’’ اب ہر شہری کیلئے انٹرنیٹ بالکل فری، پاکستان کی مشہور کمپنی نے زبردست اعلان کر دیا

پاکستان کی معروف موبائل فون کمپنی موبی لنک نے صارفین کیلئے انٹرنیٹ بالکل فری کر دیا ہے۔ موبی لنک پاکستان میں صارفین کو مفت انٹرنیٹ فراہم کرنے والی پہلی ٹیلی کام کمپنی بن گئی ہے۔ موبی لنک کی جانب سے صارفین موبی لنک کی جانب سے اپنے صارفین کیلئے مفت انٹرنیٹ کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے۔

موبی لنک اور مشہورآئی ٹی کمپنی وی کام کے درمیان اس سلسلے میں لاہور میں ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔معاہدے کے تحت موبی لنک کے صارفین بنا بیلنس کے بھی انٹرنیٹ کی سہولت استعمال کر سکیں گے۔

اس کیلئے بس صارفین کو مفت اںٹرنیٹ کی سہولت کے استعمال کیلئے وی کام کی موبائل ایپ اپنے موبائلز میں انسٹال کرنا ہوگی۔ جبکہ یہ سہولت دوسری کمپنیوں کے صارفین کو بھی حاصل ہوگی۔

مشہور زمانہ موبائل کمپنی ایپل نے 2 نئے موبائل فونز لانچ کرنے کا اعلان کردیا قیمت اتنی کم کہ ہر پاکستانی خریدنے پر مجبور ہو جائے گا

مشہور زمانہ موبائل کمپنی ایپل نے 2 نئے موبائل فونز لانچ کرنے
کا اعلان کردیا قیمت اتنی کم کہ ہر پاکستانی خریدنے پر مجبور ہو جائے گا

مشہور زمانہ موبائل کمپنی ایپل نے 2 نئے موبائل فونز لانچ کرنے
کا اعلان کردیا قیمت اتنی کم کہ ہر پاکستانی خریدنے پر مجبور ہو جائے گا

دبئی  (مانیٹرنگ ڈیسک)  ایپل کمپنی نے رواں برس آئی فون کے تین ماڈل متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے فیچرز کی بدولت تینوں ماڈل عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کرینگے ۔ تفصیلات کے مطابق ایپل کمپنی نے رواں برس آئی فون کے تین ماڈؒل متعارف کرانےکا اعلان کر دیا ہے ،

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئی فون کے تینوں ماڈل لوگوں کو پسند آئیں گے ۔ پہلی مرتبہ نئے آئی فون کی سکرین کا سائز 6.1 انچ رکھنے کی پلاننگ کی گئی ہے ، آئی فون 8 اور 8 پلس دیگر آئ  فون سے تھوڑا مہنگا ہوگا ، اندازے کے مطابق اس کی قیمت 699 ڈالر بتائی گئی ہے۔

ٹویوٹا نے اپنی زبردست گاڑی پاکستان میں متعارف کروا دی، نئی گاڑی کی قیمت کیا ہے اور فیچرز کیا ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر

ٹویوٹا نے اپنی زبردست گاڑی پاکستان میں متعارف کروا دی، نئی گاڑی کی قیمت کیا ہے اور فیچرز کیا ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر

ٹویوٹا نے اپنی زبردست گاڑی پاکستان میں متعارف کروا دی، نئی گاڑی کی قیمت کیا ہے اور فیچرز کیا ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ٹویوٹا کمپنی نے اپنی نئی ڈبل کیبن گاڑی ہیلکس ریوو 2018 متعارف کرا دی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق انڈس موٹرز نے اس ماڈل کو پہلے سے زیادہ بہتر کرکے پیش کیا ہے اور اس کے سابق ماڈلز کی بکنگ بھی بند کر دی گئی ہے، اس گاڑی میں انجن مزید اچھا کیا گیا ہے اب انجن 3.0L ٹربو کی بجائے 2.8L ڈیزل ہوگا۔ اس انجن کے ساتھ یہ گاڑی 2755 سی سی ہوگیاور اس کا فور سلینڈر ٹربو چارج انجن ایک انٹرکولر کے ساتھ ہے۔ اس انجن کی  موٹر 175 ہارس پاور کی طاقت کی حامل ہے اس کے علاوہ سکس سپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن یا سکس سپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن بھی اس میں موجود ہیں۔

اس کی بیرونی باڈی کا ڈیزائن گزشتہ سال کی نسبت زیادہ تبدیل نہیں کیا گیا لیکن اس کے بمپر کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اور ہیڈ لائٹس کو بھی ایل ای ڈی سے بدلا گیا ہے۔ اس گاڑی کے اندر پش سٹارٹ بٹن، ٹچ سکرین ایل سی ڈی، ڈاؤن ہل اسسٹ کنٹرول، موبائل فون کنکٹیویٹی، کی لیس انٹری، ایڈجسٹ ایبل اسٹیئرنگ وہیل، کروز کنٹرول، آواز کی شناخت کرنے والا سسٹم، ٹرپ کمپیوٹر، پاور سٹیئرنگ جیسے فیچرز اس گاڑی میں موجود ہیں، اس گاڑی کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی ہر قسم کے راستوں کے لیے بہترین ہے، ہیلکس ریو 2018 پہلے کے ماڈلز کی نسبت زیادہ سٹائلش، طاقتور اور بہترین لُک کی گاڑی ہے۔

مسافروں کی حفاظت کے لیے کمپنی نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس میں اینٹی لاک بریکنگ سسٹم، الیکٹرونک بریک ڈسٹری بیوشن اور بریک اسسٹ کے علاوہ ائیر بیگز بھی اس گاڑی کا حصہ ہیں اور بچوں کے لیے یونیورسل چائلد ریسٹرینٹ سسٹم بھی اس گاڑی میں رکھا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس گاڑی کی قیمت 22 لاکھ 19 ہزار سے 46 لاکھ 49 ہزار روپے تک ہے جو کہ مختلف ورژن کی ہے، اس گاڑی کے ورژن میں ہیلکس ڈیک لیس فور بائی ٹو، سنگل کیبن اسٹینڈرڈ، ہیلکس سنگل کیبن فور بائی ٹو اپ سپیسز، ہیلکس 4×4 سنگل کیبن، ڈبل کیبن اسٹینڈرڈ، ریوو جی ایم ٹی ڈبل کیبن فور بائی فور، ریوو جی اے ٹی، ریوو وی اے ٹی شامل ہیں اور ان تمام ورژن کی قیمتیں مختلف ہیں۔

مشہور زمانہ موبائل کمپنی نے نئے موبائل متعارف کروادیے قیمت اتنی کم اور خصوصیات اتنی زیادہ کہ پاکستانیوں کی موجیں لگ گئیں

مشہور زمانہ موبائل کمپنی نے نئے موبائل متعارف کروادیے قیمت اتنی کم اور خصوصیات اتنی زیادہ کہ پاکستانیوں کی موجیں لگ گئیں

مشہور زمانہ موبائل کمپنی نے نئے موبائل متعارف کروادیے قیمت اتنی کم اور خصوصیات اتنی زیادہ کہ پاکستانیوں کی موجیں لگ گئیں

جنوبی کوریا (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی کورین کمپنی ’ایل جی‘ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ وہ رواں برس اپنا نیا فلیگ شپ موبائل فون متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اطلاعات تھیں کہ کمپنی اپنے آنے والے موبائل کو ’ایل جی 7‘ کا نام دے گی، تاہم اب اس کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق کمپنی نے موبائل پر پہلی بار ’خاتون‘ کا نام رکھا ہے۔ ٹیکنالوجی نشریاتی ادارے ’وینچر بیٹ‘ کے مطابق ایل جی رواں برس جون میں اپنا نیا فلیگ شپ اسمارٹ فون متعارف کرائے گا۔جسے ’جڈی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

’ایل جی جڈی‘ کی خاص  بات یہ ہے کہ اس موبائل پر پہلی بار مکمل طور پر خاتون کا نام رکھا گیا ہے، جب کہ پہلی بار اس موبائل میں ڈسپلے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ایل جی کے نئے اسمارٹ موبائل کی تصاویر لیک اطلاعات کے مطابق ایل جی نے اپنے نئے فلیگ شپ فون کی ڈسپلے کے لیے ’ایم ایل سی ڈی‘ نامی نئی پینل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے،

جو اسکرین کے ریزولیشن کو بہتر بنانے سمیت رنگوں کو مزید نکھارتی اور تصاویر کا رزلٹ بہتر بنانے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ’ایل جی جڈی‘ کی اسکرین 1۔6 انچ کی ہوگی، جب کہ اس کی اسکرین میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث یہ انتہائی کم بجلی خرچ کرے گی۔ ’ایل جی جڈی‘ میں 845 کوالکوم اسنیپ ڈریگن دیا گیا ہے، جب کہ اس میں 4 جی بی ریم ہے، لیکن اس کی اسٹوریج کی صلاحیت 64 جی بی تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

ایل جی کا سب سے ‘بہترین’ اسمارٹ فون وی 30 ڈوئل ریئر کیمرے کے حامل اس فلیگ شپ کا مین کیمرہ 16 میگا پکسل ہے، جب کہ اس میں آپریچر اور سینسر لینسز کے فیچرز بھی دیے گئے ہیں۔ اس فون میں ایل جی نے وائرلیس چارجنگ کا فیچر بھی دیا ہے، جس وجہ سے اس فون کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر اس موبائل کی قیمت سامنے نہیں آسکی، تاہم اندازہ ہے کہ یہ سام سنگ کے ایس نائن اور ایس نائن پلس سے کم قیمت ہوگا۔

فیس بک صارفین کے کام کی خبر : کون کون آپ کے فیس بک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہاہے، پوک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ ایسی معلومات جو آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہیں

فیس بک صارفین کے کام کی خبر : کون کون آپ کے فیس بک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہاہے، پوک کرنے کا کیا مطلب
ہے ؟ ایسی معلومات جو آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہیں

فیس بک صارفین کے کام کی خبر : کون کون آپ کے فیس بک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہاہے، پوک کرنے کا کیا مطلب
ہے ؟ ایسی معلومات جو آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہیں

فیس بک صارفین کے کام کی خبر : کون کون آپ کے فیس بک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر رہاہے، پوک کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ ایسی معلومات جو آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہیںلاہور (ویب ڈیسک )فیس بک اپنے دوستوں اور خاندان سے رابطے میں رہنے کے لیے بہترین ویب سائٹ ہے۔

ویسے تو اس کا استعمال مفت ہے مگر پھر بھی آپ کو اس کی ایک قیمت دینا پڑتی ہے۔جی ہاں اگر آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں تو اپنے بارے میں بہت زیادہ معلومات اس سائٹ کو دینا ہوتی ہے اور بیشتر کمپنیاں اس کی بنیاد پر آپ پر نظر رکھتی ہیں۔بیشتر افراد فیس بک پر کسی ایپ کو ڈاﺅن لوڈ یا کسی ویب سائٹ پر سائن ان ہونے کو بھول جاتے ہیں مگر اس طرح وہ مختلف کمپنیوں اور اداروں کو اپنی فیس بک پروفائل دیکھنے کا موقع دے رہے ہوتے ہیں۔

لوگوں کی پروفائل میں اکثر ای میل ایڈریسز اور فون نمبر کے ساتھ ساتھ ملازمت کی تاریخ اور موجودہ لوکیشن بھی ہوتی ہے اور صارفین کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اگر آپ دوستوں کے ساتھ یہ ڈیٹا شیئر کررہے ہیں تو وہ لوگ جو ایپس استعمال کرتے ہیں وہ بھی یہ ڈیٹا دیکھ سکتی ہیں۔فیس بک میں ہی ایک فیچر چھپا ہے جس سے آپ اشتہارات سے کافی حد تک نجات پاسکتے ہیں۔سب سے پہلے اپنی فیس بک سیٹنگز میں جائیں اور وہاں بائیں جانب نیچے ایڈ کے آپشن پر کلک کریں۔ اب وہاں سے پہلے آپشن ‘ایڈ بیسڈ آن مائی یوز آف ویب سائٹس اینڈ ایپس (Ads based on my use of websites and apps)’ پر یس کی جگہ آف کو کلک کریں۔

اس کے بعد دوسرے نمبر پر موجود آپشن ‘ ایڈ ود مائی سوشل ایکشن (Ads with my social actions)’ کو فرینڈز سے ہٹا کر نو ون (no one) پر کردیں۔ تاہم چند ماہ بعد آپ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں یہ کیٹیگریز پھر سے بن جائیں گی یا بھر جائیں گی تو آپ کو انہیں دوبارہ ڈیلیٹ کرنا ہوگا۔

یہ تو ایک مرحلہ تھا تاہم فیس بک نے حال ہی میں نئی سیٹنگز متعارف کرائی ہیں جس سے آپ کمپنیوں سے مکمل نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو آپ سیٹنگز میں جاکر بائیں جانب موجود ایڈز پر کلک کریں۔

وہاں Ads with my social actions میں ایڈٹ کے بٹن پر کلک کریں جہاں معلوم ہوگا کہ کس طرح آپ کی فیس بک آئی ڈی اشتہارات میں استعمال ہوتی ہے جسے دوسرے افراد بھی دیکھ سکتے ہیں تو آپ کو وہاں اونلی مائی فرینڈز کی بجائے نو ون کے آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اس کے بعد اوپر موجود یور انفارمیشن کے بٹن پر کلک کریں۔

آپ دیکھ کر حیران ہوجائیں گے کہ آپ نے اپنی کتنی معلومات فیس بک کو دے رکھی ہے اور اس کی مدد سے کمپنیاں کس طرح آپ کی پسند ناپسند کا اندازہ لگا سکتی ہیں۔ وہاں آپ ہر ٹیب کو ڈیلیٹ کرسکتے ہیں تاکہ آپ کے ذاتی معلومات دیگر تک نہ پہنچ سکے۔ (ن)

ایپل کے شیدائی ہوشیار ہو جائیں

 ایپل کمپنی سے کون واقف نہیں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ وہ خود اپنے فونز کے پرانے ماڈلز کو سست کرتا ہے. امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایپل کے صارفین کا یہ خدشہ اب سچ ثابت ہوگیا ہے کہ کمپنی خود ہی پرانے ماڈلز کو سست کردیتی ہے.

حالیہ دنوں میں متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ ان کے آئی فونز نئی اپ ڈیٹس انسٹال ہونے کے بعد سست ہوگئے ہیں جس پر اب ایپل کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا ہے. ایپل کے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کمپنی نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے پرانے آئی فونز کی کارکردگی کو محدود کیا. کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ پرانے آئی فونز کو اچانک شٹ ڈاؤن ہوجانے کے مسئلے سے بچایا جاسکے.

خیال رہے کہ ٹیکنالوجی ماہرین اور صارفین کی جانب سے مسلسل یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ جب انہوں نے اپنے آئی فونز میں آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ کیا تو ان کی کارکردگی میں نمایاں کمی آیا اور وہ سست بھی ہوگئے. بعض صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایپل ایسا جان بوجھ کر کرتا ہے تاکہ لوگ پرانے آئی فونز کو ترک کرکے نئے ماڈلز خریدیں.

تاہم اب ایپل کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اس نے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے پرانے آئی فونز کی کارکردگی کو محدود کیا ہے جس کی وجہ سے فونز سست بھی ہوگئے ہیں لیکن اس کے پیچھے کمپنی کا مقصد نئے فونز بیچنا نہیں بلکہ پرانے آئی فونز کو اچانک شٹ ڈاؤن ہوجانے کے مسئلے سے بچانا ہے. کمپنی کا کہنا ہے کہ آئی فون 6، آئی فون 6 ایس، آئی فون ایس ای اور آئی فون 7 کے لیے ڈیزائن کیے گئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس بیٹری کی زیادہ طلب کو کم کرتے،

فون کو شٹ ڈاؤن سے بچاتے اور بیٹری کی لائف کو بڑھاتے ہیں. کمپنی کے مطابق ان اپ ڈیٹس کی وجہ سے فون کی اسپیڈ میں نمایاں کمی بھی ہوتی ہے. ایپل کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی یہ فیچر دیگر پروڈکٹس میں استعمال کرتا رہے گا جبکہ اس اعتراف کے بعد ایپل کے صارفین میں بے چینی بڑھ گئی ہے

اور کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں آئی فونز کے بجائے سام سنگ یا کوئی اور اسمارٹ فون خریدنا پسند کریں گے. ایک ٹوئٹر صارف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’اب چونکہ ایپل نے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ پرانے آئی فونز کو جان بوجھ کر سست کرتا ہے، میں بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ آئندہ آئی فون نہیں خریدوں گا‘‘ ہمارا فیس بک پیج لائیک کرنا نہ بھولئیے

یوٹیوب کی ویڈیوز اب بغیر انٹرنیٹ کے دیکھے

گزشتہ سال یوٹیوب نے ایک ایپ متعارف کرائی جس کا مقصد انٹرنیٹ کی خراب صورتحا ل میں بی کام چلانا تھا ۔

لیکن اس بار اس ایپ کو دنیا کے تمام ممالک میں لانچ کر دیا گیا ہے ۔

گوگل کا ارادہ تھا کہ اس ایپ کو 2016 میں لانچ کیا جائے لیکن کچھ وجوہات کے بنا پر اس کو لانچ نہیں کیا گیا بلکہ اس کا بیٹا ورزن متعارف کرایا گیا ۔

2018 میں گوگل نے اس کا اوریجنل ورزن لانچ کیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ کے صارفین کے ڈیٹا کو کم سے کم کرنا اور خراب نیٹ کی صورت میں بھی اس کے استعمال کو بہتر بنانا ہے ۔

گوگل کی جانب سے اس ایپ کو سامنے لانے کا مقصد اپنے حریفوں جیسے فیس بک کو ٹکر دینا ہے کیونکہ دونوں پر ہی اربوں افراد ویڈیوز دیکھتے ہیں اور اب یہ دونوں کمپنیاں موبائل انٹرنیٹ والے نئے صارفین چاہتے ہیں جو ڈیٹا پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پسند نہیں کرتے۔

ویسے اس ایپ کو متعارف کرانے کا اعلان گوگل نے ستمبر 2016 میں کیا تھا تاہم اپریل 2017 میں اس کا بیٹا ورژن سامنے آیا تھا اور اب لگتا ہے کہ اس کا حتمی ورژن پیش کیا جارہا ہے۔

مشہور زمانہ موبائل کمپنی نے سام سنگ اور ایپل کو پیچھے چھوڑ دیا قیمت اتنی کم کہ صارفین کی دوڑیں لگ گئیں

چین (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی کمپنی ویوو نے دنیا کا پہلا ڈسپلے کے اندر فنگرپرنٹ سنسر کی صلاحیت رکھنے والے موبائل فون متعارف کرادیا۔ ایکس 20 پلس نامی یہ فلیگ شپ فون بیجنگ میں ایک ایونٹ کے دوران متعارف کرایا گیا۔ خیال رہے کہ ویوو وہ کمپنی ہے جس کی ملکیت میں اوپو اور ون پلس بھی شامل ہیں اور اسے اب ڈسپلے میں نصب فنگرپرنٹ سنسر والے پہلے فون کو متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔

اس فون کے لیے ویوو اور امریکی کمپنی Synaptics نے اشتراک کیا تھا اور اسکا پروٹوٹائپ رواں ماہ کے شروع میں لاس ویگاس میں ہونے والے کنزیومر الیکٹرونکس شو کے دوران رکھا گیا تھا۔ مزید پڑھیں: دنیا کا پہلا ہولو گرافک فون بہت جلد ہوگا دستیاب بیزل لیس فونز کی بھرمار کے بعد ڈسپلے کے اندر فنگرپرنٹ سنسر پر مبنی ٹیکنالوجی کی تیاری سام سنگ، ایپل، ایل جی سمیت دیگر کمپنیاں بھی کررہی ہیں مگر انہیں اب تک ناکامی کا سامنا ہوا ہے۔

ایپل نے اس ناکامی کے بعد آئی فون ایکس میں فیس آئی ڈی سسٹم دے کر فنگر پرنٹ کی تصدیق کے عمل سے ہی جان چھڑا لی تھی۔ یہ 6.43 انچ او ایل ای ڈی ڈسپلے والا فون ہے جس میں فنگرپرنٹ سنسر اسکرین کے اندر دیا گیا ہے اور زیرو اشاریہ سات سیکنڈ میں انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عام طور پر دیگر کمپنیوں کے فونز میں فنگر پرنٹ اسکینر ہوم بٹن کے اندر یا بیک پر دیا جاتا ہے مگر یہ پہلا فون ہے جس میں یہ اسکرین کے اندر دیا گیا ہے۔ویسے چینی کمپنی ایکس 20 پلس کے نام سے گزشتہ سال ستمبر میں بھی ایک فون پیش کرچکی ہے مگر اب اسے اپ ڈیٹ کرکے دوبارہ متعارف کرایا جارہا ہے۔

اس میں اسنیپ ڈراگون 660 پراسیسر، فور جی بی ریم، 128 جی بی اسٹوریج جبکہ بیک پر بارہ اور پانچ میگا پکسل کے ڈوئل کیمرہ سیٹ کے ساتھ ہے، فرنٹ پر بھی بارہ میگا پکسل کیمرہ دیا گیا ہے۔ یہ فون 624 ڈالرز کے عوض (لگ بھگ 70 ہزار پاکستانی روپے) میں آئندہ چند روز میں چین میں فروخت کیا جائے گا، تاہم دیگر ممالک کے حوالے سے کمپنی نے فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا۔

اگر آپ بھی سست رفتار انٹرنیٹ سے پریشان ہیں تو آپ کی مشکل کا حل یہاں موجود ہے

انٹرنیٹ براوزنگ کا مسلئہ تو پاکستان میں ایک عام مسلئہ بن چکا ہے ہر صارف اس سے پریشان نظر آتا ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ سال گوگل نے ایک نئی ایپ یوٹیوب گو متعارف کروائی تھی، جس کا مقصد خراب انٹرنیٹ سروس والے علاقوں میں صارفین کیلئے ویڈیوز کی بفرنگ یا دیگر مسائل کو دور کرنا تھا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس ایپ کو اب 130 سے زائد ممالک میں پیش کیا جارہا ہے۔

اسے ڈیزائن کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ نہ ہونے کے برابر انٹرنیٹ پر بھی یہ کام کرتی ہے اور کم ڈیٹا خرچ کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ نئی یوٹیوب ایپ صارفین کو ڈیٹا بچانے میں مدد دے گی اور ان کے موبائل کا بل کم رکھنے کے لیے ایسی ویڈیوز دیکھنے کا مشورہ بھی دے گی جو اس کے خیال میں لوگوں کو پسند آسکتی ہے۔گوگل کی جانب سے اس ایپ کو سامنے لانے کا مقصد اپنے حریفوں جیسے فیس بک کو ٹکر دینا ہے کیونکہ دونوں پر ہی اربوں افراد ویڈیوز دیکھتے ہیں

اور اب یہ دونوں کمپنیاں موبائل انٹرنیٹ والے نئے صارفین چاہتے ہیں جو ڈیٹا پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پسند نہیں کرتے۔ ویسے اس ایپ کو متعارف کرانے کا اعلان گوگل نے ستمبر 2016 میں کیا تھا تاہم اپریل 2017 میں اس کا بیٹا ورژن سامنے آیا تھا اور اب لگتا ہے کہ اس کا حتمی ورژن پیش کیا جارہا ہے۔ اس کا سب سے خاص فیچر ویڈیوز کو فون یا میموری کارڈ میں محفوظ کرنا ہے، جسے کسی بھی وقت دیکھا جاسکتا ہے۔

جن ویڈیوز کو محفوظ کیا جائے گا ان کے کوالٹی اور فائل سائز کے آپشنز بھی دیئے جائیں گے تاکہ کم از کم ڈیٹا خرچ ہو۔ اسی طرح ایک زبردست فیچر ایپ میں قریب موجود صارفین سے بغیر کسی ڈیٹا یا انٹرنیٹ استعمال کیے بغیر بلیوٹوتھ کے ذریعے لوکل شیئرنگ کا فیچر بھی موجود ہے جو واقعی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اس ایپ میں 720p یا اس سے زائد کی ویڈیوز سیو یا اسٹریم کرنے کا آپشن نہیں ہوگا بلکہ 144p سے 360p تک کا آپشن ہوگا۔ اس لنک پر یوٹیوب گو کو اینڈرائیڈ صارفین موبائل پر ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے اور اگر آپ کو ہماری پوسٹ پسند آئے تو شئیر کریں ۔

’واٹس ایپ پر یہ میسج آئے تو فوراً ڈیلیٹ کردیں‘ ماہرین نے وارننگ دے دی، بڑے نقصان کے بارے میں خبردار کردیا

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں استعمال ہونے والی مقبول ترین میسجنگ سروس ’واٹس ایپ‘ کے صارفین کو دھوکہ دے کر لوٹنے والے شعبدہ باز ایک بار پھر سرگرم ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ سروس دنیا بھر میں مفت دستیاب ہے لیکن اس کے باوجود کچھ جعلساز صارفین کو میسج بھیجتے ہیں کہ واٹس ایپ سروس کو جاری رکھنے کے لئے انہیں سبسکرپشن کی رقم ادا کرنی ہوگی اور اطلاعات ہیں کہ بڑے پیمانے پر واٹس ایپ صارفین اس فراڈ کا شکار ہورہے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق اس دھوکہ بازی کا اصل مقصد صارفین سے ادائیگی کے متعلق ذاتی نوعیت کی معلومات حاصل کرنا ہے جو بعد میں ان کے بینک اکاﺅنٹ خالی کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ صارفین کو ایک میسج بھیجا جاتا ہے جس میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی مفت سروس کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور اگر وہ مزید اس سروس کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں تو سبسکرپشن کی فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ میسج عموماً ان الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے ”آپ کی سبسکرپشن ایکسپائر ہوچکی ہے۔ اپنا اکاﺅنٹ ویری فائی کرنے کے لئے اور لائف ٹائم سبسکرپشن خریدنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔“

لنک پر کلک کرنے والے صارفین کو لائف ٹائم سبسکرپشن کے لئے پیمنٹ کی معلومات فراہم کرنے کو کہا جاتا ہے، جو بعدازاں مالی فراڈ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو کوئی ایسا میسج موصول ہو تو اسے فوری طور پر ڈیلیٹ کردیں۔ اگر آپ اس میں دئیے گئے لنک پر کلک کرچکے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کسی اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے ذریعے اپنے ڈیوائس پر ڈاﺅن لوڈ ہونے والے نقصان دہ سافٹ ویئر کا خاتمہ کریں۔