کاجول اپنے کیرئیر کی آخری فلم کرنےوالی ہیں۔۔۔ہیرو کون ہو گا؟؟؟نام سن کر ان کے شوہر اجے دیوگن کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ جائے گا

بھارتی اداکارہ کاجل اپنے بیٹے کے ساتھ فلم میں کام کرنے کی خواہاں ہیں ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں بھارتی اداکار اجے دیوگن کی اہلیہ اداکارہ کاجل کا کہناتھاکہ میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے ،

اگر بچوں نے والدین کی طرح بالی ووڈ میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تو ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی تاہم یہ قبل از وقت ہے کہ وہ اپنے مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔کاجل نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ فلم بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ بالی ووڈ میں میری زندگی کی وہ آخری فلم ہو جو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بنائیں گی۔

ایک جڑی بوٹی جسے منہ میں رکھنےسے آپ کو نہ صرف دانتوں کے کیڑوں سے نجات مل جائے گی بلکہ کبھی معدے کی تیزابیت کا شکار بھی نہ ہوں گے

لندن(نیوزڈیسک) دانت کے درد کی وجہ سے انسان ہر کام بھول جاتا ہے اور اس سے چھٹکارے کے لئے کڑوی سے کڑوی دوائی کھانے کو بھی تیارہوجاتا ہے۔انٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات کی وجہ سے دانت کی سوزش یا اس میں لگا کیڑا تو کم ہوجاتی ہے لیکن ساتھ ہی دیگر مسائل میں اضافہ ہوجاتا ہے جیسے معدہ خراب ہونا یا مدافعتی نظام کی کمزوری۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیں کوئی ایسا قدرتی طریقہ مل جائے جس میں نہ کوئی نقصان ہو اور نہ کوئی کڑوی دوائی کھانی پڑے تو آئیے آپ کو ایک ایسا قدرتی میٹھا نسخہ بتاتے ہیں اور یہ ملیٹھی ہے جس کی وجہ سے آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہوگا۔


ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ملیٹھی دانتوں کے درد اور ان کی سڑن کے لئے انتہائی مفید پائی گئی ہے۔اس کے استعمال سے دانتوں میں موجود بیکٹیریا کم ہونے سے درد اور سوزش میں کمی آتی ہے۔ہمارامنہ مختلف طرح کے بیکٹیریا کا گھر ہے جس کی وجہ ہمارا کئی طرح کے کھانوں کا استعمال ہے اور ان بیکٹیریا کی وجہ سے دانت سڑنے لگتے ہیں اور ان میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ایک بیکٹیریا جس کا نام streptococcus mutansبتایا جاتا ہے صرف چینی پر زندہ رہتا ہے اور جب بھی اسے چینی ملتی ہے یہ کھاکر ایک فضلہ خارج کرتا ہے جس میں تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں اور یوں ہمارے دانت سڑن کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسی طرح ایک اور بیکٹیریا اپنے اردگرد ایک گھیرا سابناکر رہتا ہے جس کی وجہ سے کوئی چیز بھی اسے ختم نہیں کرپاتی۔ملیٹھی میں دو طرح کے اجزاءپائے جاتے ہیں جنہیں licoricidinاورlicorisoflavanکہاجاتا ہے اور ان کی وجہ سے ان انزائمز کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے جو بیکٹیریا کو اپنے گرد ایک گھیرا بنانے میں مدد دیتا ہے اور اس طرح دانت کی سڑن کم ہوتی ہے۔


دانتوں کے درد کے لئے ملیٹھی کا استعمال
گولیوں یا ٹافیوں میں جو ملیٹھی استعمال کی جاتی ہے وہ ایک ذائقہ ہوتا ہے اور اس کا اصل ملیٹھی سے کوئی تعلق نہیں۔اگر آپ یہ گولیاں کھاکر امید کرتے ہیں کہ آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہوجائے گا تو آپ کا خیال غلط ہے۔کوشش کریں کہ آپ کو ملیٹھی کی ایک تازہ جڑ مل جائے یا کوئی پرانی ملیٹھی کی جڑ بھی کام دے گی۔اب اسے اپنے منہ میں رکھ کر چبائیں اور تب تک ایسا کرتے رہیں جب تک جڑ کے ریشے نظر نہ آنے لگیںاور یہ مسواک کی طرح نہ دکھنے گے۔ اب ان ریشوں سے دانتوں کو صاف کریں اور جس جگہ درد ہواس پر بھی آرام سے ملیں،آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی دنوں میں آپ کے دانت کی درد کم ہوچکی ہے ۔
ملیٹھی اور گلے کی سوزش وزکام
زمانہ قدیم ہی سے ملیٹھی کو زکام، نزلہ، گلے کی سوزش اور خراش کو ٹھیک کرنے کے ئے استعمال کیا جارہا ہے۔مصری تہذیب کے لوگ بھی اسے اپنی گلے کی سوزش کی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے تھے۔ایک تازہ تحقیق میں سگریت نوش افراد کو ملیٹھی کھانے کو دی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اس کی وجہ سے ان کی کھانسی اور بلغم میں کمی ہوئی۔اگر آپ بھی گلے کی خراش اور کھانسی کا شکار ہیں تو ملیٹھی کی جڑ کو پانی میں ابالیں اور اس میں چند قطرے شہد ملاکر پینے سے آپ کو کافی ااام ملے گا۔
جسمانی سوزش کے لئے
ہمارے کھانے پینے اور چلنے پھرنے کی عادات کی وجہ سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے جس کی وجہ سے سر میں درد اور سوزش کی شکایت رہتی ہے لیکن اگر ملیٹھی کا استعمال کیا جائے تو کافی افاقہ ہوتا ہے۔Natural Product Communications Journalمیں شائیع ہونی والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملیٹھی آئی بو پروفین سے زیادہ کارآمد اور دردوں کو کم کرنے میں اہم کرداد ادا کرتی ہے۔
سینے کی جلن
ملیٹھی والی چائے کی وجہ سے سینے کی جلن ،گیس، معدے میں درد اور جی متلانے والی علامات کو ٹھیک کیاجاسکتا ہے۔ملیٹھی کو ابلے ہوئے ہانی میں ڈالیں اور چند منٹوں بعد اسے نطار کر پی لیں۔ی عمل دو سے تین دن تک کرنے کے بعد آپ کو سینے کی جلن سے راحت ملے گی۔

یہ اسی سالہ بوڑھا ابھی تک بوڑھا کیوں نہیں ہوپارہا آخر کرتا کیا ہے؟بالاخر اس کا راز سامنے آگیا

لاہور (طبی رپورٹر) آج کل نوجوان مریل، تھکے ہوئے اور بوڑھوں کی طرح کام کرتے ہوئے ہانپ ساجاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنے بزرگوں اور باس سے بھی بہت سی باتیں سننی پڑتی ہیں ۔وہ انہیں طعنہ بھی دیتے ہیں ”

دیکھو ہم نوجوانوں سے زیادہ تندرست اور چابکدست ہیں“ اس میں کوئی شائبہ بھی نہیں رہا کہ نوجوانوں کی نسبت بوڑھے افراد اپنی صحت وتندرستی کا زیادہ خیال رکھنے لگے ہیں۔ انہیں اپنی جسمانی سرگرمیوں کے علاوہ مردانہ قوت کو بحال رکھنے کی بھی فکر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ہی دنیا بھر میں ایسی اشتہا انگیز ادویات کا راج ہے۔ چین میں اسی سالہ بوڑھا ژانگ جو گزشتہ سال پوری دنیا کے بوڑھوں کی توجہ کا مرکز بن گیاتھا اسکی قابل رشک صحت و چستی نہ صرف اپنے پوتے پوتیوں بلکہ عوام کے دلوں میں گھر کرگئی جس کے بعد بوڑھے افراد نے خود کو بوڑھا کہلوانے اور اور اپنی جوانی ثابت کرنے کے لئے سیر اور ورزش کرنے کے معمولات اپنالئے ہیں۔ ادھر پاکستان میں بھی بوڑھوں کو جوان کرنے کے لئے شعور پیدا کیا جارہا ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے ہمارے ہاں ناقص اغذیہ اور غیر فطری طرز زندگی کی وجہ سے پچاس سال سے بڑھاپاشروع ہوجاتا ہے۔ ایسے افراد کے اعصاب تیزی سے زوال پذیر ہونے سے ان کی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس کا بہترین علاج دو طرح سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو وہ باقاعدہ سیر اور ورزش کریں دوسرامعجون ’لبوب کبیر‘ کھانی شروع کردیں۔ وہ جنسی اشتہا بڑھانے والی کیمیائی ادویات کی بجائے فطری ادویہ کھائیں تو ایسے بوڑھے کبھی ”بوڑھے“ نہیں ہوتے۔ لبوب کبیر طب کا کرشمہ ہے جوقرابادینی نسخہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ان تمام رطوبتوں کو پیدا کرتا ہے جو کم ہونے سے مرد بوڑھے ہوجاتے ہیں۔یہ طب اسلامی کی مقوی ترین غذا و دوا ہے۔تاہم اپنی طبی تشخیص کے بعد ہی بوڑھے افرادکو لبوب کبیرملٹی وٹامن کے طور پر روزانہ استعمال کرنی چاہیے۔ایسے بوڑھوں کی صحت قابل رشک ہوجائے گی اور لوگ پکار اٹھیں گے کہ یہ بوڑھا ایسی کیا چیز کھاتا ہے کہ اس پر عمر کے آثار نظر نہیں آرہے ۔

کس نمبر پر پیدا ہونے والے بچے کا زندگی میں کامیابی کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے

انسان ویسے تو کسی حال مین خوش نہیں رہتا بہن بھائیوں میں سب سے بڑا یا سب سا چھوٹا ہونے کے اپنے اپنے فوائد و نقصانات ہیں۔ بڑے جہاں ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں تو وہیں چھوٹے ہمہ وقت ان کی تابعداری کرنے سے تنگ پڑ جاتے ہیں۔ یہ عمومی نوعیت کے مسائل تو اپنی جگہ لیکن ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں کس قدر کامیاب ہوں گے اس کا انحصار بھی بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ بہن بھائیوں کا آپ کا کون سا نمبر ہے۔

جریدے بزنس انسائڈر کے مطابق کلینکل سائیکولوجسٹ جوزف برگو نے اس موضوع پر کی گئی ایک تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ بہن بھائیوں میں ہمارا نمبر بڑی حد تک اس بات کا تعین کرتا ہے کہ زندگی میں ہمیں کتنی کامیابی حاصل ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر چھوٹے بچوں کو لا شعوری طور پر ہی یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ وہ زیادہ محنت کر کے خود کو کچھ ثابت کریں لیکن سماجی و معاشی حالات کے باعث عموماً وہ اس کوشش میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پاتے۔


عموماً بڑے بچوں کو گھر میں زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے اور انہیں نسبتاً زیادہ اختیار بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال چھوٹے بچوں کیلئے ایک آزمائش ثابت ہوتی ہے۔ پہلے پیدا ہونے والے بچے کو عموماً والدین کی بہت زیادہ توجہ ملتی ہے اور اسی لیے زیادہ پر اعتماد بھی ہوتے ہیں والدین کی توجہ اور وسائل دستیاب ہونے سے عموماً ان کی تعلیم اور بعدازاں زندگی میں کامیابی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ بچوں کی تعداد زیادہ ہونے پر والدین انہیں وقت بھی کم دے پاتے ہیں اور انہیں دستیاب وسائل بھی کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بڑے بچے تو پہلے ہی وسائل سے فائدہ اٹھا چکے ہوتے ہیں لہٰذا ان کی کامیابی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن چھوٹوں کے لئے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعداد زیادہ ہونے سے درمیانے اور چھوٹے بچے نظر انداز ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ یہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جائیں یا بیرونی دنیا سے کٹ کر خود میں ہی کھو جائیں اورعمر بھر اپنا قصد تلاش کرنے میں ہی بھٹکے رہیں۔ہمارا فیس بک پیج ضرور لائیک کریں

خوش قسمت بچے کس مہینے میں پیدا ہوتے ہیں؟ آپ کی پیدائیش کس ماہ میں ہوئی؟

ماہریں علم نجوم کے تجربات و مشاہدرت جو بچوں کی پیدائش کی سلسلہ میں منظر عام پر آئے ہیں ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔جاری ہے ۔



جنوری : جو بچہ اس ماہ میں تولد ہوگا وہ عقلمند معاملہ فہم حوصلہ مند ،ہمدرد مستقل مزاج ،سخی اور حصول علم میں مستغرق ہوگا۔جاری ہے ۔

فروری : جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہوگا وہ سلیقہ شعار ،ہنر مند، زندہ دل ،ہنس مکھ ،سینما تھیڑ اور کھیل کود تماشے کا شیفتہ منصف مزاج اور ۔۔ تنہائی پسند ہوگا۔جاری ہے ۔

مارچ : جو بچہ اس ماہ میں جنم لے گا وہ عقلمند سیاح ،سخی دھن کا پکا اور موسیقی کا ماہر ہوگا۔جاری ہے ۔

اپریل : جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہو گا وہ عالی دماغ صاحب اولاد جدت طراز کا میاب تاجر ،شجیع،جوشیلا ،پختہ خیالات والا دھن کا پکا اور حاکمانہ شان و شوکت کا حامل ہوگا۔جاری ہے ۔

مئی : جو بچہ اس ماہ میں تولد ہوگا وہ سراغ رساں تلاش حق کا دلدادہ کامیاب وکیل عالی دماغ ،راس العقیدہ دھن کا پکا طبیعت اشتعال پذیر اعلیٰ منتظم دُشمنوں پر غالب لیکن عفوکا مادہ زیادہ اور امیرانہ شان و شوکت کا حامل ہوگا۔جاری ہے ۔

جون: جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہو گا وہ چالاک متزلزل خیالات مگر سے دولت حاصل کرے گا پرلے درجے کا سازشی معاملہ اور سیاحت کا شوقین ہوگا۔جاری ہے ۔

جولائی : جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہوگا وہ آرام طلب ،شوقین مزاج موسیقی کا شوقین محفل رقض و سرور کا دلدادہ فن لطیفہ کا شوقین اور ذہین ہوگا۔جاری ہے ۔

اگست : جو بچہ اس ماہ میں تولد ہوگا وہ زاہد متقی پرہیزگار عالم مصنف مزاج صاحب الرے خلیق ایماندار مستقل مزاج دلیر صاف دل رحم اور دل تنہائی پسند ہوگا۔جاری ہے ۔

ستمبر: جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہوگا وہ سمجھ دار ،دنیا کے نشیب و فراز سے واقف ،ذہین بلا کا حافظہ والا تندرست اور وہمی ہوگا۔جاری ہے ۔

اکتوبر: جو بچے اس مہینے میں پیدا ہوں گے وہ قدرتی طور پر وفادر ہوں گے، اپنے دوستوں کے ہمیشہ ہمدرد، ہونس اور غم خار ہوں گے اور باز اوقات یہ بچے اپنے دوستوں کے ساتھ محبت اور مروت کے رشتے کے سبب اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔

نومبر : جو بچہ اس ماہ میں تولد ہوگا وہ حق گو ، صاگ دل کامیاب تاجر اپنے رشتہ داروں متعلقین سے عمدہ سلوک کرنے والا شان و شوکت کا دلدادہ اور دوسروں ہر احسان کرنے کا متمنی ہوگا۔جاری ہے ۔

دسمبر : جو بچہ اس ماہ میں پیدا ہو گا وہ دھن پکا ضدی خوش رفتار خوش گفتار، جاری ہے۔

عوام کا چہتا خوش آمدی حوصلہ مند اور مستقل مزاج ہو گا

عالم دین کی قبر سے یورپی لڑکی نکل آئی

مکہ مکرمہ میں ایک عالمِ دین کا انتقال ہوا۔ انہیں مسلمانوں کے ایک عام قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ اِنکی وفات کے کچھ سالوں کے بعد ایک اور شخص کا انتقال ہوا۔ چونکہ عرب کا دستور ہے کہ جب کوئی قبر پرانی ہو جاتی ہے تو پرانے مردے کی جگہ نیا مُردہ دفن کر دیتے ہیں، اور اِسطرح کئی کئی مُردے ایک ہی قبر میں دفن ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا اس شخص کو دفن کرنے کے لیے اُس عالمِ دین کی قبر کھولی گئی تاکہ اس شخص کو بھی اسی قبر میں دفن کر دیا جائےلیکن قبر کھولتے ہی

 

ایک عجیب و غریب منظر نظروں کے سامنے تھا۔قبر میں اس عالمِ دین کی میت کی بجائے ایک نہایت حسین لڑکی کی میت تھی اور وہ لڑکی کسی یورپین ملک کی معلوم ہوتی تھی۔ سب لوگ بہت حیران ہوئے اور یہ بات تھوڑی ہی دیر میں سارے علاقے میں پھیل گئی کہ “فلاں عالم کی قبر میں انکی میت کی جگہ ایک حسین لڑکی کی لاش ہے، لوگ دور دور سے یہ منظر دیکھنے کیلئے آئے!”اتفاق سے وہاں پورپ کے کسی ملک سے آنے والا ایک مسلمان سیاح بھی موجود تھا، جو حج کے ارادے سے مکہ آیا ہوا تھا۔ اس نے جب اس لڑکی کی صورت دیکھی تو کہا کہ “میں اس لڑکی کو جانتا ہوں یہ فرانس کی رہنے والی ہے اس کا سارا گھرانہ عیسائی ہے لیکن یہ خفیہ مسلمان ہوگئی تھی اور اس نے مجھ سے بھی اسلام کی کچھ کتابیں پڑھیں تھی، پھر کچھ دن بعد یہ بیمار ہو کر فوت ہوگئی تو گھر والوں نے اِسے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا تھا اور اب حیرت ہے اس کی میت یہاں (مکہ) پہنچی ہوئی ہے۔۔!”لوگوں نے کہا کہ “اس لڑکی کی میت یہاں منتقل ہونے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ نیک اور مسلمان تھی لیکن پھر عالمِ دین کی میت کہاں گئی۔۔۔؟”، کسی نے کہا “ہو سکتا ہے اُنکی میت اِس لڑکی کی قبر میں چلی گئی ہو۔۔!”اس سیاح نے کہا کہ “میں حج سے فارغ ہو کر چند دن میں واپس جا رہا ہوں میں اس لڑکی کے ورثاء سے مل کر اسکی قبر کشائی کر کے دیکھوں گا کہ آخر کیا معاملہ ہے۔۔؟”،ان لوگوں نے عالمِ دین کے ورثاء میں سے ایک شخص اس سیاح کے ساتھ بھیج دیا۔سیاح نے اپنے ملک واپس جا کر لڑکی کے والدین سے سارا قصہ بیان کیا، وہ بہت حیران ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے لڑکی کی قبر کشائی کی تو حیران کن طور پر لڑکی کے تابوت میں اس عالمِ دین کی میت تھی جو مکہ میں دفن ہوا تھا وہ لوگ بہت حیران اور پریشان ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔؟مکہ میں جب یہ خبر پہنچی کے اس عالمِ دین کی میت عیسائیوں کے قبرستان میں اس لڑکی کی قبر میں ہے تو سب کو بہت حیرانگی ہوئی کہ “لڑکی کا یہاں منتقل ہونا تو اسکے مسلمان ہونے اور نیک ہونے کی وجہ سے تھا لیکن عالمِ دین سے ایسا کونسا گناہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں عیسائیوں کے قبرستان میں منتقل کر دیا گیا۔۔۔؟”چنانچہ اسکی بیوی سے پوچھا گیا کہ “تیرے شوہر میں ایسی کونسی بات تھی جو اس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا۔۔۔؟اس کے بیوی نے کہا کہ، “میرا شوہر تو بہت نیک اور نمازی انسان تھا، تہجد گزار اور قرآنِ پاک کا پڑھنے والا تھا۔۔۔!”لوگوں نے کہا کہ سوچ کر بتاؤ، آخر کوئی تو ایسی بات ہوگی جس وجہ سے یہ اتنا سب کچھ ہو گیا۔۔۔!”بیوی نے غور کر کے کہا کہ، “اس کی ایک بات پر میں ہمیشہ کھٹکتی تھی کہ جب بھی اس پر غسل جنابت واجب ہوتا تو وہ نہانے سے پہلے کہتا کہ عیسائیوں کے مذہب میں یہ بات بہت اچھی ہے کہ ان پر یہ غسل واجب نہیں ہے ہمیں سردی میں بھی نہانا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے اِسی وجہ سے اللہ نے اُسے انکے درمیان ہی پہنچا دیا جن کے طریقے کو وہ پسند کرتا تھا اور اسلامی احکام اُسے ٹھیک نہیں لگتے تھے۔۔!” حوالہ جات: (کتاب: “ذم النسیان” صفحہ نمبر: 2، کتاب: “مواضہ اشرفیہ” جلد نمبر: 4، صفحہ نمبر: 322)

عورت

شام چار بجے میں اس کی دیہاڑی کے چھ سو روپے لیکر اس کے پاس پہنچا میں نے دور کھڑے ہو کر آواز دی انکل!ٹائم پورا ہو گیا ۔اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اس شدید سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہیں تھیں اس نے اپنی پھٹی ہوئی قمیض کا دامن پکڑا اور اسی سے چہرا پونچھتے ہوئے بولا !میں نے دو گھنٹے اور کام کرنا ہے بھائی سے پوچھ آؤ دو سو زیادہ مل جائے گا ؟میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ پھر سے کھدائی میں مصروف ہو

گیا :میں گھر لوٹا بھیا سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے دو سو روپے اور تھما دیے اور کہا اسے آٹھ سو دے دو اور گھر بھیج دو ۔میں نے آٹھ سو روپے اسے دیے اور کام چھوڑ دینے کو کہا جس پر وہ بمشکل راضی ہوا وہ ایک طرف گیا۔اپنے پلاسٹک کے پرانے جوتے اٹھا کر پہنے بائیں پاؤں کا انگوٹھا جوتے کے آگے پھٹن کی وجہ سے بنے سوراخ سے باہر آ گیا! اس نے کدال کندھے پر رکھی اور شکریہ ادا کرتا ہوا چل دیا اس کے چہرے پر سخت تھکاوٹ کے باوجود فاتحانہ چمک سی تھی جس نے مجھے تجسس میں ڈال دیا اس نے نیچے دیکھا کچھ سوچا اور زیر لب مسکرایا جس سے میرے تجسس میں اور اضافہ ہو گیا ۔میں بھی اس کے ساتھ ساتھ چل پڑا اور ہمت کر کے اس آخری کیفیت کے بارے میں دریافت کر لیاکچھ اصرار پر اس نے بتایا کہ کل گاؤں میں شادی ہے بیوی نے نئے سوٹ کا مطالبہ رکھا تھا اس کیلیے پریشان تھا الحمد للہ اب پیسے پورے ہو گئے!دوکان سے جاتے ہوئے سوٹ لیکر جاؤں گا بس یہی سوچ رہا تھا ” کتنی خوش ہو گی وہ ” پتہ نہیں کب میری آنکھیں نم ہو گئیں تھیں میں نے اسے الوداع کیا اور یہ سوچتا ہوا گھر کی طرف لوٹا کہ کاش ہمیشہ نا شکری کرنے والی عورت کبھی مرد کے جذبات کو بھی سمجھ پاتی

غریب کسان اور خوبصورت بیوی

بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔ ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، “کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟” غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، “بیگم

میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!” بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔ کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، “بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟” بیگم بولی، “میرے سرتاج!کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!” جب کسان نے اُسے کنگھی دکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔