سیالکوٹ کے بگڑے رئیس زادے کی بارات ، 5ہزار کے نوٹوںکی بارش، نوٹ ہوا میں اڑتے دیکھ کر باراتی آپے سے باہر ہو گئے،بھیڑ اور بھگڈر ختم ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ۔

پنجاب میں شادیوں پرون ڈش کی پابندی تو عائد ہے تاہم نمود و نمائش اور ہلڑ بازی کے واقعات عام نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ سیالکوٹ میں پیش آیا جہاں ایک رئیس زادے کی شادی میں نمود و نمائش اور اوچھے پن کی تمام حدود کراس کی گئیں۔ رئیس زادے کی بارات نئے ماڈل کی لیموزین کار کے ہمراہ جب شادی ہال کے سامنے پہنچی تو بارات میں شامل نوجوانوں نےبارات میں آئیایک لینڈ کروزر پر

چڑھ کر 5، 5ہزار کے نوٹوں کی بارش کر دی۔ بیچ سڑک کے 5، 5ہزار کے ہوا میں اڑتے نوٹوں کو دیکھ کر لوگ بھی آپے سے باہر ہو گئے اور سڑک پر عجیب تماشہ لگ گیا، لوگوں کی ایک کثیر تعداد نوٹ لوٹنے کیلئے لینڈکروزر جو کہ سڑک کے بیچ کھڑی تھی کہ اردگرد جمع ہو گئے ۔ اس دوران نوٹ اس دوران نوٹ لوٹنے والے افراد گاڑیوں پر چڑھ گئے جس سے کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی پر ڈنٹ بھی پڑے ۔

شادی ہال کی پارکنگ میں موجود گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ رئیس زادے کی بارات میں موجود نوجوان نوٹوں کی گڈیاں ہوا میں پھینکتے رہے اور سڑک پر موجود لوگوں کا جم غفیر نوٹ لوٹتا رہا ۔ اس دوران نوٹ لوٹنے والی بھیڑ میں موجود لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے واقعات بھی پیش آئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خانپور میں دلہن کے شہر پہنچنے پر بارات میں ڈالرز اور ریالوں کی بارش کے ساتھ موبائل فون بھی پھینکے گئے تھے جس پر ایف بی آر نے نوٹس لیتے ہوئے دولہا ، دلہن اور ان کے اہل خانہ سے ان کے اثاثوں اور دولت کی تفصیلات طلب کر لی تھیں۔خانپور کی بارات کو پاکستان کی سب سے مہنگی بارات بھی کہا گیا تھا ۔ کئی منٹ تک ڈالروں اور ریالوں کی بارش نے پورے پاکستان کو ششدر اور حیران کر دیا تھا

تاہم سیالکوٹ میں ہونے والی اس شادی میں بھاری مالیت کے نوٹوں کی بارش نے بھی لوگوں کو حیران کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ کئی سوشل میڈیا صارفین اس کو نمود و نمائش کے ساتھ دولت کا بے جا اصراف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کر رہے ہیں

پاکستانی دولہا دلہن نے اپنی شادی کے تیسرے ہی دن وہ کام کرڈالا جس کا شادی شدہ جوڑے پوری زندگی خواب دیکھتے رہتے ہیں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شادی کے بعد ہنی مون کے لئے کسی تفریحی مقام پر جانا ہر جوڑے کا خواب ہوتا ہے۔ اکثر لوگ اس کے لئے بڑے شہروں کے مشہور مقامات کر رخ کرتے ہیں لیکن اس پاکستانی جوڑے کی مہم جوئی کا شوق دیکھئے کہ کوہ پیمائی کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں، اور وہ بھی شادی کے تیسرے ہی دن۔

ویب سائٹ Parhlo کے مطابق نئی زندگی کا آغاز کرتے ہی اس جوڑے نے اپنے سفری بیگ کندھوں پر لٹکائے اور پاکستان کے شمالی علاقے کے بلند و بالا برف سے ڈھکے پہاڑوں کی جانب نکل چکے ہیں۔ ان کی پہلی منزل جنت نظیر وادی ہنزہ تھی جہاں سے یہ آگے مزید دشوار گزار مگر انتہائی خوبصورت پہاڑوں کا رخ کریں گے۔

نیا نویلا دولہا شامخ ابرار ویڈیو گرافی میں بھی مہارت رکھتا ہے اور یہی تو وجہ ہے کہ اس مہم جوئی کے دوران بنائی گئی ان کی تصاویر ایسی خوبصورت ہیں کہ جنہیں دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ پر اس مہم جوئی کے ہر لمحے کی تصاویر پوسٹ کی ہیں جنہیں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین دیکھ اور پسند کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جوڑے نے انہیں بھی ہنی مون کا نیا آئیڈیا دے دیا ہے جسے وہ ضرور آزمانا چاہیں گے۔

دو دن تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ !! پاکستان حکومت کے شاندار اعلان نے سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کی موجیں لگا دیں

لاہور: متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کی تیاریاں شروع کی ہوئیں مال روڈ سے ملحقہ تعلیمی اداروں میں ٹریفک کا شدید دباؤ آج سے ہی شروع ہو گیا۔ طلبہ و طالبات کو گھروں میں جانے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم حکومت نے مال روڈ پر احتجاج کے باعث ملحقہ علاقوں میں بدھ اور جمعرات کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

گورنمنٹ  گورنر ہاؤس بوائز ہائی اسکول ، گورنمنٹ گورنر ہاؤس گرلز ہائی اسکول، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول خرانہ گیٹ ، گورنمنٹ فاطمہ گرلز ہائی اسکول فین روڈ، گورنمنٹ نیپئر روڈ ہائی اسکول ، گورنمنٹ ہائی اسکول شاہراہ ایوان تجارت، اسلامیہ ہائی سکول خزانہ گیٹ ، مسلم ماڈل، سنٹرل ماڈل اور سلیم ماڈل بند رہیں گے۔

پاکستانی دولہا کی اپنی شادی کی تقریب میں ایسی ناقابل یقین انٹری کہ دنیا میں دھوم مچ گئی، معروف ریسلرز بھی اس پر تبصرے کرنے لگے

شادی کا دن ہرکسی کیلئے یادگار ہوتاہے ،اس موقع کوزیادہ سے زیادہ خوشگوار بنانے اور سب کی توجہ کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات پوری کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے ، ایسا ہی کچھ لاہور میں ایک شہری نے گزشتہ سال کیا تھا جو ڈبلیوڈبلیو ای کے ریسلرٹرپل ایچ سے اتنا متاثر تھا کہ شادی کے فنکشن میں بھی ایسی انٹری دے ڈالی جیسی ٹرپل ایچ رنگ میں دیتے ہیں۔

ٹرپل ایچ کا تاثر دینے کی کوشش میں شادی کے شرکاءکی تالیوں کی گونج میں دولہا سرخ قالین پر ہیوی ویٹ چیمپئن شپ بیلٹ کندھوں پر لٹکائے داخل ہوا جبکہ پس منظر میں کسی رومانوی میوزک کی بجائے ’ یہ وقت گیم کھیلنے کا ہے‘( its time to play the game ) کی دھنیں سنائی دے رہی تھیں۔ دولہے کی اس اینٹری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور خبروں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔

گزشتہ سال مارچ میں ہونے والی اس شادی کے بعد جیسے یہ ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے اور لوگ اپنے پسندیدہ ریسلرز کے سٹائل میں شادی ہال میں انٹری دینے لگے ہیں۔ اب کی بار ایک پاکستانی دولہا نے معروف ریسلر انڈر ٹیکر کے روپ میں اپنی شادی کی تقریب میں آ کر سب کو حیران کردیا، دیکھتے ہی دیکھتے ان صاحب کی ویڈیو بھی دنیا بھر میں مقبول ہو گئی۔

پاکستان کا ایسا گائوں جو جہاں 1937سے آج تک کوئی جرم نہیں ہوا ۔۔ چھوٹی سے چھوٹی دوکان کا مالک بھی کس قدر تعلیم یافتہ ہے اور گائوں کا نام کیا ہے ؟

لاہور(مانیترنگ ڈیسک)پاکستان میں 1937میں قائم ہونے والے رسول پور قصبے نے پورے پاکستانیوں کے لئے ایسی مثال قائم کر دی جسکی مثال کہیں نہیں ملتی اس علاقے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ علاقہ ہر قسم کے جرائم سے پاک ہے ۔

تفصیلات کے مطابق قصبے کے رہائشیوں نے اس علاقے کو دوسروں کے لئے ماڈل بنا دیا ہے اس گاؤں کے بیشتر افراد تعلیم یا فتہ ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنی خدمات کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور اس گاؤں کی دوکانوں پر پان اور سگریٹ کا نام و نشان تک نہیں ملے گا اور چھوٹی سے چھوٹی دوکان پر بھی تعلیم یافتہ شخص بیٹھا ہوا ہے ۔

گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس گاؤں کے کسی افراد پر بھی 50سال سے کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا کیونکہ جہاں پر جرائم کی شرح صفر ہے اور قتل و غاری ،زیادتی جیسے واقعا ت کا تو اس علاقے میں تصور بھی نہیں کیا جاتا ،چھوٹے مسائل کو لوگ باہم اشتراک داری سے حل کر لیتے ہیں اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی دے کر مثال بننا چاہتے ہیں ۔

اس پاکستانی نے اپنے گاؤں کو بدل ڈالا لیکن کیسے

کمپیوٹر سائنس  سرگودھا یونیورسٹی کے ایک طالب علم جس کا تعلق ناروال کے ایک گاؤں سے ہے ، نے مقامی  لوگوں  کو انٹرنیٹ  سے  متعارف کروا کے تعلیم کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔

طالب علم وسیم کا کہنا تھا کہ جب میں یونیورسٹی آف سرگودھا  میں داخلہ لیا تو مجھے معلوم ہوا کہ دنیا یکسر بدل گئی ہے اور گاوں کے ماحول سے بے حد مختلف ہے  ، میں نے اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اپنے  گاؤں میں جا کر اپنے لوگوں  کی مدد کا فیصلہ کیا ۔وسیم کو اپنا سفر شروع کرنے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان مسائل میں کم شرح خواندگی، جدید اطلاعات تک رسائی  کا نہ ہونا  اور ٹیکنالوجی کی کمی  بنیادی  مسائل تھے۔

قصبے کے افراد کا بنیادی  معاش زراعت تھا ،  جس کے لئے پرانے طریقے استعمال کئے جاتے تھے ، اسی وجہ سے لوگ تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے زراعت کو ہی ترجیح دیتے تھے۔ وسیم نے امام مسجد کو ساتھ ملا کر اپنے کام کو شروع کیا

مولوی عبد المجید کو اکثر فنڈ کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، ان کا شکوہ تھا کہ سرتوڑ کوششوں کے باوجود مسجد کے لئے فنڈز جمع کرنا بہت مشکل ہیں، وسیم نے یہاں پر سب سے پہلے کام کرنے موقع ہاتھ آیا اس نے مولانا کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرایا ، اس نے امام مسجد کو بتایا کہ کس طرح ایک سمارٹ فون انسانی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے۔

سمارٹ فون کی مدد سے گاؤں  کے ان افراد سے رابطہ ممکن ہے جو بیرون ملک روزگار کر رہے ہیں ۔امام مسجد ان کی باتوں سے متاثر ہوئے  تو   اس نے مقامی بینک میں مسجد کا ایک جوائنٹ اکاﺅنٹ کھولا ، جلد ہی اس اکاﺅنٹ میں فنڈز آنا شروع ہوگئے  جو

کچھ ہی ہفتوں میں 400 ریال تک پہنچ گئے ، اس مسجد سے فوری طور پر میلاد منایا گیا اور باقی رقم سے بجلی کے بل اور مسجد کی اطراف میں تعمیرات کی گئیں۔مولوی عبد المجید کی جانب سے انٹرنیٹ کے استعمال اور مسجد کے لئے عطیات آنے کے بعد گاﺅں کے لوگوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھانا شروع کردی، اس کے علاوہ گاؤں والوں نے اس کا استعما ل روزگار کی تلاش میں بھی کرنا شروع کر دیا

2015 میں اس نے اپنے دوستوں کو سمارٹ فون کا استعمال کرنا شروع کیا ۔ جب کہ یہاں ایج  ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا تھا ۔ جب کہ ہائی فائی انٹرنیٹ بھی نہیں تھا

وسیم کا اب وژن ہے کہ وہ  اپنے لوگوں میں تعلیم کو پھیلائے اور ان کو جدید دور کے طور طریقوں سے روشناس کرائے

قبر کھودنے کے دوران ایک عجیب واقعہ لوگ جوک درجوک جمع ہونے لگے

رید کے میں ایک قبر کی کھدائی کے وقت قبر سے درجنوں کے حساب سے سکے نکل آئے ۔ علاقہ بھر میں خزانہ نکلنے کی افواہ

 جبکہ جائے وقوع پر فورا وائس چیئر مین بلدیہ پہنچے اور انہوں نے سکے تحویل  میں لے کر محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کر لیا۔ کہا جاتا  ہے کہ علاقہ کے قدیم ٹبہ کوٹ یعقوب قبرستان میں قبر کے لیے زمین کھودی جا رہی تھی کہ اسی دوران زمین سے قدیمی سکے نکل آئے۔

اس دوران لوگوں میں افواہ پھیل گئی کہ قبرستان سے سونے کا خزانہ نکلا ہے پھر علاقہ میں سونے کے سکوں کی کثیر تعداد برآمد ہونے کی افواہ پھیل گئی جس پر تھانہ صدر مریدکے پولیس وائس چیئر مین بلدیہ مریدکے رانا ماجد نواز موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے سکوں کا جائزہ لیا

فیس بک کو پشاوری خاتون نے آمدن کا بہترین ذریعہ بنا لیا

مالی برہان کا شکار تو ہر انسان ہی اس دور میں لیکن خواتین کو اس کا احساس مردوں کی نسبت کچھ زیادہ ہوتا ہے اسی لیئے وہ پیسے کمانے کے نت نئے آئیڈیاز متعارف کرواتی رہتی ہیں اسی طرح پشاور کی اس خاتون نے ایک بہترین طریقہ پیسے کمانے کا نکال لیا ہے تفصیلات کے مطابق صائمہ ایک گھریلو خاتون ہیں، وہ اپنے کچن میں ہر طرح کے گھریلو کھانے تیار کرکے کمرشل بنیادوں پر فراہم کرتی ہیں۔

صائمہ کا کہناتھا کہ میں نے 600 روپے کی ڈشز خریدی تو میں کافی پریشان تھی کہ یہ نکلیں گی کہ نہیں نکلیں گی، آڈرز جائیں گے کہ نہیں جائیں گے۔ اور اب ماشااللہ سے ہر مہینے نہیں تو ہر دو مہینے میں تقریباً 10 سے 15 ہزار کی میں ڈشز لارہی ہوں،اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ آڈرز نکل رہے ہیں تو میں ڈشز لارہی ہوں۔

یہ کاروبار سوشل میڈیا پر نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہے۔کچن میں کام کرنے والی خواتین کو زیادہ تر آرڈرز فیس بک کے ذریعے ملتے ہیں صوبہ میں تیزی سے مقبول ہونے والے اس نئے کاروبار میں 70 فیصد تک گھریلو خواتین اور 30 فیصد طالبات بھی شامل ہیں۔گھروں سے چلنے والے ان کمرشل کچنز کی تعداد 50 تک بتائی جاتی ہے لیکن ان میں 20 سے 30 کچنز فعال ہیں۔

گھریلو کچن کی بنی ہوئی اشیاءکچھ عرصے تک یہاں بڑے سٹورز پہ بھی دستیاب تھیں لیکن ان پر پابندی لگا دی گئی اور وجہ بتائی گئی کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی شرائط۔ لیکن اب بھی یہ اشیا آپ کے گھروں میں آپ کے آرڈر پر ضرور دستیاب ہوتی ہیں، بدلتے دور میں مہنگائی ضرور ہے لیکن پیسے کمانا اتنا مشکل نہیں رہا جتنا پہلے دور میں تھا آپ کو پوسٹ پسند آئے تو اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجئیے ۔

نماز عشا کا وقت ہوچکا ٗ نمازیوں نے صفیں باندھ لیں ٗجب تکبیرہوچکی تو امام کعبہ اچانک پیچھے مڑے اور ایک پاکستانی کی طرف اشارہ کیا کہ تم نما ز پڑھائو ۔۔ جانتے ہیں وہ پاکستانی کون تھا ؟

نماز عشا کا وقت ہوچکا ٗ نمازیوں نے صفیں باندھ لیں ٗجب تکبیرہوچکی تو امام کعبہ نے یہ کہہ کر ایک شخص کو جبرا اپنے مصلے پر کھڑا کردیا کہ مسلمانوں کے امام تو آپ ہیں ٗآپ ہی نماز پڑھائیں۔

اس لمحے حالت غیر ہوگئی ٗ قدم لڑکھڑانے لگے ٗ آنسو ئوں کی جھڑی لگ گئی اور گلا رندھ گیا۔ ہچکیوںاور سسکیوں میں ڈوبے الفاظ کے ساتھ نماز تو مکمل ہوگئی لیکن ہر رکعت میں یہی ڈر لگا رہا کہ ابھی وہ روتے روتے زمین بوس ہو جائیں گے۔

یہ ہیں پاکستان کے وہ عظیم سپہ سالار جنرل محمد ضیاء الحق جن کو یہودی صلاح الدین ایوبی دوم کے لقب سے پکارتے ہیں۔ہی نماز پڑھائیں۔ اس لمحے حالت غیر ہوگئی ٗ قدم لڑکھڑانے لگے ٗ آنسو ئوں کی جھڑی لگ گئی اور گلا رندھ گیا۔

ہچکیوںاور سسکیوں میں ڈوبے الفاظ کے ساتھ نماز تو مکمل ہوگئی لیکن ہر رکعت میں یہی ڈر لگا رہا کہ ابھی وہ روتے روتے زمین بوس ہو جائیں گے۔ یہ ہیں پاکستان کے وہ عظیم سپہ سالار جنرل محمد ضیاء الحق جن کو یہودی صلاح الدین ایوبی دوم کے لقب سے پکارتے ہیں۔

21جنوری سے شرو ع ہونے والی یہ آفر 31جولائی تک رہے گی ، عوام کیلئے شاندار اعلان

21جنوری سے شرو ع ہونے والی یہ آفر 31جولائی تک رہے گی ، عوام کیلئے شاندار اعلان .سستا ہوائی سفر فراہم کرنے والی ایئر ایشیا کمپنی نے بنگلور ، کوچی، حیدرآباد، کولکتہ ، نئی دہلی،پنے اور رانچی کیلئے 99روپے ادا کرکے ہوائی جہاز کے سفر کی پیشکش کی ہے.

بھارتی ٹی وی کے مطابق کمپنی نے ایک بیان میں کہاگیا کہ ملک کے سات بڑے شہروں کے ہوائی سفر کیلئے بنیادی کرائے کے علاوہ اس سے کچھ زیادہ رقم کے ٹکٹ پر ہوائی سفر کا مزہ لے سکتے ہیں.

علاوہ ازیں بین الاقوامی پروازوں کیلئے بھی آفرز کی ہیں .اس پیشکش کے تحت 1499روپے میں بالی، آکلینڈ، بنکاک، کوالالمپور، میلبورن، سنگاپور اور سڈنی کا سفر کیا جاسکتاہے.یہ سہولت 21جنوری تک بکنگ کرانے والوں کیلئے ہے.ٹکٹ بک کرانے کے بعد 31جولائی تک سفرکرسکتے ہیں.