی شخصیت کی عظمت اور احترام کا راز پوشیدہ ہے. تاریخ کے ہر دور میں طاغوتی طاقتیں روپ بدل بدل کر اپنی پوجا کرواتی رہی ہیں اور انسانی شرف ووقار کو اپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی رہی ہیں، یہ بت کہیں ظالم اور جابر بادشاہوں اور شہنشاہوں کی شکل میں انسانیت پر مسلط ہوئے کہیں وطن پرستی اور نسل پرستی کے تعصبانہ جذبے کا روپ دھار کر ظاہر ہوئے، موجودہ زمانے میں اس طاغوتی وشیطانی روح نے استکباری طاقتوں کی اجتماعی شکل میں جنم لیا ہے. مادی طاقت کے بل بوتے پر سیاسی ریشہ دوانیوں کے سہارے نام نہاد سپر طاقتوں نے دنیا کی کمزور اور پسماندہ اقوام کو اپنے پنجے میں دبوچ کر انہیں سیاسی اور معاشی مقاصد کے حصول کے لئے اپنا آلہ کار بنا رکھا ہے. آج دنیا بھر میں بہت سی بے بس اقوام کے معاشی وسائل اور قدرتی ذرائع استعماری قوموں کے مفاد میں بے دریغ استعمال ہورہے ہیں. توحیدپرست، ملت مسلمان کو حج کی عظیم الشان عبادت سے ان استعماروں قوتوں کی سر کوبی کا سبق از سر نو پڑھ کر وقت حاضر کے ان بتوں کو پاش پاش کر دینا چاہیے تاکہ کروڑوں بند گان خدا کو سیاسی غلامی اور معاشی استحصال سے نجات حاصل ہوسکے. حج کی دوسری بڑی تعلیم یہ ہے کہ حج صحیح معنوں میں انسانوں کے درمیان سے ہر قسم کی تفریق مٹا کر انہیں یگانگت کی ایک لڑی میں پروتا ہے. دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمان جو مختلف لباس اور وضع قطع رکھتے ہیں مگر بیت اللہ کی حدود میں قدم رکھتے ہی اس سلے کپڑے کا ایک سادہ لباس زیب تن کر لیتے ہیں اور اس طرح انسانوں کے درمیان تفریق وامتیاز کی تمام خود ساختہ دیواریں گرادیتے ہیں اور اتحاد بین المسلمین کی لڑی میں منسلک ہوجاتے ہیں. صحن کعبہ میں انسانوں کا یہ سمندر ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرتا ہو اسلامی اتحاد کا ایک ایسا روح پرور نظارہ پیش کرتا ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی . حج کے عظیم الشان اجتماع کے ذریعے اسلامی معاشرہ کے افراد کو جو اہم ترین ثمرہ ہر سال حاصل ہوتا ہے، اگر اسے ہم مختصر جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہیں گے کہ زائرین بیت اللہ شریف میں حج کے موقع پر جو اعمال اور مناسک بجالاتے ہیں اور اس موقع پر جن اخلاقی اقدار کو وہ عملی جامہ پہناتے ہیں اور اس موقع پر جن اخلاقی اقدار کو وہ عملی جامہ پہناتے ہیں. فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد ان تمام امور کو زائرین بیت اللہ تا عمر فراموش نہیں کرپاتے بلکہ حج کے بعد جب وہ اپنے اپنے ملک میں واپس پہنچتے ہیں تب بھی انہی اعمال کو اپنانے کی کوشش اور سعی کرتے ہیں تاکہ اس طرح ان کے اعمال و اقدار کا اثرو نفوذ ہمیشہ کے لئے ان کی زندگیوں میں جاری و ساری رہ سکے، چنانچہ فطری امر ہے کہ حج کو اگر اس کی حقیقی روح اور فلسفہ کے عین مطابق اسلامی معاشرہ کے افراد کی انسانی اور اسلامی شخصیت کو سنوارنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا جائے تو پھر اسلامی معاشرے میں مکمل طور پر اس عظیم عبادت کے گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہوسکتے ہیں،ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حج کے حقیقی مقاصد کو ضائع نہ ہونے دے،نیز اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھے کہ یہ فریضہ کسی حالت میں بھی اپنے حقیقی خدوخال سے محروم نہ ہونے پائے کیونکہ حج کو اس کی اصل راہ سے منحرف کرنا یااسے اس کے حقیقی مقام ومنزلت سے محروم کر دینا اسلام کی بنیادی تعلیمات اور فلسفہ سے انحراف کے مترادف ہے. حج اسلامی معاشرے کی تعمیروترقی میں جو بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے ، اس کے بجائے حج کو محض ایک ایسے فریضہ کی شکل دینا جس کے اعمال کا کوئی مقصد ہی نہ ہو بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم آج کل عصر حاضر میں دیکھ رہے ہیں کہ ہرسال دنیائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد فریضہ حج ادا کرنے کے لئے عازم مکہ ہوتی ہے لیکن یہ حج کسی طرح بھی ان کی سیاسی ، ثقافتی ، اقتصادی اور اخلاقی زندگی میں تبدیل پیدا نہیں کر پاتا…

دیسی لڑکے کو اس کی بیوی اور ساس نے گوری کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑلیا، پھر کیا ہوا؟ دیکھ کر ہر مرد توبہ کرلے

برطانیہ میں ایک دیسی خاتون نے اپنے شوہر کو گوری کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور پھر اس نے جو کیا، اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ شخص برطانوی شہر ولنگبورو کا رہائشی اور دو بچوں کا باپ ہے۔

اس نے اپنی گرل فرینڈ کو ساتھ لیا اور ولنگبورو سے 150میل دور ’ڈوور‘ کے ساحل پرچھٹیاں منانے چلا گیا جہاں انہوں نے پریمیئر ان نامی ہوٹل میں کمرہ لے رکھا تھا جبکہ ایسے میں اس کی بیوی گھر میں اس کے دو بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ تاہم اس کی بیوی کو شک تھا کہ اس کے شوہر کے کسی اور خاتون کے ساتھ تعلقات ہیں۔

جب وہ بہانہ کرکے کئی دن کے لیے گھر سے گیا تو بیوی نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر اس کا سراغ لگانا شروع کر دیا اور بالآخر وہ بھی ڈیڑھ سو میل سفر کرکے ان دونوں کے پیچھے ”ڈوور“ پہنچ گئیں۔

وہاں انہوں نے پریمیئر ان کے منیجر کو شوہر کا نام بتایا تو اس نے بتا دیا کہ یہ شخص ایک لڑکی کے ساتھ یہاں ٹھہرا ہوا ہے اوروہ اس وقت باہر ساحل کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ ماں بیٹی وہاں سے سیدھی ساحل پر گئیں جہاں یہ دونوں انہیں مل گئے۔خاتون نے پہلے تو اپنے شوہر کو سخت لعن طعن کی اور پھر اسے کہا کہ ”اب رہو اسی لڑکی کے ساتھ۔“ یہ کہہ کر وہ اپنی ماں کے ساتھ واپس آ گئی۔

اس خاتون کی ماں نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنائی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی جسے اب تک 1لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کی ماں اس لڑکی سے بھی پوچھتی ہے کہ ”سچ سچ بتا دو، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔“

اس پر لڑکی رونے لگتی ہے اور کہتی ہے کہ ’تم لڑکے سے ہی بات کرو۔‘ دونوں ماں بیٹی اس لڑکی کو مزید کچھ بھی نہیں کہتیں ۔ لڑکا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی بیوی کو صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ ”میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے، اب تم اسی لڑکی کے ساتھ ہی رہو گے۔“ یہ کہہ کر وہ اپنی ماں کے ساتھ وہاں سے روانہ ہو جاتی ہے۔

آپکے پسندیدہ کرکٹرز اور اداکاروں نے اپنے سے کتنی کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کی؟

یا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپکے پسندیدہ کرکٹرز اور اداکاروں نے اپنے سے کتنی کم عمر کی لڑکیوں سے شادی کی؟ پوسٹ پڑھیں

پاکستانی کی معروف شخصیات اور ان کی شریک حیات کی عمروں کے بارےمیں کم لو گ ہی جانتے ہیں ۔ لیکن آج ہم آپکو کو بتاتے ہیں کون سے معروف شخصیت کی عمر اس کی شریک حیات سے زیادہ یا کم ہے .

۔فلم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے مشہور جوڑے صائمہ اور سید نور کی عمر کا فرق بھی کافی زیادہ ہے۔ فلم ڈائریکٹر سید نور 66 برس کے ہو چکے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ صائمہ کی عمر 50 سال ہے۔

۔ کرکٹ کی دنیا کے عالمی شہرت یافتہ سپر سٹار وسیم اکرم اور ان کی آسٹریلوی بیگم شنیرا اکرم، جو اب پاکستانی ہو چکی ہیں، بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ وسیم اکرم کی عمر 51 سال جبکہ ان کی اہلیہ شنیرا کی عمر 34 سال ہے ۔

۔شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والا ایک اور مشہور جوڑا دانش تیمور اور عائزہ خان ہیں۔ دانش کی عمر 34 سال جبکہ ان کی اہلیہ عائزہ کی عمر 26 سال ہے ۔

۔اسی طرح موسیقار اور شاعر گوہر ممتاز کی عمر 36 سال ہے لیکن ان کی اہلیہ مشہور ماڈل انعم احمد کی عمر صرف 23 سال ہے.

۔کرکٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور سپر سٹار شعیب اختر ہیں جن کی عمر 41 سال ہے جبکہ ان کی اہلیہ رباب خان ان سے 20 سال چھوٹی ہیں، یعنی ان کی عمر 21 سال ہے ۔

۔اداکار فرحان سعید اور مشہور اداکارہ و ماڈل عروہ حسین بھی ایک اور ایسا مشہور جوڑا ہیں جن کی عمروں میں واضح فرق ہے۔ فرحان 33 سال کے ہیں جبکہ عروہ کی عمر صرف 26 سال ہے ۔