عالمہ سے شادی اور پھر کیا ہوا؟

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽﻟﯿﮑﻦ کچھ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ہم ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ہوا ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ؟

ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مدد ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ کچھ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ – ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ہے – ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ہوﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ

ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭہا ہوﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭہے گی – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ہی ﺭہوﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ.

. .

وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے

جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو حقیقت میں ایک ایسے ضابطہ حیات کی بات کرتے ہیں جو ہمیں زندگی گذارنے کی تعلیم دیتا ہے- اسلام میں خاندان کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے اسی لیے اسلام میں کچھ ایسے رشتے ہیں جن کے ساتھ نکاح سے صریحا” منع کیا گیا ہے، آئیے ایسی عورتوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے ساتھ اسلام نکاح کی اجازت نہیں دیتا- (۲۳۴۴)ان عورتوں کے ساتھ جو انسان کر محرم ہوں ازدواج حرام ہے ،مثلاً ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ،بھیتجی، بھانجی،ساس. (۲۳۴۵)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے چا ہے اس کے ساتھ جماع نہ بھی کرے تو اس عورت کی ماں ،نانی،اور دادی اور جتنا سلسلہ اوپر چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہیں.

(۲۳۴۶)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ ہم بستری کرے تو پھر اس عورت کی لڑکی،نواسی، اور جتنا سلسلہ نیچے چلا جائے سب عورتیں اس مرد کی محرم ہو جاتی ہیں خواہ وہ عقد کے وقت موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں.

(۲۳۴۷)اگر کسی مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا ہو لیکن ہم بستری نہ کی ہو تو جب تک وہ عورت اس کے نکاح میں رہے… احتیاط واجب کی بنا پر…اس وقت تک اس کی لڑکی سے ازدواج نہ کرے. (۲۳۴۸)انسان کی پھوپھی اور خالہ اوراس کے باپ کی پھوپھی اور خالہ اور دادا کی پھوپھی اور خالہ باپ کی ماں(دادی)اور ماں کی پھوپھی اور خالہ اور نانی اور نانا کی پھوپھی اور خالہ اور جس قدریہ سلسلہ اوپر چلا جائے سب اس کے محرم ہیں. (۲۳۴۹)شوہر کا باپ اور دادا اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائے اور شوہر کا بیٹا،پوتا اور نواسا جس قدر بھی یہ سلسلہ نیچے چلا جائے اور خواہ وہ نکاح کے وقت دنیا میں موجود ہوں یا بعد میں پیدا ہوں سب اس کی بیوی کے محرم ہیں. (۲۳۵۰)اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو خواہ وہ نکاح دائمی ہو یا غیر دائمی جب تک وہ عورت اس کی منکوحہ ہے وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا. (۲۳۵۱)اگر کوئی شخص اس ترتیب کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے مسائل میں کیا جائے گا اپنی بیوی کو طلاق رجعی دے دے تو وہ عدت کے دوران ان کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا لیکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے اور متعہ کی عدت کے دوران احتیاط واجب یہ ہے کہ عورت کی بہن سے نکاح نہ کرے. (۲۳۵۲)انسان اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی سے شادی نہیں کرسکتا لیکن اگر وہ بیوی کی اجازت کے بغیر ان سے نکاح کر لے اور بعد میں بیوی اجازت دیدے تو پھر کوئی اشکال نہیں . (۲۳۵۳)اگر بیوی کو پتا چلے کہ اس کے شوہر نے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کر لیا ہے اور خاموش رہے تو اگر وہ بعد میں راضی ہو جائے تو نکاح صحیح ہے اور اگر رضامند نہ ہو تو ان کا نکاح باطل ہے. (۲۳۵۴)اگرانسان خالہ یا پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرنے سے پہلے(نعوذ باللہ) خالہ یا پھوپھی سے زنا کرے تو پھر وہ اس کی لڑکی سے احتیاط کی بنا پر شادی نہیں کر سکتا. (۲۳۵۵)اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی کی لڑکی یا خالہ کی لڑکی سے شادی کرے اور اس سے ہم بستری کرنے کے بعد اس کی ماں سے زنا کرے تو یہ بات ان کی جدائی کاموجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح کے بعد لیکن جماع کرنے سے پہلے اس کی ماں سے زنا کرے تب بھی یہی حکم ہے.اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق دے کہ اس سے (یعنی پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہن سے )جدا ہو جائے. (۲۳۵۶)اگر کوئی شخص اپنی پھوپھی یا خالہ کے علاوہ کسی اور عورت سے زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی نہ کرے بلکہ اگر کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے ا سکی بیٹی کے ساتھ پہلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے.لیکن اگر اس کے پہلے اس کی ماں کے ساتھ زنا کرے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے.لیکن اگر اس کے ساتھ جماع کرلے او ربعد میں اس کی ماں سے زنا کرے تو بے شک عورت سے جدا ہونا لازم نہیں. (۲۳۵۷)مسلمان عورت کافر مرد سے نکاح نہیں کر سکتی.مسلمان مرد بھی اہل کتاب کے علاوہ کافر عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتا.لیکن یہودی اور عیسائی عورتوں کی مانند اہل کتاب عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر ان سے دائمی عقد نہ کیا جائے اور بعض فرقے مثلاً ناصبی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ،کفار کے حکم میں ہیں اور مسلمان مرد اور عورتیں ان کے ساتھ دائمی یا غیر دائمی نکاح نہیں کر سکتے. (۲۳۵۸)اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے زنا کرے جو رجعی طلاق کی عدت گزاررہی ہو تو… احتیاط کی بنا پر… وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے اور اگر ایسی عورت کے ساتھ زنا کرے جو متعہ یا طلاق بائن یا وفات کی عدت گزاررہی ہو تو بعد میں اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سے شادی نہ کرے.رجعی طلاق اور بائن طلاق اور متعہ کی عدت اور وفات کی عدت کے معنی طلاق کے احکام میں بتائے جائیں گے. (۲۳۵۹)اگر کوئی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کرے جو بے شوہر ہو مگر عدت میں نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر تو بہ کرنے سے پہلے اس سے شادی نہیں کر سکتا.لیکن اگر زانی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص(اس عورت کے)توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے تو کوئی اشکال نہیں. مگر اس صورت میں کہ وہ عورت زنا کار مشہور ہو تو احتیاط کی بنا پر اس (عورت) کے توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے.اسی طرح کوئی مرد زنا کار مشہور ہو تو توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زنا کار عورت سے جس سے خود اس نے یا کسی دوسرے نے منہ کالا کیا ہو شادی کرنا چاہے تو حیض آنے تک صبر کرے اور حیض آنے کے بعد اس کے ساتھ شادی کرلے. (۲۳۶۰)اگر کوئی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے جو دوسرے کی عدت میں ہو تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئی ایک جانتا ہو کہ عورت کی عدت ختم نہیں ہوئی اور یہ بھی جانتے ہوں کہ عدت کے دوران عورت سے نکاح کرنا حرام ہے تو اگرچہ مرد نے نکاح کے بعد عورت سے جماع نہ بھی کیا ہو تو وہ عورت ہمیشہ کیلئے اس پر حرام ہو جائے گی اور اگر دونوں اس سے بے خبر ہوں کہ عدت کے دوران ہونے یا عدت میں نکاح کے حرام ہونے سے تو دونوں کا نکاح باطل ہے،اگر ہمبستری بھی کی ہے تو ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائیں گے.اگر ہمبستری نہ کی ہو تو عدت کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں. (۲۳۶۱)اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عورت شوہر دار ہے اور(اس سے شادی کرنا حرام ہے)اس سے شادی کرے تو ضروری ہے کہ اس عورت سے جدا ہو جائے اور بعد میں بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہیے. اگر اس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ عورت شوہر دار ہے لیکن شادی کے بعد اس سے ہم بستری کی ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے. (۲۳۶۲)اگر شوہر دار عورت زنا کرے تو ..احتیاط کی بناپر.. وہ زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو جاتی ہے.لیکن شوہر پر حرام نہیں ہو تی اور اگر توبہ واستغفار نہ کرے اور اپنے عمل پر باقی رہے(یعنی زنا کاری ترک نہ کرے)تو بہتر یہ ہے کہ اس کا شوہر اسے طلاق دیدے

لیکن شوہر کو چاہیے کہ اس کا مہر بھی دے. (۲۳۶۳)جس عورت کو طلاق مل گئی ہو اور جوعورت متعہ میں رہی ہو اور اس کے شوہر نے متعہ کی مدت بخش دی ہو یا متعہ کی مدت ختم ہو گئی ہو اگر وہ کچھ عرصے کے بعد دوسرا شوہر کرے اور پھر اسے شک ہو کہ دوسرے شوہر سے نکاح کے وقت پہلے شوہر کی عدت ختم ہوئی تھی یا نہیں تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے. (۲۳۶۴)اغلام کروانے والے لڑکے کی ماں،بہن،اور بیٹی اغلام کرے والے پر.. جبکہ(اغلام کرنے والا)بالغ ہو… حرام ہو جاتے ہیں… اگر اغلام کروانے والا مرد ہو یا اغلام کرنے والا نابالغ ہو تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے.لیکن اگر اسے گمان ہو کہ دخول ہوا تھا یا شک کرے کہ دخول ہو ا تھا یا نہیں تو پھروہ حرام نہیں ہوں گے. (۲۳۶۵)اگر کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور شادی کے بعد اس عورت کے باپ، بھائی یا بیٹے سے اغلام کرے تواحتیاط کی بنا پر وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے. (۲۳۶۶)اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں جو اعمال حج میں سے ایک عمل ہے کسی عورت سے شادی کرے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اسے علم تھا کہ کسی عورت سے احرام کی حالت میں نکاح کرنا اس پر حرام ہے تو بعد میں وہ اس عورت سے کبھی بھی شادی نہیں کر سکتا چاہے عورت احرام میں نہ ہو. (۲۳۶۷)جو عورت احرام کی حالت میں ہو اگر وہ ایک ایسے مرد سے شادی کے جو احرام کی حالت میں نہ ہوتو اس کا نکاح باطل ہے اوراگر عورت کو معلوم تھا کہ احرام کی حالت میں شادی کرنا حرام ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ بعد میں اس مرد سے شادی نہ کرے. (۲۳۶۸)اگر مردیا عورت طواف النساء نہ بجالائیں جو عمرہ مفردہ کے اعمال میں سے ایک ہے تو ایسے مرد عورت کے لئے جنسی لذت کا حصول جائز نہیں رہتا. یہاں تک کہ وہ طواف النساء بجالائیں.لیکن اگر حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام سے خارج ہونے کے بعد شادی کرے تو صحیح ہے چاہے طواف النساء انجام نہ دیا ہو . (۲۳۶۹)اگر کوئی شخص نابالغ لڑکی سے نکاح کرے تواس لڑکی کی عمر نو سال ہونے سے پہلے اس کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے.لیکن اگر جماع کرے تو اظہر یہ ہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے کے بعد اس سے جماع کرناحرام نہیں ہے خواہ اسے افضاء ہی ہوگیاہو..افضاء کے معنی مسئلہ۲۳۴۰میں بتائی جا چکے ہیں.. لیکن احوط یہ ہے کہ اسے طلاق دے دے. (۲۳۷۰)جس عورت کو تین طلاق دی جائے وہ شوہر پر حرام ہو جاتی ہے.ہاں اگرا ن شرائط کے ساتھ جن کاذکر طلاق کے احکام میں کیا جائے گا وہ عورت دوسرے مرد سے شادی کرے تو دوسرے شوہر کی موت یا اس سے طلاق ہو جانے کے بعد اور عدت گزر جانے کے بعد اس کا پہلا شوہر دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کر سکتاہے.

وہ عورت جس کو قبر نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا

کراچی کے ایک گورکن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک دفعہ زنانہ میت کیلئے قبر کھودنے لگا لیکن جیسے ہی یہ کام ختم ہونے لگتاتو زمین سکڑ جاتی ، پورادن یہی ہوتارہا اور پھر جنازہ آگیا، ورثاءکو بتایا تو کہنے لگے یہ عورت دراصل بدکلام اور شوہر کی نافرمان ہے ، پھر شوہر نے سرہانے کھڑا ہوکر اسے معاف کیاتو فوری قبرتیار ہوگئی، اس قبر پر آج بھی شرم کے مارے کسی نے کتبہ نہیں لگایا البتہ مرحومہ کا شوہر آج بھی کبھی کبھار قبر پر آکر فاتحہ خوانی کرجاتاہے . مبارک علی شاہ عرف مولا مددقبرستان کے 25 سالہ گورکن ذاکر نے بتایاکہ اسے ایک مرتبہ ایک عورت کی قبر تیار کرنے کو کہا گیا.

اس وقت اس کے دادا بھی زندہ تھے. وہ ان کے ساتھ صبح سے قبر کی تیاری میں لگ گیا، کیونکہ ظہر کے بعد میت قبرستان آنا تھی لیکن حیرت انگیز طور پر قبر تیار نہیں ہورہی تھی ،

جیسے ہی کام ختم ہونے لگتا، زمین سکڑ جاتی. قبر کو کئی بار چوڑا کیا گیا، لیکن بار بار زمین تنگ ہوجاتی تھی، اسی اثناءمیں جنازہ بھی آگیا، جب ان لوگوں کو صورتحال بتائی تو پتہ چلا کہ مرنے والی عورت شوہر کی نافرمان اور اس سے سخت بدکلامی بھی کرتی تھی، اس کا شوہر بہت دین دار اور والدہ کا فرمانبردار تھا اور یہ بات بیوی کو سخت ناگوار گزرتی تھی. خاندان کے بزرگ اس کو سمجھاتے تو وہ ان سے بھی جھگڑا کرتی تھی. روزنامہ امت کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا کہ جب میت کا آخری دیدار کیا تو اس مرنے والی عورت کے چہرے پر اذیت کے تاثرات تھے. ذاکر نے بتایا کہ شام تک اس کیلئے قبر کھودی جاتی رہی لیکن ہر بار زمین تنگ پڑجاتی.

یہ دیکھ کر جنازے میں شامل لوگ استغفارپڑھتے رہے. پھر ایک روحانی عامل کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ شوہر میت کے سرہانے کھڑے ہوکر اسے صدق دل سے معاف کرے. شوہر نے ایسا ہی کیا. اسکے بعد قبر باآسانی تیار ہوگئی. ذاکر کا کہنا تھا کہ ورثا اس واقعے سے اس قدر شرمندہ تھے کہ انہوں نے قبر پر نام کا کتبہ کبھی نہیں لگوایا. اب کبھی کبھار اس کا شوہر آکر قبر پر فاتحہ خوانی کرجاتا ہے.

..

مسلمانوں پرمظالم اورنائن الیون ،،کیاحقیقت کیاافسانہ ؟؟

وائٹ ہاؤس یا10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بیٹھنے والے اصل حکمران نہیں، بینکاری اورسودی نظام خالق چندخاندانوں کی دنیا پرحکومت ہے، نائن الیون امریکی ایجنسیوں نے انہی خاندانوں کے کہنے پربرپاکیا، مسلمانوں پرمظالم جاری ہیں،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا،

دنیامیں قوت،عزت اور دولت کاصرف ایک وسیلہ علم ہے ،ہرشخص پرعلم حاصل کرنافرض ہے،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا.خدانے کائنات میں ایک نظام رائج کردیاہے کہ دنیاکی تمام نعمتیں اس قوم کوملیں گی جس کو نئے علوم کی تخلیق پردسترس حاصل ہوگی،قرآن پاک کی ساڑھے سات سوآیات ہمیں ہدایت کررہی ہیں کہ فطرت کامشاہدہ کرو،فطرت کامشاہدہ کرناہم پرفرض ہے

آج دنیابھرمیں مسلمانوں پرمظالم کاسلسلہ جاری ہے. مسلمانوں پر ظلم وستم ،اذیتیں،قتل وغارت،غلاموں جیسا سلوک،جہالت،غربت وافلاس،بیماریاں،زلزلے ،سیلابوں کی تباہ کاریاں دراصل اللہ کے احکامات سے روگردانی کرنے کانتیجہ ہے. مسلم ممالک میں جو دولت مندہیں وہاں کے حکمران عیاش ہیں،جبکہ جوممالک پسماندہ یا ترقی پذیرہیں وہاں کے حکمران کرپٹ ہیں.عیاشیوں اور کرپشن سے سراٹھانے کی فرصت ہی نہیں کہ نئے علوم کی تحقیق کیلئے ریسرچ کوپروموٹ کیاجائے،پاکستان کودیکھاجائے تو تعلیم و تحقیق پر 2فیصدسے بھی کم خرچ کیاجاتاہے،تعلیمی میدان میں ترقی کیلئے وفاقی بجٹ میں تعلیم و تحقیق کیلئے کل قومی پیداوار کا کم ازکم 4فیصد مختص کرناچاہیے.اسی طرح مسلم اسکالرزکی تعلیم وتحقیق کیلئے مشترکہ لیبارٹریاں قائم کی جاتیں.ہمارے پاس علم اور اتحادکی طاقت ہوتوخداکی تمام نعمتیں ہمیں میسرہوں گی،پھردنیابھی ہماری مطیع ہوگی .پھر کشمیر،فلسطین،برما،شام،عراق ،افغانستان،یمن،نائیجیریاسمیت کہیں بھی مسلمانوں پرظلم نہیں ہوگا.دشمن ہمارے تیوردیکھ کر ہی مسلمانوں کے قابض علاقے ہمارے حوالے کردے گا.اللہ کامسلمانوں پربہت بڑاانعام ہے کہ مقدس کتاب قرآن پاک ہمارے پاس خزانہ ہے.اس پاک کتاب میں دنیاکے تمام مسائل کاعلاج موجودہے.لیکن ہم نے اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کامشاہد ہ کرناچھوڑدیاہے،جبکہ ہمارے دشمنوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب سے استفادہ حاصل کیااور ہم پرمسلط ہوگئے.مسلمانوں کونہ صرف اسلامی تعلیمات سے دورکردیابلکہ فرقہ واریت،رنگ و نسل جیسے مسائل میں کہیں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروایاجاتاہے ،کہیں موم مقاصد کے حصول کیلئے دہشتگردی کے نام پرمسلم ممالک پریلغارکی جاتی ہے.دراصل طاقتوردشمن مسلمانوں کے گردگھیراتنگ کررہے ہیں،ہرایک کی باری لگادی گئی ہے.باری باری سب کی باری آئے گی،لیکن ہماری مسلم قیادت کوکب عقل آئے گی؟ترکی کے صدرطیب اردوان کی جرات کوسلام،کہ جنہوں نے مسلم لیڈرہونے کاثبوت دیااور میانمارصدرکوللکارا،روہنگیامسلمانوں کی امدادکیلئے 10لاکھ ٹن خوراک بھیجی.ترکی کی خاتون اول خود امداددینے بنگلادیش روہنگیامسلمانوں کے کیمپوں میں گئیں.دیکھاجائے توصرف برما میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر،فلسطین،صومالیہ، عراق ،افغانستان، شام، مصرودیگرمسلمان ریاستوں میں خون ریزی کاگرم بازارہماری تفریق کاشاخسانہ ہے.جبکہ ایسے میں اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی کسی مذاق سے کم نہیں،کیونکہ ہم طاقتوراور صاحب علم اقوام کیلئے کیڑے مکوڑے بن چکے ہیں،اسی لیے ہمارے ساتھ غلاموں جیساسلوک کیاجاتاہے.ایک میڈیارپورٹ کے مطابق شام میں چھ سال سے جاری جنگ میں 4لاکھ 65ہزارکے قریب افراد جاں بحق اور 10لاکھ کے لگ بھگ زخمی ہوئے جبکہ 120لاکھ افرادبے گھرہوگئے.نائن الیون کے بعد افغانستان میں جاری جنگ میں 60ہزارسے زائد جاں بحق اور 120بے گھرہوئے.چین کے سنکیانگ صوبے میں 80لاکھ مسلمان آبادہیں،2009ء سے تصادم میں 200کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں.نائیجیریا میں مئی 2011ء سے اب تک 51567جاں بحق ہوچکے ہیں.بوکوحرام میں 19لاکھ افرادبے گھرہوگئے.عراق میں2014ء سے 33لاکھ لوگ بے گھراور 27ہزارجاں بحق ہوگئے.فلسطین میں 45لاکھ سے زائد مسلمان بے گھرہیں.یمن میں 13ہزارسے زائد جاں بحق اور 31لاکھ بے گھر.لیبیا میں خانہ جنگ کے باعث 4لاکھ لوگ بے گھرہوگئے ہیں.مقبوضہ کشمیرمیں 47ہزارسے زائد لوگ شہیدہوچکے ہیں.اسی طرح میانمارمیں ریاستی مظالم کے باعث10لاکھ افرادملک چھوڑچکے ہیں،ایک لاکھ چالیس ہزارافراداپنے ہی ملک میں دربدرہیں جبکہ ایک ہزارسے زائد بے دردی کے ساتھ ماردیے گئے.ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ روہنگیامسلمانوں پرمیانمارفوج نے بدترین مظالم کا نشانہ بنایا.بنگلادیش میں پناہ گزینوں کی تعداد2لاکھ 90ہزارتک پہنچ گئی ہے.اقوام متحدہ نے 3لاکھ روہنگیامسلمانوں کی امدادکیلئے 70لاکھ ڈالرزسے ابتدائی فنڈزقائم کردیاہے.پاکستان میں روہنگیامسلمانوں کے حق میں بھرپورآوازبلندکی گئی.

جس کے بعد ہمارے بے حس حکمرانوں کوبرمی سفارتکارکودفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈکروانے کی توفیق ہوئی.میانمارسمیت دنیابھرمیں مسلمانوں کابے رحمی کیساتھ قتل عام جاری ہے،لاکھوں کی تعدادمیں مسلمان بے گھرہوچکے ہیں.دنیامیں مسلمانوں پرمظالم ،قتل عام کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے .ایسے میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ،اسلامی تعاون کی تنظیم سمیت45 ممالک پرمشتمل اسلامی اتحادی فوج بھی خاموشی سوالیہ نشان ہے.دوسری جانب نائن الیون کاانتہائی افسوسناک واقعہ ہوتاہے.جب 11ستمبر2001ء میں امریکامیں ورلڈٹریڈسنٹرکودہشتگردی کانشانہ بنایاگیا،دہشتگردی کے نتیجہ میں 3ہزارکے قریب لوگ ہلاک جبکہ 6ہزارسے زائد زخمی ہوگئے.نائن الیون کے تاریخی واقعے کے بعددنیالرزکررہ گئی، امریکا نے فیصلہ کیاکہ دنیابھر میں القاعدہ سمیت دہشتگردوں کو عبرت کانشان بنادیں گے.

امریکی سابق صدرجارج ڈبلیو بش نے حملوں کے ماسٹرمائنڈالقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوٹارگٹ کرنے کامطالبہ کردیا،اسامہ بن لادن امریکاکو1998ء سے مطلوب تھا.تاہم امریکانے اسامہ بن لادن اور دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں 40سے زائد ممالک پرمبنی تعاون حاصل کیااور نیٹوفورسزکے حملوں کے ذریعے افغانستان میں اکتوبر2001ء میں ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم“کاآغاز کردیا.وقت گزرنے کے ساتھ نائن الیون سے متعلق مختلف آراء سامنے آناشروع ہوگئیں.مختصریہ کہ نائن الیون کو”حقیقت یا افسانہ “کانام دیاجانے لگا،یوں نائن الیون مشکوک بنادیاگیا.ڈاکٹرمجاہد کامران اپنی کتاب ون ورلڈگورنمنٹ اورنیوورلڈ آرڈرمیں نائن الیون کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” امریکا سمجھتاہے کہ ایشیائی اوریورپین ممالک پربھی اپناتسلط قائم کرناچاہیے کیونکہ مستقبل میں اگرہمارے غلبے کوکوئی چیلنج درپیش ہوگاتویہیں سے ہوگا.نائن الیون کے بعد اب روس اور چین کے بارڈرپرامریکی فوجیں بیٹھ گئی ہیں.1904ء میں جیوگرافرہیری مکنڈرنے اپنے مقالے میں واضح کیاتھا کہ جویوریشیاء پرحکومت کرے گاوہی دنیاپرحکومت کرے گا.ہیری مکنڈرنے اپنی دوسری کتاب میں دوبارہ اسی بات کودہرایاکہ جوملک یوریشیاء پرحکومت کرے گاافریقہ خود بخود اس کی جھولی میں آگرے گا.یہ ایک ڈکٹیٹرکاخواب ہے ،اس خواب کوپوراکرنے کیلئے دنیاکاخون بہایاجارہاہے.دنیاکے اصل حکمران وائٹ ہاؤس یا10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بیٹھنے والے نہیں ہیں،بلکہ دنیا میں ایک گروہ ہے جوبنی نوع انسان کی دولت کامالک ہے اور وہ اپنی دولت کے بل بوتے پرپوری دنیاپرحکومت کرتاہے ،دنیامیں موجودتیل کی کمپنیاں ،بینکاری اور سودکانظام بھی انہی خاندانوں کامرہون منت ہے.

یہ مالدارخاندان کم ازکم 1773ء سے منظم اندازمیں دنیا میں ایک عالمی حکومت اور ایک عالمی نظام(ون ورلڈگورنمنٹ اورنیوورلڈ آرڈر)قائم کرنے کی مستقل کوشش کررہے ہیں.ان کی اصل قوت بے پناہ دولت ہے جو انہوں نے سودی نظام سے حاصل کررکھی ہے.قرآن پاک میں سودی نظام کو اللہ کے ساتھ جنگ قراردیاگیاہے.یہ دولت منددنیامیں کمزوراقوام کو غلاظت کاڈھیرسمجھتے ہیں اوران پرحکمرانی کرنااپناحق سمجھتے ہیں.مصنفین متفق ہیں کہ نائن الیون امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انہی خاندانوں کے کہنے پربرپاکیاتھا.“امریکا،یورپ کے عوام ہمارے دشمن نہیں نہ ہی ہم ان کے مذہب کے دشمن ہیں.ہندوؤں اور ہمارے دشمنوں میں ایک قدرمشترک ہے کہ دونوں سودخورہیں.دونوں سودی نظام کے ذریعے دنیاکو اپنے طابع کرناچاہتے ہیں.یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم بے علم ہیں.دنیامیں قوت،عزت اور دولت کاصرف ایک وسیلہ علم ہے،ہرشخص پرعلم حاصل کرنافرض ہے،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا.

..

پاک فوج کا وہ شہید کرنل جو پہاڑوں پر مسجدیں بنانے کا شوقین تھا

اپر دیر میں دہشت گردوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ پھٹنے سے پاک فوج کے جنرل ثنااللہ نیازی کے ساتھ کرنل توصیف اور دیگر جانبازوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا تھا .کرنل توصیف کے بھائی کرنل عقیل احمد نے اپنے شہید بھائی کی شخصیت پر ایک دلگداز مضمون لکھا تھا جو آپ کی نذر کیا جارہا ہے.

15ستمبر 2013 بروز اتوار میں معمول کے مطابق ویک اینڈ گزار رہا تھا. ظہر کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بعد گھر واپس آیاہی تھا کہ موبائل پر ایک دوست کی کال آئی. انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں ٹی وی دیکھ رہا ہوں. میں نے نفی میں جواب دیا.بات سن کر میں ٹیلی ویژن کی طرف لپکا.آن کرنے پر بریکنگ نیوز نے جیسے میر ے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی‘ سانس ٹھہر سی گئی‘ کہ اپنے پیارے چھوٹے بھائی کی تصویر کے ساتھ اس کی شہادت کی خبر ہر نیوز چینل پر چل رہی تھی. کچھ دیر تک سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بچھڑنے پر روؤں یا شہید کا بھائی ہونے کے ناطے فخر کروں؟
اس وقت میں ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا کہ فوراً والدین کا خیال آیا اور میں اْن کی طرف روانہ ہوگیا. میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ ٹی وی پر اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر دیکھ چکے تھے. ایک اسلامی گھرانہ ہونے کے ناطے شہادت پر یقین تو سو فیصد تھا اور ہے مگر بھائی کی جدائی کے تصورنے اندر سے توڑ کر رکھ دیا. اس اٹل حقیقت کو قبول کرنے کی طاقت جیسے ختم ہو گئی.
میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں چنانچہ اپنے آپ کو سنبھالا اور والدین کو تسلی دی. اس دوران ایک ہی بات لب پر تھی ’’وہ زندہ ہے وہ زندہ ہے……… شہید زندہ ہے.‘‘
سی ایم ایچ پہنچ کر بھائی کا جسد خاکی لینے کے بعد ایمبولینس میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا. ایک شہید کا چہرہ! وہ سکون کی نیند سویا ہوا تھا اوراْس کے لبوں پر جو مسکراہٹ تھی وہ مجھے آج بھی یاد ہے. اس مسکراہٹ کو دوسرے لوگوں نے بھی محسوس کیا. بھائی کی شہادت نے قرآن اور حدیث میں ایک شہید کے بارے میں بیان کی تمام جہتوں کو میرے سامنے دوبارہ کھول دیا. ہر قدم پر خدا وندکریم نے دکھایا کہ شہید کا مرتبہ کتنا عظیم ہے. ایک شخص جسے اللہ شہادت کے رتبے پر فائز کرتا ہے وہ خدا کو کتنا پیارا ہوتا ہے. اس کے جنازے میں تمام فورسز کے سربراہان کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے بے شمار لوگوں نے شرکت کی.


ہیڈکوارٹرز 10کور کے گراؤنڈ میں تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے. پہلی نماز جنازہ گھر کے قریب پڑھی گئی دوسری نماز جنازہ بھی کچھ کم بڑی نہ تھی. یہ بات خدا نے مجھ پر عیاں کی کہ جس شخص کو اللہ اتنی عزت دیتا ہے اس کی دنیا میں اس کے بندے بھی اتنی ہی عزت دیتے ہیں. اس سے پہلے قبر دیکھ کر مجھ پر خوف کی سی کیفیت طاری رہتی تھی. مگر جب بھائی کی قبر کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو میرا احساس مختلف تھا. اتنی کشادہ اور خوبصورت قبر کہ بیان نہیں کر سکتا اور کیوں نہ ہو وہ زمین بھی رشک کرتی ہے جس میں شہید کو اْتارا جاتا ہے.
وہ کتنا عظیم بھائی تھا کہ جس کی شہادت کے بعد اور تدفین سے پہلے حرم میں اس کے ایصال ثواب کے لئے دعائیں اور طواف شروع ہو گئے.چند قریبی رشتہ دار (خالہ‘ کزن اور دیگر) اس وقت مکہ مکرمہ میں حج کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے. اسے اللہ کے سپرد کرنے کے بعد جب رات گئے چند لمحوں کے لئے آنکھ لگی تو توصیف کو پہلی بار چمکتے ہوئے احرام میں حرمِ پاک میں دیکھا.
میٹرک کے بعد بھائی نے آرمی جوائن کر لی تھی چنانچہ اس کا زیادہ وقت اپنے حلقہ احباب میں گزرا. صرف چھٹی پر ہی ملاقات ہوتی تھی. اس کی زندگی کے کئی ایسے پہلو میرے سامنے آئے جن کے بارے میں‘ میں بہت کم یا بالکل ہی نہیں جانتا تھا. اس کا روم میٹ اور کورس میٹ مسجد کے باہر میرے ساتھ اس عظیم شخص کے بارے میں باتیں کر رہا تھا. اس نے مجھے کہا کہ توصیف کے بارے میں ایک ایسی بات بتاؤں جس کا آپ کو بھی نہیں معلوم ہو گا. ’’وہ ہر نماز کے بعد شہادت کے لئے دعا کرتا تھا.‘‘

 

میرا بھائی شہادت سے کچھ پہلے ڈسٹرکٹ دِیر جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے‘ سے چند دن کی چھٹی آیا ہوا تھا اور والدہ کے ساتھ گھر میں بیٹھا بات چیت کر تے ہوئے کہنے لگا: ’’امی جان اللہ تعالیٰ کا مجھ پر کتنا فضل ہے. اچھا پڑھنے لکھنے کے بعد ایک بہترین پروفیشن کو جوائن کیا. آج اللہ کے فضل سے یونٹ کی کمانڈ کر رہا ہوں. اللہ نے خوب صورت اور محبت کرنے والی بیوی دی اور فرمانبردار اولاد سے نوازا‘ اللہ کی بہت کرم نوازی ہے اور اس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے. بس دو خواہشیں رہ گئی ہیں جسے اللہ پورا فرما دیں. ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ بیٹی عطا کر دے (اس سے پہلے بھائی کے تین بیٹے ہیں) اور دوسری اللہ شہادت کی موت دے.‘‘


والدہ نے جواب دیا ’’ بیٹی کے لئے میں ضرور دعا کروں گی مگر ایک ماں کے لئے دوسری دعا کرنا مشکل ہے‘‘
قبولیت کی گھڑی تھی. اللہ نے کچھ عرصے میں بیٹی عطاکی اور اس کے بعد شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا (سبحان اللہ).
بھائی کی یونٹ 33بلوچ رجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ (2IC) نے کچھ بہترین یادیں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب آخری بار وہ یونٹ سے مالاتر پوسٹ پر جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC)کو receive کرنے نکلے تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہلکے سے مسکرائے اور کہا. ’’Hold the fort for 21 c.‘‘. وہ کئی بار یونٹ سے باہر کسی نہ کسی کام سے جاتے رہے مگر یہ الفاظ انہوں نے پہلی اور آخری بار استعمال کئے.

 

میرے شہید بھائی نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی. یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے سے پہلے راولپنڈی میں پوسٹنگ تھی. یہاں پر اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کا حافظ بھی بناؤں. یہ تو اب سمجھ آتا ہے کہ اس کا ہر قدم اسے اللہ کے نزدیک کر رہا تھا اور اس کی ہر کوشش اس کی خوشنودی حاصل کرنا تھی. آج ماشاء اللہ حمزہ احمد نے مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے اور دوبارہ چھٹی جماعت میں داخلہ لے لیا ہے. حذیفہ احمد (بڑا بیٹا) کے اب صرف چار پارے حفظ کے رہ گئے ہیں اور یوں وہ اپنے پیچھے صدقہ جاریہ کا انتظام کر گیا. خدیجہ (بیٹی ) تو وہ محبت کبھی محسوس نہیں کر سکے گی کہ جس محبت سے اسے توصیف نے اللہ سے مانگا تھا.
کرنل توصیف اپر دِیر کے مقامی لوگوں کا بہت خیال رکھتے تھے. دوردراز علاقہ تھا جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں. کرنل توصیف نے اپنی یونٹ کے ڈاکٹر کو خصوصی ہدایات دی ہوئی تھیں کہ یونٹ میں ہمیشہ اضافی دوائیں موجود ہونی چاہئیں وہMedical Camps کا بھی اہتمام کرتے تھے.جن میں مقامی لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا. گردونواح کے علاقے میں لوگ کرنل توصیف کو ’’میرا کرنل‘‘ کے نام سے پہچانتے تھے. ایک دفعہ وہ بٹالین ہیڈکوارٹرز کی طرف آ رہے تھے جب راستے میں انہیں ایک عمررسیدہ شخص سڑک کے کنارے نظر آیا. اپنی گاڑی روکی اور پوچھا’’ بابا جی آپ کا کیا حال ہے اْمید ہے ٹھیک ہوں گے‘‘

بابا جی نے کہا ’’ نہیں بیٹا تھوڑا بیمار ہوں ‘‘کرنل توصیف اسے بٹالین ہیڈکوارٹرز لے آئے اور ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کروا کر میڈیسن دیں.
33بلوچ رجمنٹ کے نئے کمانڈنگ آفیسر جب کمانڈ سنبھالنے کے بعد اپنے 2ICکے ساتھ اگلی پوسٹوں کا دورہ کرنے نکلے تو راستے میں ایک بزرگ نے گاڑی روکی‘ فرنٹ سیٹ پرکسی اور شخص کو دیکھ کر پوچھا: ’’میرا کرنل کہاں ہے؟‘‘
2IC گاڑی سے اترے اور بزرگ کو بتایا کہ کرنل توصیف شہید ہو گئے ہیں تو بزرگ نے کہا. ’’میرا سب کچھ ختم ہو گیا.‘‘ بعد میں معلوم ہوا کہ کرنل توصیف شہید اپنے طور پر اس بزرگ کی مختلف طریقوں سے مدد کیا کرتے تھے.
کرنل توصیف شہید انتہائی ایماندار اور دیانتدار انسان تھے. باقاعدگی سے پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے. ہر جوان کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے انہوں نے یونٹ کے خطیب صاحب کو حکم دیا کہ یونٹ کے ہر جوان کو نماز (ترجمہ کے ساتھ) چھہ کلمے‘ نماز جنازہ اور قرآن کی آخری دس سورتیں زبانی یاد ہونی چاہئیں. زیادہ سے زیادہ مسجدیں تعمیر کرنا ان کی ہمیشہ ترجیح رہی. بٹالین ہیڈکوارٹرز شاہی کوٹ میں خوبصورت مسجد تعمیر کروائی. اس کے علاوہ کئی فارورڈ پوسٹوں‘ جن کی اونچائی دس ہزار فٹ سے بلند ہے‘ پر بھی مساجد تعمیر کروائیں. ایک دفعہ وہ سِپرکا سر (Spirkasar) پوسٹ پر تشریف لائے تو مسجد بنانے کی خواہش ظاہر کی. جوانوں نے کہا کہ ایک تو یہاں پانی کی قلت ہے اور دوسرا ڈیوٹی سخت ہونے کی وجہ سے کم فوجی نماز پڑھنے کے لئے آئیں گے.

کرنل توصیف نے کہا ’’مسجد بنانا شروع کرو پانی بھی مل جائے گا اور نمازی بھی آ جائیں گے‘‘ آج الحمداللہ اس مسجد میں پانچ وقت باقاعدگی سے نماز پڑھی جاتی ہے.
بھائی کی شہادت کے بعد اپنے کئی رشتہ داروں سے معلوم ہوا کہ کرنل توصیف باقاعدگی سے ٹیلیفون کال کر کے اْن کا حال احوال جانا کرتا تھا. خاص طور پر خاندان کی چند بیواؤں سے ہمیشہ فون کر کے ان کی خیریت دریافت کرتا اور مسائل پوچھتا. خاندان اور گاؤں والوں کی مددد کرنا اسے اچھا لگتا تھا. اس نے کئی لڑکوں کی روزگار حاصل کرنے میں مدد بھی کی جو آج اس کے لئے صدقہ جاریہ ہے.
ہمارے خاندان کے سب سے بڑی اور بزرگ شخصیت نے ایک دن والدہ سے کہا ’’ کرنل عقیل (راقم) کرنل توصیف نہیں بن سکتا؟‘‘
والدہ نے پوچھا ’’ آپ یہ بات کیوں کر رہے ہیں ‘‘
انہوں نے بتایا ’’ کرنل توصیف باقاعدگی سے مجھے فون کر کے میری خیریت دریافت کیا کرتا تھا‘‘ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ میرے شہید بھائی کوخاندان اور اس کی اہمیت کا کتنا احساس اور ادراک تھا.
بھائی کی شہادت کے بعد میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا. میں نے کچھ وقت لیا کیونکہ دل میں خوف تھا کہ میں اس کی جگہ کیسے لے سکوں گا. وہ ایک ذمہ دار خاوند اور شفیق باپ تھا. بہرحال ہمت کر کے میں نے توصیف کی فیملی کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانے سے متعلق کچھ امور نمٹانے شروع کئے. اس کوشش کے دوران کئی واقعات پیش آئے‘ جن کا میری زندگی پر گہرا اثر ہے‘ جس آفیسر کو ملا‘ جس آفس میں گیا‘ مجھے احساس ہوا کہ میرا تعارف تبدیل ہو گیا ہے، اب میں اپنے آپ کو شہید کے بڑے بھائی کے ناتے تعارف کروانے میں زیادہ فخر محسوس کرتا ہوں. بالکل اسی طرح جیسے ہماری فیملی کی شناخت بھی ایک عظیم شہید کے ساتھ منسلک ہو گئی ہے. مختلف کاموں کے دوران کئی سینئرآفیسرز نے گائیڈ بھی کیا. اس رہنمائی کی روشنی میں، میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بھابھی کی طرف سے ایجوٹینٹ جنرل (AG)کو ایک درخواست لکھوں جس میں ممکنہ مسائل کے حل کی تجاویز دوں. یہ تجاویز لے کر میں AGبرانچ پہنچ گیا. انتظار کے دوران میرا تعارف ایک اور سینئر آفیسر سے کرنل توصیف شہید کے بڑے بھائی کے طور پر کرایا گیا. ان سینئر آفیسر نے مجھ سے کرنل توصیف کے بارے میں بات چیت شروع کر دی جو کافی دیر جاری رہی. اس دوران انہوں نے مجھے چند اقدامات کے بارے میں بتایا جوپاک فوج توصیف شہید کی فیملی کے لئے کرنے جا رہی تھی. میں ان کی باتیں سنتا رہا اور اندر ہی اندر حیران ہوتا رہا کیونکہ پاک فوج نے ہمارے تجاویز شدہ تقریباً تمام اقدامات یا تو شروع کر دیئے تھے یا اْن کے بارے میں پلاننگ کر لی تھی. ان کی بات ختم ہونے پر میں نے اپنی تجاویز والا خط واپس جیب میں ڈالا اور اجازت چاہی. انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ تو AGسے ملنے آئے تھے میں نے جواب دیا ’’ سر مجھ سے پہلے ہی پاک آرمی نے خود کرنل توصیف شہید کے سب کام سنبھال لئے ہیں‘‘
بھائی کی شہادت سے دو تین روز پہلے اس نے مجھے فون کیا اور بہت دیر تک مجھ سے اپنی فیملی کے بارے میں مشورہ کیا. وہ ان کے لئے راولپنڈی میں مستقل رہائش کا بندوبست کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ ایک Settled زندگی گزار سکیں. اس کی بڑی وجہ دونوں بیٹوں کا قرآن پاک حفظ کرنا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ان کی دینی تعلیم میں کوئی حرج نہ ہو. مجھ سے کئی Options ڈسکس کئے اور کچھ باتوں کا پتا کرنے کے لئے کہا تاکہ آنے والی چھٹی میں وہ ان کے لئے کوئی مستقل بندوبست کر سکے. مجھے اس وقت گمان بھی نہیں تھا کہ وہ یہ تمام ذمہ داریاں میرے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا. ہم دونوں بھائیوں میں ایک گہرا رشتہ تھا وہ زندگی کے ہر موڑ پر مشورے کے ساتھ چلتا تھا.
میں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کور آف انجینئرز کو جوائن کیا مگر بھائی نے انفنٹری کو ترجیح دی. میں اس سے چھ کورس سینئر تھا مگر میری employment کچھ ایسی رہی کہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپسی پر ہم دونوں اکٹھے پروموشن بورڈ میں Considerہوئے. وہ مجھ سے مذاق میں کہا کرتا تھا ’’ بھائی میں آپ سے پہلے پروموٹ ہو جاؤں گا اور پھر آپ مجھے سلیوٹ کیا کریں گے‘‘ اس نے شہادت کا ایسا رتبہ حاصل کر لیا کہ نہ صرف وہ ہم سب سے ہر لحاظ سے آگے نکل گیا بلکہ میں کیا اس پوری قوم نے اسے سلیوٹ کیا. اس نے اس قوم کے ہر فرد کے دل میں جگہ بنا لی جو دل کی گہرائیوں سے اس کی عظیم قربانی کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں.
عسکری کالونی میں ہمارا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہے یعنی پہلے گھر کا گیٹ ہے اور پھر چند قدموں پر مسجد ہے. توصیف جب بھی پی ایم اے سے ویک اینڈ یا چھٹی پر گھر آیا کرتا تھا تو کالونی کے گیٹ میں داخل ہونے پر اگر نماز کا وقت ہوتا تو گھر آنے کے بجائے پہلے مسجد میں چلا جاتا اور للہ کی بارگاہ میں حاضری دینے کے بعد گھر آتا. نماز کے لئے خاص تیاری کرنا اس کا معمول تھا. وہ اگر کبھی تیار ہوتے ہوئے لیٹ ہو رہا ہوتا تو والدہ آواز دیتی’’ توصیف اس کنگھی شیشے کو چھوڑو کہ نماز کو دیر ہو رہی ہے‘‘
وہ کہتا ’’ امی اگر کسی سے ویسے ملنے جانا ہو تو ہم کتنا تیار ہوتے ہیں‘ اللہ سے ملنے کے لئے تیار ہو کر نہ جاؤں؟‘‘
بچوں کی اپنے باپ کے ساتھ محبت بہت منفرد ہوتی ہے. اگر باپ کبھی ان کی تربیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ کر رہا ہوتا ہے تو وہی باپ اپنے بچوں پر جان چھڑکنے کے لئے بھی ہر لمحہ تیار ہوتا ہے. کرنل توصیف کی بھی اپنے بچوں کے ساتھ محبت مثالی تھی. لیکن چھوٹے بیٹے عمر کے ساتھ تو گویا اْن کی دوستی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی کوئی بات رد نہیں کرتے تھے. جب وہ یونٹ کی کمانڈ سنبھالنے کے لئے اپردِیر پہنچے تو PTCL کا ایک خصوصی نمبر عمر کو لگوا کر دیا. عمر صبح سکول جاتے ہوئے اور واپسی پر والد کو ضرور فون کر کے بات کرتا تھا. اپنے بابا کی شہادت کے بعد وہ انہیں سب سے زیادہ مس کرتا ہے. بابا کے بارے میں بار بار پوچھنے پر اس کو سمجھایا گیا کہ آپ کے ابوتو اب مٹی کے نیچے چلے گئے ہیں تو اس نے بڑے معصومانہ طریقے سے کہا ’’ آپ ان کے پاس ٹیلی فون کیوں نہیں لگوا دیتے تاکہ میں ان سے بات کر سکوں‘‘
ننھا عمر اب بھی اکثر ٹیلی فون کے نمبر ڈائل کرتا ہے کہ اپنے پیارے بابا سے بات کر سکے‘ ان کی آواز سن سکے. مگر ٹیلی فون کی دوسری جانب ہمیشہ خاموشی ہوتی ہے‘ ابدی خاموشی.( کرنل عقیل احمد )

..

مسلمانوں پرمظالم اورنائن الیون ،،کیاحقیقت کیاافسانہ ؟؟

وائٹ ہاؤس یا10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بیٹھنے والے اصل حکمران نہیں، بینکاری اورسودی نظام خالق چندخاندانوں کی دنیا پرحکومت ہے، نائن الیون امریکی ایجنسیوں نے انہی خاندانوں کے کہنے پربرپاکیا، مسلمانوں پرمظالم جاری ہیں،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا،

دنیامیں قوت،عزت اور دولت کاصرف ایک وسیلہ علم ہے ،ہرشخص پرعلم حاصل کرنافرض ہے،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا.خدانے کائنات میں ایک نظام رائج کردیاہے کہ دنیاکی تمام نعمتیں اس قوم کوملیں گی جس کو نئے علوم کی تخلیق پردسترس حاصل ہوگی،قرآن پاک کی ساڑھے سات سوآیات ہمیں ہدایت کررہی ہیں کہ فطرت کامشاہدہ کرو،فطرت کامشاہدہ کرناہم پرفرض ہے.

آج دنیابھرمیں مسلمانوں پرمظالم کاسلسلہ جاری ہے. مسلمانوں پر ظلم وستم ،اذیتیں،قتل وغارت،غلاموں جیسا سلوک،جہالت،غربت وافلاس،بیماریاں،زلزلے ،سیلابوں کی تباہ کاریاں دراصل اللہ کے احکامات سے روگردانی کرنے کانتیجہ ہے. مسلم ممالک میں جو دولت مندہیں وہاں کے حکمران عیاش ہیں،جبکہ جوممالک پسماندہ یا ترقی پذیرہیں وہاں کے حکمران کرپٹ ہیں.عیاشیوں اور کرپشن سے سراٹھانے کی فرصت ہی نہیں کہ نئے علوم کی تحقیق کیلئے ریسرچ کوپروموٹ کیاجائے،پاکستان کودیکھاجائے تو تعلیم و تحقیق پر 2فیصدسے بھی کم خرچ کیاجاتاہے،تعلیمی میدان میں ترقی کیلئے وفاقی بجٹ میں تعلیم و تحقیق کیلئے کل قومی پیداوار کا کم ازکم 4فیصد مختص کرناچاہیے.اسی طرح مسلم اسکالرزکی تعلیم وتحقیق کیلئے مشترکہ لیبارٹریاں قائم کی جاتیں.ہمارے پاس علم اور اتحادکی طاقت ہوتوخداکی تمام نعمتیں ہمیں میسرہوں گی،پھردنیابھی ہماری مطیع ہوگی .پھر کشمیر،فلسطین،برما،شام،عراق ،افغانستان،یمن،نائیجیریاسمیت کہیں بھی مسلمانوں پرظلم نہیں ہوگا.دشمن ہمارے تیوردیکھ کر ہی مسلمانوں کے قابض علاقے ہمارے حوالے کردے گا.اللہ کامسلمانوں پربہت بڑاانعام ہے کہ مقدس کتاب قرآن پاک ہمارے پاس خزانہ ہے.اس پاک کتاب میں دنیاکے تمام مسائل کاعلاج موجودہے.لیکن ہم نے اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کامشاہد ہ کرناچھوڑدیاہے،جبکہ ہمارے دشمنوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب سے استفادہ حاصل کیااور ہم پرمسلط ہوگئے.مسلمانوں کونہ صرف اسلامی تعلیمات سے دورکردیابلکہ فرقہ واریت،رنگ و نسل جیسے مسائل میں کہیں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروایاجاتاہے ،کہیں موم مقاصد کے حصول کیلئے دہشتگردی کے نام پرمسلم ممالک پریلغارکی جاتی ہے.دراصل طاقتوردشمن مسلمانوں کے گردگھیراتنگ کررہے ہیں،ہرایک کی باری لگادی گئی ہے.باری باری سب کی باری آئے گی،لیکن ہماری مسلم قیادت کوکب عقل آئے گی؟ترکی کے صدرطیب اردوان کی جرات کوسلام،کہ جنہوں نے مسلم لیڈرہونے کاثبوت دیااور میانمارصدرکوللکارا،روہنگیامسلمانوں کی امدادکیلئے 10لاکھ ٹن خوراک بھیجی.ترکی کی خاتون اول خود امداددینے بنگلادیش روہنگیامسلمانوں کے کیمپوں میں گئیں.دیکھاجائے توصرف برما میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر،فلسطین،صومالیہ، عراق ،افغانستان، شام، مصرودیگرمسلمان ریاستوں میں خون ریزی کاگرم بازارہماری تفریق کاشاخسانہ ہے.جبکہ ایسے میں اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی کسی مذاق سے کم نہیں،کیونکہ ہم طاقتوراور صاحب علم اقوام کیلئے کیڑے مکوڑے بن چکے ہیں،اسی لیے ہمارے ساتھ غلاموں جیساسلوک کیاجاتاہے.ایک میڈیارپورٹ کے مطابق شام میں چھ سال سے جاری جنگ میں 4لاکھ 65ہزارکے قریب افراد جاں بحق اور 10لاکھ کے لگ بھگ زخمی ہوئے جبکہ 120لاکھ افرادبے گھرہوگئے.نائن الیون کے بعد افغانستان میں جاری جنگ میں 60ہزارسے زائد جاں بحق اور 120بے گھرہوئے.چین کے سنکیانگ صوبے میں 80لاکھ مسلمان آبادہیں،2009ء سے تصادم میں 200کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں.نائیجیریا میں مئی 2011ء سے اب تک 51567جاں بحق ہوچکے ہیں.بوکوحرام میں 19لاکھ افرادبے گھرہوگئے.عراق میں2014ء سے 33لاکھ لوگ بے گھراور 27ہزارجاں بحق ہوگئے.فلسطین میں 45لاکھ سے زائد مسلمان بے گھرہیں.یمن میں 13ہزارسے زائد جاں بحق اور 31لاکھ بے گھر.لیبیا میں خانہ جنگ کے باعث 4لاکھ لوگ بے گھرہوگئے ہیں.مقبوضہ کشمیرمیں 47ہزارسے زائد لوگ شہیدہوچکے ہیں.اسی طرح میانمارمیں ریاستی مظالم کے باعث10لاکھ افرادملک چھوڑچکے ہیں،ایک لاکھ چالیس ہزارافراداپنے ہی ملک میں دربدرہیں جبکہ ایک ہزارسے زائد بے دردی کے ساتھ ماردیے گئے.ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ روہنگیامسلمانوں پرمیانمارفوج نے بدترین مظالم کا نشانہ بنایا.بنگلادیش میں پناہ گزینوں کی تعداد2لاکھ 90ہزارتک پہنچ گئی ہے.اقوام متحدہ نے 3لاکھ روہنگیامسلمانوں کی امدادکیلئے 70لاکھ ڈالرزسے ابتدائی فنڈزقائم کردیاہے.پاکستان میں روہنگیامسلمانوں کے حق میں بھرپورآوازبلندکی گئی.

جس کے بعد ہمارے بے حس حکمرانوں کوبرمی سفارتکارکودفترخارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈکروانے کی توفیق ہوئی.میانمارسمیت دنیابھرمیں مسلمانوں کابے رحمی کیساتھ قتل عام جاری ہے،لاکھوں کی تعدادمیں مسلمان بے گھرہوچکے ہیں.دنیامیں مسلمانوں پرمظالم ،قتل عام کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے .ایسے میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ،اسلامی تعاون کی تنظیم سمیت45 ممالک پرمشتمل اسلامی اتحادی فوج بھی خاموشی سوالیہ نشان ہے.دوسری جانب نائن الیون کاانتہائی افسوسناک واقعہ ہوتاہے.جب 11ستمبر2001ء میں امریکامیں ورلڈٹریڈسنٹرکودہشتگردی کانشانہ بنایاگیا،دہشتگردی کے نتیجہ میں 3ہزارکے قریب لوگ ہلاک جبکہ 6ہزارسے زائد زخمی ہوگئے.نائن الیون کے تاریخی واقعے کے بعددنیالرزکررہ گئی، امریکا نے فیصلہ کیاکہ دنیابھر میں القاعدہ سمیت دہشتگردوں کو عبرت کانشان بنادیں گے.

امریکی سابق صدرجارج ڈبلیو بش نے حملوں کے ماسٹرمائنڈالقاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کوٹارگٹ کرنے کامطالبہ کردیا،اسامہ بن لادن امریکاکو1998ء سے مطلوب تھا.تاہم امریکانے اسامہ بن لادن اور دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں 40سے زائد ممالک پرمبنی تعاون حاصل کیااور نیٹوفورسزکے حملوں کے ذریعے افغانستان میں اکتوبر2001ء میں ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم“کاآغاز کردیا.وقت گزرنے کے ساتھ نائن الیون سے متعلق مختلف آراء سامنے آناشروع ہوگئیں.مختصریہ کہ نائن الیون کو”حقیقت یا افسانہ “کانام دیاجانے لگا،یوں نائن الیون مشکوک بنادیاگیا.ڈاکٹرمجاہد کامران اپنی کتاب ون ورلڈگورنمنٹ اورنیوورلڈ آرڈرمیں نائن الیون کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” امریکا سمجھتاہے کہ ایشیائی اوریورپین ممالک پربھی اپناتسلط قائم کرناچاہیے کیونکہ مستقبل میں اگرہمارے غلبے کوکوئی چیلنج درپیش ہوگاتویہیں سے ہوگا.نائن الیون کے بعد اب روس اور چین کے بارڈرپرامریکی فوجیں بیٹھ گئی ہیں.1904ء میں جیوگرافرہیری مکنڈرنے اپنے مقالے میں واضح کیاتھا کہ جویوریشیاء پرحکومت کرے گاوہی دنیاپرحکومت کرے گا.ہیری مکنڈرنے اپنی دوسری کتاب میں دوبارہ اسی بات کودہرایاکہ جوملک یوریشیاء پرحکومت کرے گاافریقہ خود بخود اس کی جھولی میں آگرے گا.یہ ایک ڈکٹیٹرکاخواب ہے ،اس خواب کوپوراکرنے کیلئے دنیاکاخون بہایاجارہاہے.دنیاکے اصل حکمران وائٹ ہاؤس یا10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بیٹھنے والے نہیں ہیں،بلکہ دنیا میں ایک گروہ ہے جوبنی نوع انسان کی دولت کامالک ہے اور وہ اپنی دولت کے بل بوتے پرپوری دنیاپرحکومت کرتاہے ،دنیامیں موجودتیل کی کمپنیاں ،بینکاری اور سودکانظام بھی انہی خاندانوں کامرہون منت ہے.

یہ مالدارخاندان کم ازکم 1773ء سے منظم اندازمیں دنیا میں ایک عالمی حکومت اور ایک عالمی نظام(ون ورلڈگورنمنٹ اورنیوورلڈ آرڈر)قائم کرنے کی مستقل کوشش کررہے ہیں.ان کی اصل قوت بے پناہ دولت ہے جو انہوں نے سودی نظام سے حاصل کررکھی ہے.قرآن پاک میں سودی نظام کو اللہ کے ساتھ جنگ قراردیاگیاہے.یہ دولت منددنیامیں کمزوراقوام کو غلاظت کاڈھیرسمجھتے ہیں اوران پرحکمرانی کرنااپناحق سمجھتے ہیں.مصنفین متفق ہیں کہ نائن الیون امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انہی خاندانوں کے کہنے پربرپاکیاتھا.“امریکا،یورپ کے عوام ہمارے دشمن نہیں نہ ہی ہم ان کے مذہب کے دشمن ہیں.ہندوؤں اور ہمارے دشمنوں میں ایک قدرمشترک ہے کہ دونوں سودخورہیں.دونوں سودی نظام کے ذریعے دنیاکو اپنے طابع کرناچاہتے ہیں.یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم بے علم ہیں.دنیامیں قوت،عزت اور دولت کاصرف ایک وسیلہ علم ہے،ہرشخص پرعلم حاصل کرنافرض ہے،ہمیں اپنے درست حالات کیلئے عالم اور سپاہی بنناہوگا.

..

کبوتر بیٹھے تو باز بن جائے

حضرت نظامُ الدین اولیاؒ کے پاس ایک تیرہ سالہ لڑکا اپنے باپ امیر سیفُ الدین مُحمود کے ساتھ آیا باپ بیٹے کو اندر لے جانا چاہتا تھا لیکن بیٹے نے اندر جانے سے انکار کر دیا اور باپ سے کہا. ” آپ اندر تشریف لے جائیں، میں یہیں باہر کھڑا آپ کا انتظار کرتا ہُوں.

باپ نے مزید اصرار نہیں کیا بلکہ اندر چلا گیا. باپ کے جاتے ہی اُس تیرہ سالہ لڑکے نے فوراً ایک منظوم رقعہ لکھا ، اس میں فارسی کے دو شعر اسی وقت موزوں کیے تھے. تو آں شاہی کہ برایوان قصرت کبوترگر نشیند باز گردوغریبے مستمند سے برور آمد بیاید اندروں یا باز گردو(تم بادشاہ ہو کہ اگر تمھارے محل پر کبوتر بیٹھے تو باز بن جائے ،

ایک غریب حاجب مند دروازے پر باریابی کا منتظر ہے، وہ اندر آئے یا واپس جائے)منظوم رقعہ اندر گیا اور اسی وقت حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ کا لکھا ہوا منظوم جواب آ گیا.در آید گر بود مرد حقیقت کہ باما ہم نفس ھم راز گردواگر ابلہ بودآں مرد ناداں ازاں راہے کہ آمد باز گردو(اگر اُمید وار حقیقت شناس ہے تو اندر آ جائے اور ہمار ہم دم و ہمراز بنے اور اگر ابلہ و ناداں ہے

تو جس راہ سے آیا ہے ، اسی سے واپس جائے.” )جواب پاتے ہی یہ تیرہ سالہ لڑکا اندر، خواجہ نظام الدّین اولیا کے پاس چلا گیا اور امیر خسرو ؒ کے نام سے شہرتِ دوام حاصل کی.

..

مجھے ایک دھوبن نے توحید سکھائی

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے ایک دھوبن نے توحید سکھائی کسی نے پوچھا حضرت وہ کیسے؟ فرمانے لگے کہ میرے ہمسایہ میں ایک دھوبی رہتا تھا‘ میں ایک مرتبہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا گرمی کی رات میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا‘ہمسایہ سے میں نے ذرا اونچا بولنے کی آواز سنی جب غور سے سنا تو مجھے پتہ چلا کہ بیوی اپنے میاں سے جھگڑ رہی تھی کہ دیکھ تیری خاطر میں نے تکلیفیں برداشت کیں‘ فاقے کاٹے‘ سادہ لباس پہنا‘

مشقتیں اٹھائیں‘ ہر دکھ سکھ تیری خاطر میں نے برداشت کیا اور میںتری خاطر ہر دکھ برداشت کرنے کیلئے اب بھی تیار ہوں لیکن اگر تو چاہے کہ میرے سوا کسی اور سے نکاح کر لے تو پھر میرا تیرا گزار نہیں ہو سکتا مگر تیرے ساتھ کبھی میں نہیں رہ سکتی. فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کر میں نے قرآن پر نظر ڈالی تو قرآن مجید کی یہ آیت سامنے آئی ’

’ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذالک لمن یشاء‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے بندے جو بھی گناہ لے کر آئے گا میں چاہوں گا سب معاف کر دوں گا لیکن میری محبت میں کسی کو شریک بنائے گا تو پھر میرا تیرا گزارا نہیں ہو سکتا

سلطان محمود غزنوی اورچوروں کے قطب

سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے. ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں.

بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا.چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں. چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے.انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ. اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں.بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا. چوروں نے کہا کہ اچھا اپنا ہنر بتاؤ. بادشاہ نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا پہلے تم لوگ اپنا ہنر بیان کرو.ایک چور نے کہا کہ میرے اندر یہ فن ہے کہ میں اونچی سے اونچی دیوار پھاند کر مکان میں داخل ہو جاتا ہوں، چاہے بادشاہ کا قلعہ ہی کیوں نہ ہو.دوسرے نہ کہا کہ میری ناک میں یہ خاصیت ہے کہ جہان خزانہ مدفون ہوتا ہے، میں مٹی سونگھ کر خزانہ بتا دیتا ہوں کہ یہاں خزانہ ہے. جیسے مجنوں کو خبر نہیں تھی کہ لیلی کی قبر کہاں ہے.قبرستان جا کر ہر قبر کو سونگھا ،جب لیلی کی قبر کی مٹی سونگھی تو بتا دیا کہ لیلی یہاں ہے.

؎ ہمچو مجنوں بو کنم ہر خاک راخاکِ لیلی را بیا بم بے خطا مولانا فرماتے ہیں کہ جو مولی کے عاشق ہیں وہ بھی مثل مجنوں کے ہر مٹی کو سونگھتے ہیں اورجس خاک میں مولی ہوتا ہے تو وہ سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس کے قلب میں مولی ہے. اللہ کے عاشقین اللہ والوں کے چہرہ سے ،ان کی آنکھوں سے، ان کی گفتگو سے پتہ پا جاتے ہیں کہ یہ دل صاحبِ نسبت ہے.تیسرے چور نے کہا کہ میرے بازو میں ایسی طاقت ہے کہ چاہے کتنی ہی موٹی دیوار ہو میں گھر میں گھسنے کے لئے اس میں سوراخ کر دیتا ہوں. چوتھے نے کہا کہ میں ماہرِ حساب ہوں،پی ایچ ڈی میتھمیٹکس (Mathematics)ہوں. کتنا ہی بڑا خزانہ ہو چند سیکنڈ میں حساب لگا کر تقسیم کر دیتا ہوں. پانچویں نے کہا کہ میرے کانوں میں ایسی خاصیت ہے کہ میں کتے کی آواز سن کر بتا دیتا ہوں کہ کتا کیا کہہ رہا ہے. چھٹے نے کہا کہ میری آنکھوں میں یہ خاصیت ہے کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا ہوں دن میں اس کو پہچان لیتا ہوں. اب سب چورو ں نے بادشاہ سے پوچھا کہ اے چور بھائی! تمھارے اندر کیا خاص بات ہے ؟ شاہ محمود نے کہا کہ بھئی میری داڑھی میں ایک خاصیت ہے کہ ؎چوں بجنبد ریش من ایشان رہند جب مجرمین کو پھانسی کے لئے جلادوں کے حوالہ کر دیاجاتا ہے اس وقت اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین پھانسی کے پھندے سے چھوٹ جاتے ہیں. یہ سن کر چور مارے خوشی کے کہنے لگے کہ ؎ گفتندش کہ قطب ما توئی روز محنت ہا خلاص ما توئی آپ تو چوروں کے قطب ہیں. جب ہم کسی مصیبت میں پھنسیں گے تو آپ ہی کے ذریعہ ہم کو خلاصی ملے گی. لہذا فیصلہ ہو ا کی آج بادشاہ کے یہاں چوری کی جائے کیونکہ آج سب اراکین نہایت پاور فل ہیں اور مصیبت سے چھڑانے والا داڑھی والا بھی ساتھ ہے.لہذا سب بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑے. راستہ میں کتا بھونکا تو کتے کی آواز پہچاننے والے نے کہا کہ کتا کہہ رہا ہے کہ بادشاہ تمھارے ساتھ ہے لیکن چور پھر بھی چوری کے ارادے سے کیوں نہ باز آئے ؟ بوجہ لالچ اور طمع کے، کیونکہ لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور عقل و ہوش کو اڑا دیتا ہے

جس سے ہنر پوشیدہ ہو جاتا ہے.مو لانا رومی فرماتے ہیں ؎ صد حجاب از دل بسوئے دیدہ شد چوں غرض آمد ہنر پوشید ہ شد ہر گناہ اسی طرح ہوتا ہے کہ شہوت اور لالچ آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ،پھر بُرے بھلے کی تمیز نہیں رہتی. جانتا ہے کہ یہ آنکھوں کا زنا ہے لیکن مغلوب ہو کر گناہ کرتا ہے، اسی لئے نے اسباب گناہ سے دوری کا حکم فرمایا تاکہ لالچ پیدا ہو. لہذا بادشاہ کے یہاں چوری ہوئی.چوروں نے خزانہ لوٹ لیا اور جنگل میں بیٹھ کر ماہرحساب نے سب کا حصہ لگا کر چند منٹ میں تقسیم کردیا. بادشاہ نے کہا: سب لوگ اپنا اپنا پتہ لکھوادیں تاکہ آئندہ جب چوری کرنا ہو تو ہم لوگ آسانی سے جمع ہو جائیں. اس طرح بادشاہ نے سب کا پتہ نوٹ کر لیا. اگلے دن شاہ نے عدالت لگائی اور پولیس والوں کو حکم دیا کہ سب کو پکڑ لاؤ.جب سب چور ہتھکڑیاں ڈال کر حاضر کئے گئے تو بادشاہ نے سب کو پھانسی کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں کسی گواہ کی ضرورت نہیں. کیونکہ سلطان خود وہاں موجود تھا. اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالی کو کسی گواہ کی ضرورت نہیں کیونکہ Īوَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْĨ [الحدید:4] جب تم بد کاریاں کررہے تھے تومیں تو تمھارے ساتھ موجود تھا، لہذا اللہ تعالی کو کسی گواہ کی حا جت نہیں. پھر قیامت کے دن جو اعضاء کی گواہی ،زمین کی گواہی ،فرشتوں کی گواہی،اور صحیفہ اعمال کی جو گواہی پیش کی جائی گی وہ بندوں پر حجت تام کرنے کے لئے ہوگی. جب چھ کے چھ چور پھانسی کے تختہ پر کھڑے ہو گئے تو وہ چور جس نے بادشاہ کو دیکھا تھا اس نے پہچان لیا کہ یہ وہی بادشاہ جو رات کو ہمارے ساتھ تھا. وہ تختہ دار سے چِلاّیا کہ حضور کچھ دیر کو ہماری جانوں کو امان دی جائے ،میں آپ سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں.بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے،تھوڑی دیر کے لئے پھانسی کو موقوف کر دو اور اس کو میرے پاس بھیج دو. چور نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہر یکے خاصیتے خود وا نمود اے بادشاہ! ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا ہنر دکھا دیا لیکن ایں ہنر ہا جملہ بدبختی فزود ہمارے سب کے سب ہنر جن پر ہم کو ناز تھا انہوں نے ہماری بدبختی کو اور بڑھادیا کہ آج ہم تختہ دار پر ہیں. اے بادشاہ!میں نے آپ کو پہچان لیا ہے، آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب مجرموں کو تختہ دار پر چڑھایا جاتا ہے اس وقت غایتِ کرم سے اگر میری داڑھی ہل جاتی ہے تو مجرمین کو پھانسی سے نجات پاجاتے ہیں.لہذا اپنے ہنر کا ظہور فرمایئے تاکہ ہماری جان خلاصی پا جائے. مولانا رومی فرماتےہیں کہ سلطان محمود نے کہا تمھارے کمالاتِ ہنر نے تو تمھاری گردنوں کو مبتلاءِ قہر کردیا تھا لیکن یہ شخص جو سلطان کا عارف تھا اس کی چشم ِسلطان شناس کے صدقہ میں میں تم سب کو رہا کرتا ہوں اس قصہ کو بیان فرما کر مولانا رومی فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص اپنے ہُنر پر ناز کررہا ہے ،بڑے بڑے اہل ہنر اپنی بد مستیوں میں مست اور خدا سے غافل ہیں لیکن قیامت کے دن ان کےیہ ہنر کچھ کام نہ آ ئیں گے اور ان کو مبتلائے قہر و عذاب کردیں گے لیکن ؎ جز مگر خاصیت آں خوش حواس کہ بشب بود چشم او سلطاں شناس جن لوگوں نے اس دنیا کے اندھیرے میں اللہ کو پہچان لیا ،نگاہِ معرفت پیدا کر لی قیامت کے دن یہ خود بھی نجات پائیں گے اور ان کی سفارش گنہگاروں کے حق میں قبول کی جائے گی.

..

قرآن پاک کا معجزہ ۔۔۔لبرل مسلمان لڑکی کو کیسے سیدھا راستہ ملا؟ ایمان افروز واقعہ

ایک عرب مسلمان لڑکی لندن میں زیرِ تعلیم تھی، ایک دن وہ اپنی سہیلی کے کسی تقریب میں گئی ، کوشش کے باوجود وہ وہاں سے جلدی نہ نکل سکی، جب وہ اس فنگشن سے فارغ ہوکر نکلی تو رات کافی دیر ہوچکی تھی..اس کا گھر دور تھا، گھر جلدی پہنچنے کا ذریعہ زیرِ زمین چلنے والی ٹرین تھی، لیکن وہ ٹرین سے سفر کرنے سے کچھ خوف محسوس کرہی تھی کیونکہ برطانیہ میں اکثر رات کے وقت ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر بہت سے جرائم پیشہ اور نشہ میں دھت افراد ہوتے ہیں، آئے روز ٹی وی چینلز اور اخبارات میں یہاں ہونے والی وارداتوں کا تذکرہ موجود ہوتا ہے…چونکہ اس لڑکی کو زیادہ دیر ہوچکی تھی اور بس کافی وقت لے سکتی تھی ، اس لئے اس نے بہت سے خدشات وخطرات کے

باوجود ٹرین میں جانے کا فیصلہ کرلیا، یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ لڑکی دیندار نہیں تھی بلکہ بہت زیادہ آزاد خیال اور لبرل تھی..

جب وہ اسٹیشن پر پہنچی تو یہ دیکھ کر اس کے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی کہ اسٹیشن بالکل سنسان ہے، صرف ایک شخص کھڑا ہے جو حلیہ سے ہی جرائم پیشہ لگتا تھا، وہ انتہائی خوفزدہ ہوگئی، پھر اس نے ہمت کی خود کو سنبھالا، قرآنی آیت کا ورد کرنا شروع کردیا، اسے جو کچھ زبانی یاد تھا جسے ایک عرصے سے وہ بھولی ہوئی تھی ، سب کچھ پڑھ ڈالا.. . اتنے میں ٹرین آئی اور وہ اس میں سوار ہوکر بخیریت اپنے گھر پہنچ گئی … اگلے دن کا اخبار دیکھ کر وہ چونک اٹھی، اسی اسٹیشن پر اس کے روانہ ہونے کے تھوڑی دیربعد ایک نوجوان لڑکی کا قتل ہوا اور قاتل گرفتار بھی ہوگیا…وہ پولیس اٹیشن گئی ، پولیس والوں کو بتایا کہ قتل سے کچھ دیر پہلے وہ اس اسٹیشن پر موجود تھی، میں قاتل کو پہچانتی ہوں ، اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں، جب وہ مجرم کے سیل کے سامنے پہنچی تو اس سے پوچھا:”

 

کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟”اس نے جواب دیا:” ہاں پہچانتا ہوں” رات کو تم بھی اس اسٹیشن پر آئی تھیں..لڑکی نے پوچھا:” پھر تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟”وہ کہنے لگا:” میں تمہیں کیسے نقصان پہنچاتا؟ ! تمہارے پیچھے تو دو انتہائی صحتمند اور قدآور باڈی گارڈ تھے”یہ سن کر لڑکی حیران ہوگئ، اسے یقین ہوگیا کہ قرآن کی آیتوں کا ورد کرنے کی وجہ سے اللّٰہ کی طرف سے اسکی حفاظت کی گئی.. وہ وآپسی پر اللّٰہ کے تشکر اور احسان مندی کے جذبات سے مغلوب تھی، اللّٰہ کی مدد اور نصرت پر اس کا بھروسہ مزید بڑھ گیا تھا..”اگر ہم اپنے دل کی گہرائیوں سے اللّٰہ کو پکاریں اور اللّٰہ کی تائید ونصرت پر بھروسہ رکھیں تو ہم اللّٰہ کی رحمت سے کبھی محروم نہیں رہیں گے.”

..