ابراہیمؑ نے پوچھا “اے میرے پروردگار” یہ سفید بال کیا ہے ؟

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .

” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کیمرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل.

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کی مرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو رحمن (اللہ ) کے دوست تھے سب سے پہلے انسان ہیں

جنہوں نے اپنی مونچھیں کتریں، اور وہ سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے بڑھاپا یعنی سفید بال دیکھا، چنانچہ انہوں نے (جب سب سے پہلے اپنے بالوں میں سفیدی کو دیکھا تو ) عرض کیا کہ ” میرے پروردگار ” ! یہ کیا ہے ؟ پروردگار کا جواب آیا کہ ” ابراہیم (علیہ السلام ) ” یہ وقار ہے یعنی یہ اس بڑھاپے کی علامت ہے جو علم و دانش میں اضافہ کا باعث اور عز و وقار کا ذریعہ ہے اور اس کی وجہ سے لہو و لعب کی مشغولیت اور گناہوں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار ! یہ تو تیری بڑی نعمت ہے لہٰذا ” میرے وقار میں اضافہ فرما .” (مالک ) مشکوۃ شریف . جلد چہارم . لباس کا بیان . حدیث 415 میرے بھائیوں اور محترم بہنوں! سر کے پہلے بال کا سفید ہو جانا انسان کے لئے موت کی بڑھنے اور الله سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے وقت کے قریب ہو جانے کا سگنل ہوتا ہے لہٰذا اپنی باقی ماندہ زندگی الله کی مرضی سے گزارنے کا سگنل ہوتا ہے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آنے اور آخرت بچانے کی فکر کرنے سگنل

..

شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی کی اصل وجوہات

1960ء میں جب ماؤ ژی تنگ نے پاکستان میں اپنے دوسرے سفیر جنرل جینگبیاؤ کو بھیجا تھا، تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جنرل کو مشورہ دیا تھا کہ ’پاکستان کا خیال رکھنا، یہ مغرب کی طرف چین کا دروازہ ہے.‘ ممکن ہے کہ ماؤ کے یہ خیالات جغرافیائی سے زیادہ تشبیہاتی ہوں گے.

1960ء میں پاکستان مغرب کی جانب چین کا سفارتی دروازہ تھا، اور یہی وہ خصوصیت تھی جس کی وجہ سے 1971ء میں بالآخر چین اور امریکا کے مابین تعلقات بحال کروائے، اور آج صورتحال یہ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی صورت میں ماؤ کے الفاظ جغرافیائی حیثیت سے بھی حقیقت بنتے جا رہے ہیں. جنرل جینگبیاؤ، جو آگے چل کر چین کے وزیرِ دفاع اور نائب وزیرِ اعظم بنے، انہوں نے پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا. یہی کام پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ اور بعد میں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ادا کیا. بدقسمتی سے پاکستانی عوام کی بڑی تعداد، بالخصوص نوجوان، پاکستان اور چین کے تعلقات کی تاریخ، گہرائی اور جواز سے واقف نہیں ہیں. مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے چند پاکستانی تو پاکستان کو مضبوط دیکھنے کی چینی خواہش پر بھی سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں. پاکستان اور چین کے تعلقات بین الاقوامی سیاست اور دونوں ممالک میں ہونے والی داخلی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے اتار چڑھاؤ کے باوجود بھی قائم رہے ہیں کیوں کہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے قومی مفاد اور دیرپا ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہیں. گزشتہ 50 سالوں میں پاکستان نے پُرعزم طریقے سے چین کے اتحاد اور اس کی جغرافیائی خود مختاری کا دفاع کیا، چین کو اقوامِ متحدہ میں اس کی جائز نشست دلوانے کے لیے انتھک محنت کی اور چین کو انسانی حقوق کے مسئلے پر آڑے ہاتھوں لینے اور اس کی سماجی معاشیاتی کامیابیوں کو نیچا دکھانے والوں کی کوششوں کو ناکام بنایا. دوسری جانب چین نے بھی مختلف انداز میں پاکستان کی حمایت کی ہے اور اب بھی کر رہا ہے. کب کب کیا ہوا؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں. . 1965 میں چین نے اپنی افواج ہندوستان کے ساتھ اپنی متنازعہ سرحد پر تعینات کردیں جس کی وجہ سے ہندوستان پاکستان کے خلاف اضافی افواج تعینات کرنے سے باز رہا. . 1971 میں ہندوستان نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو چین نے پاکستان کی سرحدوں کی سلامتی کا دفاع کیا اور وہ پاکستان کی اپیل پر فوجی مداخلت کرنے کو تیار تھا، مگر سوویت یونین کی جانب سے ایٹمی حملے کی کھلی دھمکی کی وجہ سے رک گیا. . 1972 میں پاکستان کی درخواست پر چین نے اقوامِ متحدہ میں بنگلہ دیش کی شمولیت کو تب تک کے لیے ویٹو کردیا جب تک

کہ ڈھاکہ اور دہلی پاکستان کے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار نہ ہوگئے. . چین نے ٹیکسلا میں پاکستان ہیوی انڈسٹریل کمپلیس اور دیگر صنعتی سہولیات گرانٹس کی بنیاد پر تعمیر کیں. . امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود چین نے پاکستان کو اس کے پہلے بیلسٹک میزائل فراہم کیے اور اسے اپنی خوفناک میزائل صلاحیتیں تیار کرنے میں مدد دی. . چین اب بھی وہ واحد ملک ہے جو پاکستان کو سویلین ایٹمی ری ایکٹر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کا راستہ روک رکھا ہے. . 3 دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک چین کا نیا اسلحہ پاکستان کو اسی وقت دستیاب ہوجاتا جب وہ چین کی اپنی فوج پیپلز لبریشن آرمی کو دستیاب ہوتا. . چین وہ واحد ملک تھا جو پاکستان کے ساتھ جدید ترین جنگی طیاروں اور دیگر اسلحہ سسٹمز کی مشترکہ تیاری پر راضی تھا. . جب چین کے اقتصادی حالات بہتر ہوئے تو اس نے خاموشی کے ساتھ پاکستان کی مالی مدد (قرض، گرانٹ، بینک ڈپازٹ) میں لگاتار اضافہ کیا تاکہ پاکستان اپنی معاشی ایمرجنسیوں اور اس کے گرتے ہوئے خزانوں کو سنبھال سکے. . چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا پہلا حصہ پاکستان سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا. یہ وہ وقت تھا جب دنیا کے کسی بھی ملک کی کمپنیاں پاکستان میں کام کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں. . اور آخر کار یہ کہ جب ہندوستان پاکستان کو ‘تنہا’ کرنے کی ایک عالمی میڈیا اور سفارتی مہم چلا رہا ہے، پاکستان کو ‘محدود جنگ’ اور ‘سرجیکل اسٹرائیکس’ کی دھمکیاں دے رہا ہے، اور جب امریکا افغانستان میں اپنی ناکام حکمتِ عملی کو سہارا دینے اور ہندوستانی احکامات کے آگے جھکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے، تو یہ چین ہی ہے جس کا سلامتی کونسل میں ویٹو اور دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں اس کا اثر و رسوخ ہے جو پاکستان کے خلاف منفی بین الاقوامی فیصلوں اور اقدامات کی راہ میں آڑے آجاتا ہے. اس وقت پروان چڑھتے اس ایشیائی کھیل میں جنوبی ایشیاء اور ارد گرد میں تعلقات کا انحصار چین امریکا، چین ہندوستان اور پاکستان و ہندوستان کے مابین تعلقات پر ہوگا. اپنی حالیہ سیکیورٹی دستاویز میں امریکا نے چین کو ‘حریف’ قرار دیا ہے. اطلاعات ہیں کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے یا سزا دینے میں چین کی ناکامی اور چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارے میں کمی لانے میں ناکامی سے ‘تنگ’ آگئے ہیں. چین کے خلاف تجارتی ایکشن متوقع ہے. پینٹاگون بار بار بحرِ جنوبی چین میں ’جہاز رانی کی آزادی‘ کا بیانیہ دہرا رہا ہے. چین کے اردگرد نئے اتحاد بنانے کی امریکی کوششیں سرگرم ہیں. امریکا کی اس مہم کی شدت میں کمی لانے کے لیے لگتا ہے کہ چین نے اپنے مرکزی ایشیائی حریفوں جاپان اور ہندوستان، اور ایشیاء میں ان ریاستوں کی جانب اپنا مؤقف نرم کیا ہے جس کے ساتھ اس کے بحرِ جنوبی چین میں بحری تنازعات ہیں. مثال کے طور پر ڈونگلان (ڈوکلام) جھڑپ میں چین نے نئی دہلی کو سبکی سے بچانے کے لیے ہندوستانی افواج کے واپس بلا لیے جانے کی خبر عام نہیں کی اور برکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے کو بھی تسلیم کیا

جس میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے ‘دہشتگرد’ قرار دی گئی تنظیموں کے نام تھے. ظاہر ہے کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ ہندوستان چین کے خلاف امریکا سے کوئی نیا اتحاد کرلے. اس کے سفارتی حربے اہم اسٹریٹجک فیصلوں کو مؤخر کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر یہ سامنے نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے جنرل چین کے ساتھ ایک کھلم کھلا فوجی اور اسٹریٹجک تنازعے کی جانب بڑھ رہے ہیں. اگر ہندوستان نے اب تک امریکا کے ساتھ عسکری اتحاد نہیں بنایا ہے تو وہ ایسا ضرور کرلے گا. ہندوستان چین کو اپنا قدرتی ‘حریف’ سمجھتا ہے. وہ چین کو حاصل زبردست قوت کے حصول کا خواہشمند ہے. 1962ء کی شکست اب بھی اسے یاد ہے. چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں. ایک طاقتور، مسلم مخالف، چین مخالف ‘جمہوری’ امریکا مودی کے ہندوستان کی نظر میں ‘قدرتی اتحادی’ ہے. اِس صورتحال میں پاکستان کے پاس چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو محفوظ رکھنے اور مضبوط کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے. متبادل یہ ہے کہ ہند امریکی غلبے کو تسلیم کرلیا جائے. اپنی طویل اور قریبی شراکت داری کے باوجود پاکستان اور چین کو اپنے اس تعلق کو برقرار رکھنے، مزید مضبوط کرنے اور وسعت دینے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں. ان اقدامات میں دہشتگرد گروہوں، مثلاً چین کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کا قلع قمع، سی پیک کے خلاف بلوچستان اور گلگت بلتستان (جو کہ سی پیک کی شہ رگ ہے) میں غیر ملکی مدد سے ہونے والی سبوتاژ کی کارروائیوں کو روکنا، سی پیک منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد، پاکستان کی معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے چین کی بھرپور امداد، افغانستان میں امن کا قیام اور امریکا کی وہاں سے بے دخلی، ہندوستان کی پاکستان مخالف دھمکیوں کے خلاف ایک مشترکہ مؤقف اور پاکستان کی افواج کی تیز تر ماڈرنائزیشن اور پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ حربی ہم آہنگی شامل ہے. قدرتی طور پر چین اور پاکستان دونوں اُمید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بعد کسی دور میں امریکا کی حالیہ جنگ پر تیار پالیسیاں مزید معقول پالیسیوں میں تبدیل ہوجائیں گی. تب تک پاکستان اور چین کو مغرب کی جانب اپنے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں.

..

دُنیا کے چار بہترین شعبے

ویسے تو دُنیا میں سب ہی شعبے بہترین ہیں اور جو انسان کوئی کام خوب محنت اور دل کگا کر تا ہے اُس کیلئے ہر شعبہ ہی بہترین ہے. درج دیل دیئے گئے وہ بہترین شعبے ہیں جن کی دُنیا میں مانگ اور تنخواہ زیادہ ہے.

جانتے ہیں وہ کون سے شعبے ہیں. DENTISTڈٰینٹیسٹ کو اب تخ دُنیا کی بہترین نوکریوں میں سے ایک مانا جاتا ہے. 2015میں ایک ڈینٹیسٹ کی اوسط تنخواہ 152,700ڈالر بتائی گئی ہے. اور ایک عام سے ڈینٹیسٹ کی کم از کم تنخوا ہ 68,310ڈالر بتائی گئی ہے. ڈینٹیسٹ کو دُنیا کی سب سے زیادہ تنخواہ دیئے جانے والے شعبوں میں 9واں نمبر حاصل ہے.  دُنیا کی سو بہترین نوکریوں میں فزیشن اسسٹنٹ کو دوسرا نمبر حاصل ہے.فزیشن اسسٹنٹ کی اوسط تنخواہ 98,180ڈالرز بتائی گئی ہے.ایکفزیشن اسسٹنٹ بیمار کو اُسکی بیماری سے نکلنے ہے.ایکفزیشن اسسٹنٹ بیمار کو اُسکی بیماری سے نکلنے اور مرض کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے. ANALYST اس شعبے کی اوسط تنخواہ 98, 260ڈالرز بتائی گئی ہے

. 2015میں کمپیوٹر سسٹم اینالیسٹ کی اوسط تنخواہ 85, 800ڈالرز بتائی گئی ہے. امریکہ میں اس شعبے کی ڈیمانڈ کافی زیادہ ہے جس کی وجہ سے جدید دور کے بچے اس شعبے کی طرف اپنا رُخ موڑ رہے ہیں. سرجن ابھی تک دُنیا کا سب سے زیادہ تنخواہ لئے جانے والے شعبوں میں سے ایک مانا جاتا ہے. ایک سرجن کی اوسط تنخواہ 187, 200ڈالرز بتائی گئی ہے. ایک سرجن کی سب سے کم تنخواہ 111, 420ڈالرز ہے. دُنیا میں .سرجنز کم ہیں جس کی وجہ سے اِس شعبے کی بہت مانگ ہے.

..

دُنیا کے چار بہترین شعبے

ویسے تو دُنیا میں سب ہی شعبے بہترین ہیں اور جو انسان کوئی کام خوب محنت اور دل کگا کر تا ہے اُس کیلئے ہر شعبہ ہی بہترین ہے. درج دیل دیئے گئے وہ بہترین شعبے ہیں جن کی دُنیا میں مانگ اور تنخواہ زیادہ ہے.

آیئے .جانتے ہیں وہ کون سے شعبے ہیں. DENTISTڈٰینٹیسٹ کو اب تخ دُنیا کی بہترین نوکریوں میں سے ایک مانا جاتا ہے. 2015میں ایک ڈینٹیسٹ کی اوسط تنخواہ 152,700ڈالر بتائی گئی ہے. اور ایک عام سے ڈینٹیسٹ کی کم از کم تنخوا ہ 68,310ڈالر بتائی گئی ہے. ڈینٹیسٹ کو دُنیا کی سب سے زیادہ تنخواہ دیئے جانے والے شعبوں میں 9واں نمبر حاصل ہے. PHYSICIAN SURGEON سرجن ابھی تک دُنیا کا سب سے زیادہ تنخواہ لئے جانے والے شعبوں میں سے ایک مانا جاتا ہے. ایک سرجن کی اوسط تنخواہ 187, 200ڈالرز بتائی گئی ہے. ایک سرجن کی سب سے کم تنخواہ 111, 420ڈالرز ہے. دُنیا میں .سرجنز کم ہیں جس کی وجہ سے اِس شعبے کی بہت مانگ ہے.

..

25سال بعدسعودی عرب میں نئی تاریخ رقم،مسجد نبوی کے بارے میں مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنادی گئی

25سال بعدسعودی عرب میں نئی تاریخ رقم،مسجد نبوی کے بارے میں مسلمانوں کو بڑی خوشخبری سنادی گئی،تفصیلات کے مطابق زائرین کے بڑھتے ہوئے رش کے باعث پچیس سال پہلے نمازوں کی امامت کے لئے محراب عثمانی کا استعمال شروع کیاگیا تھا

اس سے قبل نمازوں کی امامت کے لئے محراب نبوی استعمال کی جاتی تھی ،اب سعودی حکومت نے ایک بار پھر تقریباً پچیس سال بعد 8دسمبر 2017ءسے محراب نبوی کو مستقل امامت کے لئے بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

واضح رہے کہ اس وقت محراب عثمانی کو نمازوں کی امامت کے لئے استعمال کیاجارہاہے اسے حضرت عثمان نے اپنے دور میں بنوایاتھا جبکہ محراب نبوی وہ محراب ہے جسے نبی کریم نے خود بنوایااور نمازیں پڑھائیں.

 

میک اپ کرنے کا وہ خاص طریقہ جسے دیکھ آپ بھی حیران رہ جائیں گی

میک اپ کرنے کا وہ خاص طریقہ جسے دیکھ آپ بھی حیران رہ جائیں گی خواتین ضرور پڑھیں ایک خاتون بڑھاپے کی منازل طے کررہی تھی مگر اس کا چہرہ ہشاش بشاش اور انتہائی خوبصورت تھا. لگتا نہیں تھا کہ وہ کسی بوڑھی عورت کا چہرہ ہے بلکہ وہ چہرے مہرے سے جوان عورت معلوم ہوتی تھی .

سی نے پوچھا: آپ کی عمر لمبی ہوچکی ہے، بڑھاپے کے صحرا میں اپ کی زندگی کا سفر جاری ہے،

مگر تعحب ہے کہ آپ کا چہرہ بہت ہی صاف و شفاف ہے. آخر آپ کیا طریقہ اختیار کرتی ہیں جس کے باعث آپ کا چہرہ جوان عورت کا چہرہ معلوم ہوتا ہے؟ بوڑھی خاتون نے جواب دیا: بہن! میں وہ طریقہ استعمال کرتی ہوں، جس سے اکثر و بیشتر خواتین ناواقف ہیں. میں نے یہ نسخہ کائنات کے سب سے بڑے معالج معالج سے لیا ہے جس کے استعمال کے بعد انسانی خواہشات ختم ہوجاتی ہیں، حالانکہ انسانی خواہشات کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے جو کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے:.”اگر ابن آدم کو دو وادیاں سونے اور چاندی کی مل جائيں تو وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا- بات یہ ہے کہ ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے”. (بخاری:6436، مسلم:1049) میں بھی ہر روز میک اپ کرتی ہوں-

یرے میک اپ کی تفصیل اس طرح سے ہے:. “میرے دونوں ہونٹوں پر حق غالب رہتا ہے. میری آواز کی گنگناہٹ ذکر و اذکار ہے. میری آنکھوں کا میک اپ غض بصر (نگاہ کو نیچے رکھنا) ہے. میرے دونوں ہاتھوں کی سجاوٹ احسان کرنا ہے. میرے قدموں کی خوبصورتی استقرار و استقامت ہے. میرے دل کا قرار حبِ الہی ہے. میری عقل کا سنگھار حکمت و دانائی ہے. میرے نفس کی غذا اطاعت و فرمانبرداری ہے. میری خواہش کی انتہا ایمان ہے. یہی میرا میک اپ ہے جس کو اپنانے پر میرے چہرے کو یہ رونق نصیب ہوئی ہے جو آپ کے سامنے ہے”

..

اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں

ڈاکٹر جاسم صاحب کہتے ہیں، میرے پاس ایک طالبعلم لڑکی آئی اور پوچھا:طالبہ : کیا قران پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟ڈاکٹر جاسم : پہلے اپنا تعارف تو کراؤطالبہ : میں یونیورسٹی میں آخری سال کی ایک طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا، اس لیئے میں بے پردہ رہتی ہوں، تاہم میں اپنے اصل سے بالکل جڑی ہوئی ہوں اور اس بات پر اللہ پاک کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں.ڈاکٹر جاسم : اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دوطالبہ :

جی بالکلڈاکٹر جاسم : اگر تمہارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب اخذ کرو گی؟ طالبہ: میں کچھ کچھ سمجھی نہیں.

ڈاکٹر جاسم : اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنا یونیورسٹی گریجوایشن کی ڈگری دکھاؤ. آپ نے پھر کہا: یا میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ. آپ نے پھر کہا: یا پھر میں تمہیں یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ- تو تم کیا نتیجہ اخذ کرو گی؟طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجونگی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں. اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں.ڈاکٹر جاسم : بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ لیا ہے.طالبہ: لیکن آپ کی اس منطق کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیئے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں.طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟ڈاکٹر جاسم : اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب – الجلباب – الخمار) سے بیان فرمایا ہے جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے. تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھو گی پھر؟طالبہ : خاموشڈاکٹر جاسم : یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو. طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مزید وضاحت طلب ہے.ڈاکٹر جاسم : پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں – وليضربن بخمرهن على جيوبهن) باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں – یايها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن)اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (گر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو – وإذا سألتموهن متاعا فأسالوهن من وراء حجاب} ڈاکٹر جاسم :

کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟ طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے. ڈاکٹر جاسم : ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو.عربی گرایمر مین “الخمار” اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو. اور “الجلباب” ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں. فی زمانہ اس کی بہترین مثال مراکشی عورتوں کی قمیص ہے جس پر ھُڈ بھی بنا ہوا ہوتا ہے.تاہم “حجاب” کا مطلب تو وییسے ہی پردہ ہی بنتا ہے.طالبہ: جی میں سمجھ رہی ہوں کہ مجھے پردہ کرنبا ہی پڑے گا.ڈاکٹر جاسم : ہاں، اگر تیرے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے تو.اور ایک اور بات جان لے کہ: لباس دو قسم کے ہوتے ہیں:پہلا جو جسم کو ڈھانپتا ہے. یہ والا تو فرض ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے.دوسرا وہ جو روح اور دل کو کو بھی ڈھانپتا ہے. یہ دوسرے والا لباس پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ : ً(اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے – ولباس التقوى ذلك خير).ہو سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایسا لباس تو پہن رکھا ہو جس سے اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو لیکن اس نے تقویٰ کا لباس نا اوڑھ رکھا ہو. تو ٹھیک طریقہ یہی ہے کہ وہ دونوں لباس زیب تن کرے.دن کی بہتر ین

..

ﺑُﺖ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﮬﻦ

ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﮑّﺮ ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ :” ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺒﺪ ﮐﮯ ﮐﺎﮬﻦ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻋﻈﯿﻢ ﺑُﺖ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﮮ. ﺁﭖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﺩﯾﮟ.

“ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﻌﺒﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮑﮍ ﻟﺌﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺮﯼ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﮮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮪ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ.

ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑُﺖ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﮬﻦ ﺑﮍﮮ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﺑُﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺘّﮭﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ. ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒّﺖ ﮬﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒّﺖ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﮔﻠﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﻟﮩﺎﻧﮧ ﭼﻮﻡ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺍِﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻣﻌﺒﺪﮐﺪﮮ ﮐﮯ ﺑُﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﮬﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﯽ ﮬﮯ. ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ؟ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ” ﮐﺎﮬﻦ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮬﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺒﺪ ﮐﮯ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮﯾﻦ ﮬﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ. ” ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ” ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﭽّﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮﯾﻦ ﮬﺴﺘﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮬﮯ؟ ﺍِﺳﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ہلاﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﺍﮦ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ.

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﮬﺴﺘﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﯾﺰ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺗﻮ ﭘﺘّﮭﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﮬﻦ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽّﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺗُﻞ ﮔﺌﯽ ﮬﻮ. ﯾﮧ ﺑُﺖ ﺍﺣﻤﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ، ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺰﯾﺰﺗﺮﯾﻦ ﮬﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ. ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﺎﮬﻦ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﮧ ﮬﻮ ﮐﮧ ﺑُﺖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺧﻔﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺟﮩﻨّﻢ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ. ” ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﭽّﯽ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺮﯼ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﺎﮬﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﯼ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﯽ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ. ﮐﮩﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﮬﻦ ﺍُﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺁﮔﺎﮬﯽ ﮐﻮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺣﺪ ﮔﻨﺎﮦ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﮬﮯ. [ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪّﯾﻦ ﻣﺤﻤّﺪ ﺑﻠﺨﯽ ﺭﻭﻣﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ” ﻣﺜﻨﻮﯼؑ ﻣﻌﻨﻮﯼ ” ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﺎﯾﺖ ]

..

تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا

ایک دفعہ رسول اللهﷺ تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین بھی آپﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے .نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللّه تعالیٰ نے مجھ پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نہیں کئے .

اور اگر یہ سورہ انجیل میں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص نصرانی نہ ہوتا .اور اگر یہ سورۃ زبور میں ہوتی تو حضرت داؤد علیہ السلام کی امت میں کوئی کوئی امت میں کوئی شخص مغ ( بت خانہ کا خادم ) نہ ہوتا .یہ سورۃ میں نے قرآن میں اس لیے اتاری ہے کہ آپ کے امتی اس سورہ کی تلاوت کی برکت سے قیامت کے روز دوزخ کے عذاب سے اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچ جائیں . جبرائیل علیہ السلام نے مزید فرمایا اے محمد ﷺ!اس خدا کی قسم جس نے آپؐ کو تمام کائنات کے لئے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے اگر روئے زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام عالم کے درخت قلم بن جائیں اور سات آسمان اور سات زمینیں کاغذ بن جائیں

پھر بھی ابتدائے عالم سے قیامت تک لکھتے رہنے کے باوجود اس سورۃ کی فضیلتیں نہیں لکھی جا سکیں گی. یہ سورہ فاتحہ ہے. سورۃ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے .جو بیماری کسی علاج سے ٹھیک نہ ہوتی ہو تو سورہ فاتحہ کو صبح کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان بسم اللہ شریف کے ساتھ اکتالیس بار پڑھے اور پھونک مارے اللّه تعالیٰ اسے اس سورۃ کی برکت سے شفا بخشیں گے نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں.

..

اپنی کمزوریوں کو طاقت بنائیں

ایک اسی سالہ اندھا بھکاری حضرت شیخ سعدی شیرازی ؒ کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہہ رہا ہوتا ہے کہ کاش مجھے اتنی تکلیف والی زندگی نہ ملتی،آپؒ دستک سن کر دروازے پر آتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ آئے تو تم بھیک مانگنے ہو لیکن یہ کیا بات کر رہے ہو؟ بھکاری نے جواب دیا کہ میں مانگنے نہیں آیا، میرا ایک سوال ہے اس کا جواب چاہیے.آپؒ نے پوچھا کیا سوال ہے؟

اس نے کہا کہ میری اسی سال عمر ہو گئی ہے لیکن مجھ سے زیادہ بھی بدقسمت کوئی ہو سکتا ہے؟ آپ ؒ نے پوچھا کہ تجھے یہ خیال کیسے آیا کہ تو بدقسمت ہے؟اس نے کہا کہ میری بدقسمتی کی وجہ یہ ہے کہ میری اسی سال عمر ہے لیکن اتنی عمر گزر جانے کے باوجود بھی دنیا کو دیکھنے سے محروم ہوں، سے محروم ہوں، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ آپؒ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ تم سے بڑا بدقسمت وہ ہے جس کے پاس آنکھوں کی بصارت تو ہے لیکن زندگی میں بصیرت نہیں ہے.

جو لوگ محرومیوں کے باوجود کچھ کر کے دکھاتے ہیں، مغربی معاشرے میں ایسے لوگوں کو بہت پروموٹ کیا جاتا ہے،

انہیں بیشمار سہولیات دی جاتی ہیں، وہ سہولیات اچھے روزگار کی صورت میں بھی ہوتی ہیں اور عزت کی صورت میں بھی. ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو محرومیوں کے باوجود کچھ کر کے دکھاتے ہیں، ان کو پروموٹ نہیں کیا جاتا. ہم سمجھتے ہی نہیں کہ ہمیں جو رزق مل رہا ہے، وہ شاید انھی لوگوں کی وجہ سے مل رہا ہو،

..