حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پہلا خطاب

حضرت ابوبکرؓ شرماتے اور گھبراتے ہوئے منبر نبویﷺ کی جانب بڑھے، پس و پیش کرتے ہیں، پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے، پھر تیسری سیڑھی پر پہنچے تو کپکپائے اور اپنے آپ کو حضورﷺ کے مقام پر بیٹھنے کے قابل نہیں سمجھ رہے تھے، اپنے ہاتھ سے آنسوؤں کا سیل رواں صاف کیا، پھر لوگوں کے ایک عظیم مجمع کی طرف رخ کیا،خلافت کی اہم ذمہ داری آپؓ کی نظر کے سامنے تھی آپؓ نے فرمایا لوگو! مجھے تم پر ولی مقرر کیا گیا ہے جبکہ میں تم سے زیادہ بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھا کام کروں تو تم میری مدد کرنا اور

اگر غلط کام کروں تو مجھے سیدھا کر دینا. یاد رکھو! جو تم میں کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق وصول کر لوں اور جو تم میں طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق وصول کر لوں.

تم میری اطاعت کرنا جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کروں…

گاڈفادرکون تھا؟ دنیا میں جرائم کی ابتدا کی انسانی ذہن کو دنگ کر دینے والی داستان

گاڈ فادر اول دنیا کا پہلا شخص تھا جس نے جرائم کو سائنسی بنیادیں فراہم کیں‘ وہ ریاست کے اندر ریاست اور انڈر ورلڈ جیسی اصطلاحوں کا بھی بانی تھا‘ اس نے باقاعدہ ایسے ادارے بنائے جن میں مجرموں کو جرائم کی تربیت دی جاتی تھی‘ اس نے مجرموں کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک بھی تشکیل دیا‘ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا وہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے سے پہلے دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاتا تھا‘ اس نے منشیات ‘اسلحہ اور جعلی دستاویزات کی تیاری کےلئے باقاعدہ لیبارٹریاں بنائیں اور ان لیبارٹریز کو جرائم کے نئے نئے طریقے دریافت کرنے پر لگادیا‘ اس نے قاتلانہ حملوں کے چار سکواڈ بنائے‘ ان سکواڈز میں ایسے ایسے سنگدل اور خوفناک لوگ بھرتی کیے گئے جو لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے خون سے ہاتھ اور منہ دھوتے تھے‘ دنیا میں ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب دنیا کے بڑے بڑے حکمران گاڈ فادر کے نام سے گھبراتے تھے‘ وہ ایک ہوا‘ خوف کی ایک آندھی اور رگوں کے اندراتر جانے والاایک ڈر بن گیاتھا.گاڈ فادر کی شروعات بہت دلچسپ تھیں‘وہ ایک چھوٹا سا مجرم تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قیادت کی بے تہاشہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا‘ وہ گروپ اور ریکٹ بنانے کا ماہر تھا‘ وہ وژنری انسان تھا لہٰذا وہ ہمیشہ دس بیس برس آگے کی بات سوچتا تھا‘ اس نے1934ءمیں ایک دلچسپ منصوبہ بنایا‘ اس نے ایک یونیورسٹی پروفیسر اور ایک ریٹائر سیاستدان کی خدمات حاصل کیں‘ پروفیسر نے اٹلی کی تمام مختلف یونیورسٹیوں کا دورہ کیا اورگاڈ فادر کو تمام باصلاحیت طالب علموں کی فہرستیں بنا دیں‘ بزرگ سیاستدان نے اسے ان تمام لوگوں کے نام اور پتے فراہم کردیئے جو مستقبل قریب میں بڑے سیاستدان ثابت ہوسکتے تھے‘ گاڈ فادر نے ان تمام طالبعلموں اور سیاستدانوں کی مالی اور سماجی معاونت شروع کردی‘ اس نے ان تمام طالب علموں کو وظائف دیئے‘ انہیں امریکہ اور برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائی اور اس کے بعد انہیں اٹلی کے بڑے بڑے سرکاری‘ نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں بھرتی کرادیا‘ اس نے چھوٹے چھوٹے سیاستدانوں کی پشت پناہی کی اور انہیں سیاست کے مرکزی دھارے میں داخل کرادیا‘ اس نے قانون دان جمع کیے اور ان میں سے بے شمار وکیلوں کو جج بنوا دیا‘ اس نے اپنے ریکٹ کے لوگوں کو سفیر‘ مشیر اور وزیر بنوایا‘ اس نے اپنے لوگوں کو صنعت کار‘ تاجر اور بروکر بنوایا اور اس نے اپنے لوگوں کوبینکار اور ماہر معیشت بنوایا‘ یہ تمام لوگ ابتدا میں اٹلی اور اس کے بعد پورے پورپ میں پھیل گئے اور انہوں نے آگے چل کر بے شمار ملکوں کی معیشت اور سیاست اپنے ہاتھ میںلے لی‘ گاڈ فادر دوم نے اپنے والد کے سلسلے کو امریکہ‘ لاطینی امریکہ اور مغربی یورپ تک پھیلا دیا‘اس نے آدھی دنیا کو اپنے دائرے میں لے لیا‘ ایک وقت ایسا تھا جب گاڈ فادر کے حکم سے پورے یورپ کے قوانین بدل جاتے تھے‘ وہ شخص حقیقتاً دنیا پر حکومت کرتا تھا‘دنیا میں جس شخص نے گاڈ فادر کے خلاف رپٹ لکھنی ہوتی تھی وہ گاڈ فادر کا ہرکارہ نکلتا تھا‘ جس نے اس رپٹ پر دستخط کرنے ہوتے تھے‘ جس نے مہر لگانی ہوتی تھی‘ جس نے اس کی گرفتاری کا حکم جاری کرنا ہوتا تھا‘ جس نے چھاپہ مارنا ہوتا تھا‘ جس نے اسے عدالت میں پیش کرناہوتا تھا‘ جس وکیل نے اس کے خلاف الزامات لگانے ہوتے تھے‘ جس سیاست دان نے اس کے خلاف قانون بنانا ہوتا تھا اور جس وزیر‘ جس وزیراعظم نے اس کے خلاف پریس کانفرنس کرنی ہوتی تھی وہ بھی

اس کے ”پے رول“ پر ہوتا تھا‘ وہ بھی اپنی ہر صبح کا آغاز گاڈفادر کے پاﺅں چھو کر کرتا تھا‘دنیا کے اختیار اوراقتدار کی نسوں تک میں اتر گیا تھاوہ دنیا کا حقیقی بادشاہ تھا.

1973ءمیںا مریکہ نے گاڈ فادر کے اس سسٹم کو ”اون“ کرلیا‘ اسے اپنی خارجہ پالیسی بنا لیا.گاڈ فادر کا سسٹم امریکہ تک کیسے پہنچا‘اس کےلئے ہمیں ویتنام جنگ کا مطالعہ کرناپڑے گا‘6مارچ 1965ءمیں ویتنام کی سرزمین پر امریکہ کا پہلا فوجی اترا‘ یہ جنگ 8 برس جاری رہی‘ اس جنگ میں امریکہ نے شدید مالی‘ سیاسی اور فوجی نقصان اٹھایا‘ 29مارچ 1973ءکو امریکہ کا آخری فوجی پسپا ہو کرویتنام سے نکلا‘ اس جنگ نے امریکہ کو گاڈفادر بنا دیا‘ امریکہ نے پہلی بار محسوس کیا وہ اسلحے اور فوج کے ذریعے پوری دنیا پر حکومت نہیں کرسکتا لہٰذا اگراس نے دنیا کی واحد سپر پاور بننا ہے تو اسے گاڈ فادر کے فارمولے پر عمل کرنا ہوگا‘ اسے تیسری دنیا میں یونیورسٹی کے استاد سے لے کر وزیراعظم تک ہر عہدے پر اپنے لوگ بٹھانا ہوں گے‘ اسے بیورو کریسی‘ فوج‘ عدلیہ‘ پولیس اور سیاست دنیا کا ہر بڑا شعبہ اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا‘ امریکہ نے سوچا اور اس کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کردیا‘ اس نے تیسری دنیا کے اچھے طالب علم اٹھائے‘ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے وظیفے دیئے‘ انہیںیورپ اور امریکہ کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائی اور اس کے بعد انہیں ان کے ممالک میں حساس عہدوں پر بٹھا دیا‘ امریکہ نے نوجوان بیورو کریٹس کو اپنے ملک میں کورس کرائے‘ ان کورسز کے دوران ان کی برین واشنگ کردی‘ اس نے فوجی افسروں کو اپنی عسکری اکیڈمیوں میں ٹریننگ دی اور انہیں امریکی بنا کر واپس بھجوا دیا‘ اس نے قانون دانوں کو امریکی فلسفے کی ٹریننگ دے کر جج بنوا دیا‘ اس نے ٹیکس کے شعبوں میں اپنے بندے بھرتی کرادیئے‘ اس نے انڈسٹری اور بزنس میں اپنے لوگ ڈال دیئے اور اس نے سیاست میں اپنے حامیوں کو پہلی صف میں لا کھڑا کیا یوں صرف بیس برس میں امریکہ پوری تھرڈ ورلڈ اور آدھی سے زیادہ سیکنڈ اور فرسٹ ورلڈ کاگاڈ فادر بن گیا‘ وہ دنیا کا حقیقی بادشاہ بن گیا‘ اس نے نیویارک اور واشنگٹن میں وزراءاعظم کی فیکٹری لگائی اور دھڑا دھڑ وزیراعظم بنا کرتیسری دنیا ایکسپورٹ کرنا شروع کردیئے‘ یہ وزیراعظم چہرے مہرے‘ حرکات وسکنات اور زبان وبیان میں مقامی لوگوں جیسے ہوتے ہیں لیکن یہ اندر سے پورے امریکی ہوتے ہیں..

اس بچی کا دل سینے سے باہر کیوں دھڑکتا ہے؟

گزشتہ دنوں ایک یوٹیوب ویڈیو میں ایک بچی کو دکھایا گیا تھا جس کا دل حقیقی معنوں میں اس کے سینے سے باہر دھڑکتا ہے، مگر ایسا کیوتا ہے؟

ستمر میں سامنے آنے والی ویڈیو میں دکھایا گیا تھا جب یہ ننھی بچی ہنستی ہے تو اس کا دل سینے سے باہر آکر دھڑکنے لگتا ہے اور جلد کی ایک پتلی تہہ اس اہم عضو کو تحفظ فراہم کرتی ہے

 ہر وقت تھکاوٹ اس مرض کی علامت تو نہیں؟

اب طبی ماہرین نے بتایا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ان کے بقول یہ آٹھ سالہ بچی Virsaviya Borun ایک مرض پیٹالوجی آف سینٹرال کی شکار ہے۔

یہ کروڑوں میں سے کسی ایک کو لاحق ہونے والا مرض ہے جس میں پیدائشی طور پر سینے اور معدے کے حصے میں نقائض مریض کو نشانہ بناتے ہیں، اور اس کا دل متاثرہ فرد کی جلد کے نیچے چلا جاتا ہے۔

عام طور پر دل ہڈیوں، ٹشوز اور مسلز کی کئی تہوں کے پیچھے ہوتا ہے۔

اگر اس مرض کی شدت بہت زیادہ ہو تو بچوں کی پیدائش ایسے ہوتی ہے کہ ان کا دل مکمل یا جزوی طور پر قصبہ سینہ سے باہر ہوتا ہے۔

قصبہ سینہ ایسا چیمبر ہے جو کہ دل کو اپنے اندر رکھتا ہے اور پسلیوں کے ڈھانچے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس مرض کے شکار بچے اکثر بہت کم زندہ رہتے ہیں اور عام طور پر ان کی موت پیدائش کے چند دنوں بعد ہوجاتی ہے۔

خاموش قاتل مرض کی یہ علامات جانتے ہیں؟

اس بچی کی پیدائش روس میں ہوئی تھی مگر اب یہ امریکی ریاست فلوریڈا میں مقیم ہے جو یہاں بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل میں علاج کرانے کے لیے آئی تھی۔

تاہم ڈاکٹروں نے بعد ازاں سرجری نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ بچی کا بلڈ پریشر اس شریان میں بہت زیادہ تھا جو دل سے پھیپھڑوں میں خون لے کر جاتی ہے۔

بچی کی ماں نے اس کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کی تاکہ طبی اخراجات کے لیے رقم اکھٹی کرسکے اور 71 ہزار دالرز سے زیادہ جمع کیے۔

موٹاپا، گیس، بدہضمی، پانی کی کمی، بڑی آنت کا کینسر، شوگر علاج صرف ایک، بس یہ ایک چیز استعمال کریں اور کمال دیکھیں

موٹاپا، گیس، بدہضمی، پانی کی کمی، بڑی آنت کا کینسر، شوگر یہ ایسی بیماریاں ہیں جن سے ہر دوسرا پاکستانی اس وقت نبردآزما ہے. موٹاپے کا شکار افراد نسخوں اور ٹوٹکوں کے ذریعے اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اورتھکا دینی والی ورزشیں بھی ان کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں ، گیس اور بدہضمی جہاں بلڈ پریشر اور عارضہ قلب کا باعث بنتی ہے وہیں یہ موت سے بھی ہمکنارکر سکتی ہے، اسہال کی وجہ سے جسم میں ہونیوالی پانی کی کمی آپ کو کمزور اور لاغر کر سکتیے جبکہ مثالے دار خوراک اور قبض ایسی چیزیں ہیں جو بڑی آنت کے کینسر کا باعث بنتی ہیں.

جبکہ آج ہر تیسرا پاکستانی کسی نہ کسی سطح پر شوگر کے مرض میں مبتلا ہے. ہم یہاں آپ کو

ایک ایسی چیز سے ایسی چیز سے متعلق بتانے جا رہے ہیں جو آپ کو ان تمام خطرناک عارضوں سے نجات اور ان کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر کام کر سکتی ہے. اس چیز کا نام اسپغول ہے. جی ہاں اسپغول کی مدد سے نہ صرف با آسانی وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ یہ گیس اور بدہضمی دور کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ اسہال کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جسم میں ہونیوالی پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے جبکہ بڑی آنت کے کینسر کے خلاف یہ نہایت مفید ہے. اسپغول خون میں خون میںشوگر کی سطح اور انسولین میں باقاعدگی رکھ کر کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بناتی ہے.

..

نوجوان پاکستانی لڑکی کی ایسی آپ بیتی جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردے

ہم گریجویشن کرکے فارغ ہونے والے تھے. ایک روز میرے کچھ کلاس فیلوز نے مجھے فون کیا. انہوں نے اسلام آباد کی سیر کا پروگرام بنایا تھا. یہ ایک دن کا پروگرام تھا اور ہمیں اسی روز شام کو واپس لاہور آنا تھا. وہ تمام لڑکے میرے بہت اچھے دوست تھے اور ہم پہلے بھی اکٹھے سیروتفریح کے لیے جاچکے تھے.

ہم سب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے لہٰذا میرے لیے ان کے ساتھ جانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا چنانچہ میں نے بلا سوچے سمجھے ہاں کہہ دی. ہم صبح لاہور سے نکلے اور اسلام آباد پہنچ گئے. ہم نے وفاقی دارالحکومت کے تمام سیاحتی مقامات کی سیر کی. ’مونال‘ میں ڈنر کیا، اور لاہور کے لیے واپس نکل پڑے.

اسلام آباد سے موٹروے پر چڑھتے ہی ٹول پلازے پر ہمیں ایک پولیس والے نے روک لیا. میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی. وہ سیدھا میرے پاس آیا اور اس نے پہلا فقرہ یہ بولا کہ ”لڑکوں کے ساتھ کہاں جا رہی ہو؟“میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ ”تم سے مطلب؟“ اتنے پچھلی سیٹوں پر بیٹھے میرے کلاس فیلوز باہر نکلے اور پولیس والے کو لے کر کچھ دور چلے گئے. 5منٹ بعد وہ واپس آئے اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے.

وہ مجھ کچھ بتا نہیں رہے تھے مگر جب میں نے اصرار کیا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس والا ہمارے بارے میں کچھ غلط سمجھ رہا تھا. اس نے 500 روپے رشوت مانگی تھی جو اسے دے کر ہم نے جان چھڑوائی ہے. جب میں نے اس پر کچھ احتجاج کیا کہ تم لوگوں نے کیوں رقم دی، تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق وہ ہم پر فحاشی کا الزام لگا کر ہم سب کو جیل میں ڈال دیتا.

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی. جب ہم لاہور میں داخل ہوئے تو ایک بار پھر ہمیں یہاں ایک پولیس والے نے روک لیا. اس سے بھی میرے ساتھ موجود لڑکوں نے 500روپے رشوت دے کر جان چھڑائی مگر یہ رشوت خور پولیس اہلکار جاتے ہوئے مجھے ’فاحشہ‘ کہنا نہیں بھولا. میں آج بھی حیران ہوتی ہوں کہ ان پولیس والوں نے مجھے دیکھتے ہی یہ کیسے طے کر لیا کہ میں کوئی جسم فروش عورت ہوں اور لڑکوں کے ساتھ جا رہی ہوں؟کیا میرا جرم صرف یہ تھا کہ میں عورت ہوں؟

توبہ

عالم شباب میں ایک لونڈی پر آپ فریفتہ ہو گئے .ہر چند منانے کی تدبیریں کیں مگر کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی . لوگوں نے بتایا کہ نیشا پور میں ایک یہودی رہتا ہے جو سحر و عمل کے ذریعہ اس کام کو آسان کر سکتا ہے ابو حفص اس کے پاس گئے اور اپنا حال بیان کیا .یہودی نے کہا ، اے ابو حفص !” تمھیں چالیس دن نماز چھوڑنا ہوگی اور اس اثناء میں نہ تو زبان دل پر خدا کا ناملانا ہوگااور نہ نیکی کا کوئی کام .

اگر اس پر راضی ہو تو میں جنتر منتر پڑھتا ہوں تاکہ تمہاری مراد بر آئے .حضرت ابو حفص نے یہودی کی یہ شرط مان لی ، اور چالیس دن اس طرح گزار لیے .یہودی نے اپنا سحر و عمل کیا مگر اْن کی مراد بر نہ آئی .یہودی کہنے لگا ! غالباً تم نے شرط پوری نہیں کی ضرور تم سے کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے اور نیکی کا کوئی کام کیا ہے .

ذرا سوچ کر بتاؤ ؟ابو حفص نے کہا ! میں نے نہ کوئی نیکی کی اور نہ ظاہر اور باطن میں کوئی عمل خیر کیا .البتہ ایک دن میں نے راستے میں پتھر پڑا دیکھا اس خیال سے اْسے پاؤں سے ہٹا دیا کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگ جائے .اس پر یہودی کہنے لگا ! ” افسوس ہے تم پر کہ تم نے چالیس دن تک اْس کے حکم کی نافرمانی کی اور اْسے فراموش کیے رکھا . لیکن خدا نے تیرے ایک عمل کو بھی ضائع نہیں جانے دیا .

یہ سن کر ابو حفص رحمتہ علیہ نے صدق دل سے توبہ کی اور وہ یہودی بھی اسی وقت مسلمان ہوگیا. اسلام کی روح فرانس میں ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھامیں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھا اورمیں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟

اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں.میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘میں نے پوچھا ’’تم اسلام کے کسپہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘میں نے قہقہہلگایا اور اس سے پوچھا ’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘

اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں.

یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں.

آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کرجائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘

وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گیاس دن اسلام ختم ہو جائے گا.چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘

سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیالیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں‘ میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘میں جان گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا

موبائل پر ایک دوجے کو دل دینے والے پریمی جب ملاقات کرنے پہنچے تو……..

ایک چرسی کی موبائل پراچانک ایک لڑکی سے بات چیت شروع ہوگئی اورچند کالوں کے بعد دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے. دونوں نے طے کیا کہیں ملا جائے.

چرسی نے کہا” ڈارلنگ میں فلاں ریسٹورنٹ پر چلا جاتا ہوں اور امرود کا جوس لیکر کھڑے ہوکر پیونگا، مجھے پہچان کر مل لینا“

چرسی نے ریسٹورنٹ پر جا کر امرود کا جوس طلب کیا ،بدقسمتی سے ریسٹورنٹ والوں نے بتایا کہ آج امرود کا جوس تو نہیں ہے. مجبوراً مینگو جوس لیکر پینے کھڑا ہو گیا. لڑکی ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی، ادھر ادھر نظریں دوڑا کر دیکھا تو کوئی بھی لڑکاامرود کا جوس پیتا نظر نا آتا. چرسی نے دیکھ لیا کہ لڑکی انتہائی بدصورت ہے.لڑکی اٹھلاتی ہوئی

چرسی کے پاس آئی اور آہستہ سے پوچھا” کیا آپ وہی ہیں جس کی میرے ساتھ موبائل پر بات چیت ہوتی رہی ہے؟“ چرسی نے اپنا جوس والا گلاس لڑکی کو دکھاتے ہوئے کہا” اندھی ہو کیا، یہ تجھے امرود کا جوس نظر آ رہا ہے؟“

’’7سال تک مسلمان بن کر پاکستان کی جڑیں کاٹنے والے بھارتی جاسوس اجیت کمار کی کہانی ‘‘

جاسوسی کی تاریخ بہت پرانی ہے، اگر کہا جائے کہ انسان کے زمین پر وارد ہونے سے قبل کی ہے تو بے جا نہ ہو گا، روایات میں ہے کہ جب حضرت آدمؑ کی تخلیق کا رب تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آسمانی راز جاننے کیلئے آسمان کا سفر کرنے والے جنات کو واپس زمین پر دھکیل دیا جائے،

فرشتوں نے حکم بجا لیااور آسمانی رازجاننے کیلئے آسمان کے دروازوں تک پہنچنے والے جنات کو آتشی پتھروں کا نشانہ بنا کر زمین پر دھکیل دیا جاتا. انسانی تمدن آگے بڑھتا رہا ، سلطنتیں باہم دست و گریبان رہی، جنگوں نے دشمن کا حال اور تیاری معلوم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا،

مختلف ادوار میں باقاعدہ دشمن کے خلاف جاسوسوں کو روانہ کیا جاتا رہا اور ان کی بھیجی جانے والی معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگی تیاریاں اور چالیں عمل میں لائی جاتی رہیں. دور جدید میں جب انسانی تمدن میں ترقی اور کئی ممالک دنیا کے نقشے میں معرض وجود میں آ چکے ہیں .

ان میں سے کئی باہم دست و گریبان بھی ہیں ، کہیں نسلی بنیادوں پر اور کہیں دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں جاری ہیں اور جدید اور تباہ کن اسلحہ کی دوڑ نے خطرناک ہتھیاروں کے بھاری ذخائر کو جنم دیا وہیں جاسوسی کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے.وطن عزیز پاکستان اس وقت اپنے بقا کی فیصلہ کن لڑائی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے .

طویل عرصہ سے وطن عزیز میں فرقہ واریت اور مذہب کی غلط تشریح کر کے جہاد کے نام پر فساد برپا کیا گیا اور ملک کو کمزور کرنے کی اغیار کی خطرناک سازشیںجاری رہیں. اغیار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے وطن عزیز پاکستان کو نشانہ بنانے کیلئے اور اس کے خلاف سازشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دشمن ممالک کےکئی جاسوس اپنے ناپاک وجود کو لیکر یہاں وارد ہوتے رہے .

پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں. 1971میں ایک بین الاقوامی خوفناک سازش کے نتیجے میں بھارت نے وطن عزیز کو گہرا زخم پہنچایا اور مشرقی پاکستان جدا کر کے بنگلہ دیش بنا دیا گیا. سازشوں کا یہ مکرہ جال آج بھی پاکستان کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہے. بھارتی جاسوس کلبھوشن یادوگرفتار ہو چکا اور اپنے اعترافی بیان میں اس نے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے.

بھارتی انتہا پسند بی جے پی کی حکومت میں قومی سلامتی کا مشیر اجیت کمار دوول بھی کبھی جاسوس کے بہروپ میں پاکستان کے شہر میں لاہور سات برس تک رہا، یو ٹیوب پر اجیت کمار دوول کا ایک کلپ اب بھی موجود ہے جس میں وہ وطن عزیز میں جاسوسی کے دوران کا واقعہ سناتا ہے.اس کا کہنا ہے کہ وہ مسجد بھی جاتا تھا.

اس کے اپنے الفاط یہ ہیں’’ ایک روز میں ایک ولی اللہ کے مزار پر بیٹھا ہوا تھا تو ایک آدمی‘ جس کی سفید لمبی داڑھی تھی‘نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: تم ہندو ہو؟ ‘‘ میں نے کہا’’ نہیں‘‘ اس نے کہا’’ تم میرے ساتھ آؤ‘‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا.وہ مجھے اس مزار سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا اور کہا’’ دیکھو تم ہندو ہو! ‘‘ میں نے کہا’’ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ‘‘’’اس لئے کہ تمہارے کان چھدے ہوئے ہیں‘‘

میں بھارت میں جہاں کا رہنے والا ہوں وہاں روایت ہے کہ پیدا ہونے کے کچھ عرصے بعد بچے کے کان چھید دئے جاتے ہیں.میں نے بہانا کیا ’’ میں نے بعد میں مذہب تبدیل کیا‘‘. اس نے کہا ’’ تم نے بعد میں بھی مذہب تبدیل نہیں کیا‘ بہتر ہے کہ اس کی پلاسٹک سرجری کروا لو‘اس طرح سے گھومنا ٹھیک نہیں ہے.‘‘میں نے کہا ’’ٹھیک ہے کرا لوں گا’’ پھر اس نے کہا’’ پوچھو گے نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کہا؟‘‘میں نے پوچھا’’کیوں کہا؟ ‘‘

انہوں نے جواب دیا’’ اس لئے کہ میں بھی ہندو ہوں‘‘پھر اس باریش آدمی نے ایک الماری کھولی اور اس میں پڑی ہوئی مورتیاں دکھائیں اور کہا’’ اصل میں ‘ میں ان کی پوجا کرتا ہوں‘‘ . اجیت کمار دوول کا یہ واقعہہماری آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے شاید انہی جاسوسوں کے پیدا کردہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر گزشتہ روز پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی قوم سے فسادیوں اور ملک دشمنوں کے خلاف اپیل کرنی پڑ گئی ہے.

آرمی چیف نے قوم کے نام اپنے بیان میں کہا ہے کہ’’ آئیں مل کر مادرِ وطن کو فساد سے پاک کریں‘‘ . ملک میں برپا یہ فساد انہیں ملک دشمن جاسوسوں کا پیدا کردہ جو مختلف بہروپ بھر کر عوام میں موجود ہیں. ہمیںان ملک دشمنوں کو بے نقاب کرنا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے گردونواح میں کڑی نـظر رکھیں.

شراب سرکہ کیسے بنی

ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے شکایت کی کہ اے امیر لشکر آپ کی فوج میں کچھ لوگ شراب پیتے ہیں . آپؓ نے فوزا تلاشی لینے کا حکم دیا .

تلاشی لینے والوں نے ایک سپاہی کے پاس سے شراب کی ایک مشک برآمد کی لیکن جب یہ مشک آپؓ کے سامنے پیش کی گئی تو

آپؓ نے بارگاہ الٰہی میں یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اس کو سرکہ بنادے چنانچہ جب لوگوں نے مشک کا منہ کھول کر دیکھا تو واقعی اس میں سے سرکہ نکلا. یہ دیکھ کر مشک والا سپاہی کہنے لگا خدا کی قسم ! یہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی کرامت ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ میں نے اس مشک میں شراب بھر رکھی تھی. لیکن جب یہ مشک آپؓ کے سامنے پیش کی گئی تو

آپؓ نے بارگاہ الٰہی میں یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اس کو سرکہ بنادے چنانچہ جب لوگوں نے مشک کا منہ کھول کر دیکھا تو واقعی اس میں سے سرکہ نکلا. یہ دیکھ کر مشک والا سپاہی کہنے لگا خدا کی قسم ! یہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی کرامت ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ میں نے اس مشک میں شراب بھر رکھی تھی.

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

مفتی عبدالقیوم ہزاروی سے مقصود الرحمٰن نے سوال کیاکہ قبل ازیں بعض لوگ ٹیلی فون پر نکاح کرواتے رہے ہیں لیکن آج کل انٹرنیٹ جیسا جدید ذریعہ ابلاغ بھی اس مقصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے‘ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب سے نوازیں.جواب:آپ کا سوال بڑا اہم ہے اور اس کا تعلق عصر حاضر کے جدید ترین مسائل کے ساتھ ہے.

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر شادیوں کی خبریں آئے روز اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں‘ اسلامی ممالک کے علماء و مفتیانِ کرام کا نقطہ نظر بھی پڑھنے کو ملتا ہے . بعض لوگ جواز اور بعض عدم جواز کے قائل ہیں. اصل مسئلہ نکاح کی شرائط کا ہے وہ پوری ہو رہی ہوں تو نکاح جائز ہوتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک یا ایک سے زائد شرطیں پوری نہ ہو سکیں تو نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا.

اس لئے ہم ذیل میں پہلے نکاح کا صحیح طریقہ درج کر رہے ہیں‘ بعض ازاں سوال کی بقیہ جزئیات کو زیرِ بحث لا یا جائے گا.نکاح کا شرعی طریقہ : نکاح کا شرعاً بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ کم سے کم دو عاقل و بالغ مسلمان مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا کر حق مہر کے عوض مرد و عورت کے درمیان ایجاب و قبول کروایا جائے اورخطبۂ مسنونہ پڑھا جائے. نکاح کے موقعہ پر فریقین ہی نہیں‘ دیگر اعزاء و اقارب بھی حاضر ہوں. نکاح مساجد میں پڑھے جائیں اور نکاح و شادی کے موقعہ پر دف‘

ڈھول وغیرہ بجایا جائے اور شادی و خوشی کے گیت گائے جائیں. خاوند کی طرف سے حسبِ توفیق ولیمہ کی دعوت کا اہتمام ہو. شادی کے موقعہ پر یا اس سے قبل جب بھی نکاح پڑھا جائے‘ کھجور‘ چھوہارے وغیرہ لوٹائے جائیں. مگر دور جدید کی گوناگوں ترقی نے نئے وسائل کے ہمراہ نئے مسائل بھی پیدا کردیئے ہیں جن سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا.

ای میل (E-mail)‘ سٹیلائٹ‘ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون وغیرہ دور جدید میں اللہ کی طرف سے انسانی معاشرے کیلئے جدید ترین تحفے ہیں. ان سے احتیاط کے ساتھ استفادہ کرنا ضرورت بن چکی ہے. ایک طرف خاندان بکھرا ہوا ہے . کوئی پاکستان میں ہے تو کوئی انگلینڈ‘ امریکہ ‘ جاپان‘ فرانس اور یورپ و افریقہ و آسٹریلیا کے مختلف علاقوں میں روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہے. زمین سکڑ رہی ہے اور فاصلے سمٹتے جا رہے ہیں.

صبح یہاں شام کو کسی دوسرے براعظم میں. وقت مصروف ترین اور فرصتیں ختم ہوگئی ہیں. عمرِ دراز کے مانگے ہوئے چار دن تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں. ہوسِ زر اور آسائشوں نے احساسِ مروت کو کچل دیا ہے.

مشینوں کی حکومت ہے اور ہم اس کے آگے بے بس پرُزے، صنعت‘ زراعت‘ تجارت‘ تعلیم جدید ٹیکنالوجی نے سب میں انقلاب پیدا کر دیا ہے. یوں نئے دور کے نئے تقاضوں نے بھی جنم لیا ہے اور نئے نئے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں. جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان اپنے دنوں کے کام گھنٹوں میں اور گھنٹوں کے چند منٹ میں کرنے لگا ہے.

مختلف اقسام کے کاروبار اور ٹریڈنگ کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نہایت آسانی سے ہو رہی ہے. شادی کا شرعی حکم : شادی کے بارے میں قرآن مجید نے بڑے واضح انداز میں ارشاد فرمایا : فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ. (النسآ‘ 4 : 3) تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)،

پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو. اصل مسئلہ : پاکستان اور دوسرے پسماندہ علاقوں سے لوگ روزگار کمانے کیلئے یورپ‘ امریکہ اور دوسرے امیر ملکوں میں جاتے ہیں، چونکہ ان کے باقی رشتہ دار ملک میں رہتے ہیں.

ان لوگوں کو اپنے بچوں‘ بچیوں کی شادی کے سلسلہ میں کئی مسائل در پیش ہوتے ہیں. مناسب‘ رشتے ملنا‘ ایک دوسرے کو دیکھنا اور پسند کرنا‘ شرائط طے کرنا‘ حق مہر وغیرہ کا فیصلہ کرنا. پورے خاندان کا ایک ملک سے دوسرے ملک آنا جانا‘ سفری دستاویزات کی تیاری، NOC کا حصول‘ بھاری بھر کم کرائے وغیرہ‘ رخصت ملنا وغیرہ وغیرہ، اسی طرح کے دیگر مسائل آڑے آتے ہیں.

اس لئے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکا لڑکی اپنے اپنے گھر میں رہیں. شرائط طے کر لیں. نکاح ہو جائے پھر لڑکی یا لڑکے کا باہر جانا اور سفری دستاویزات کا حصول بلکہ ان ممالک کی نیشنلٹی شہریت کا حصول بھی آسان تر ہو جائے گا اور شادی کے کچھ عرصہ بعد فریق باہر جا سکے گا. اب مسئلہ ہے نکاح پڑھنے کا‘ لڑکا اِدھر لڑکی اُدھر.

نکاح کیلئے دونوں کا موجود ہونا اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول وغیرہ کی شرائط کیسے پوری ہوں؟ عملی ترکیب : (1) سب سے پہلے پاکستان سے نکاح فارم لیں اور ان کو مکمل فِل کریں. جو فریق ملک سے باہر ہے، اس کا نام، پتہ اور دستخط کرنے کیلئے وہ کاغذات اس کے پاس بھیجیں.

مثلاً لڑکا باہر ہے تو دولھا‘ اس کا وکیل اور اس کے وکیل کے دو گواہ کم سے کم ان تینوں کے نام‘ مکمل پتے اور ان کے مخصوص جگہ پر دستخط کرنے کیلئے چاروں نکاح فارمز باہر بھیجیں. وہ اسے فِل کر کے واپس بھیج دیں گے. باقی فارم یہاں پُر کریں. لڑکے اور ان تینوں کو لڑکی کی تمام ضروری معلومات اور حق مہر کی تفصیل بتا دیں.

(2) لڑکی یہاں ہے، اس کا نام پتہ اس کے وکیل کا نام، پتہ اور وکیل بنانے کے دو گواہوں کے نام و پتہ لکھیں اور ان سب کے دستخط کروائیں. پھر شادی کے دو گواہ بنا لیں ان کے نام و پتہ اور دستخط کروائیں. (3) جب اِدھر اُدھر کے دونوں فریقوں کو تمام حقیقت معلوم ہوگئی تو ٹیلی فون سیٹ نکاح خوان کے سامنے رکھیں.

تمام متعلقہ لوگ جن کے نام فارم پر لکھے ہیں. اِدھر کے بھی اور اُدھر کے بھی ایک جگہ بیٹھ جائیں. اِدھر کے یہاں اور اُدھر کے وہاں. اب نکاح خوان فارم ہاتھ میں لے اور ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کی صورت میں مائیک پر لڑکے کا نام اسی سے پوچھے. والد کا نام اور یہ بھی معلوم کرے کہ کیا اس کا آج نکاح ہو رہا ہے؟

کس لڑکی سے ہے اور وہ کس جگہ سے ہے؟ لڑکی کے والد کانام‘ حق مہر‘ کوئی اور شرائط ہو تو نکاح خواں وہ بھی اس سے پوچھے. سپیکر آن ہونے چاہیے تاکہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں. (4) جب لڑکا یہ تمام باتیں کر لے اور نکاح کی اجازت بھی دے دے تو اس سے کہا جائے کہ اس کا یہاں وکیل کون ہے. اس کا والد کون ہے وغیرہ.

اب لڑکی سے اجازت لے کر اس لڑکی کا اس لڑکے سے نکاح کریں. ٹیلیفون پر لڑکے سے اس کے گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کروائیں. اس کے ساتھ ساتھ لڑکے کا جو وکیل آپ کے پاس موجود ہے اُس سے بھی نکاح کا ایجاب و قبول کروایا جائے. یعنی لڑکے کا وکیل کہے کہ میں نے فلاں لڑکی اتنے حق مہر کے عوض ان شرائط کے تحت ان گواہوں کے روبرو اپنے فلاں موکل کے نکاح کیلئے قبول کی.

اگر ٹیلیفون پر پورا بندوبست ہو. فریقین ایک دوسرے کو پہچان لیں‘ نکاح ہو جائے گا. اس نکاح میں تین پہلو نمایاں ہونگے. (i) چونکہ دونوں نے اپنا اپنا وکیل بنایا ہوا ہے‘ اور نکاح فارم میں ہر ایک کا وکیل اور اس کے دستخط موجود ہیں. وکیل بنانے کے دوگواہ اور ان کے دستخط بھی موجود ہیں، لہٰذا یہ نکاح وکالتاً صحیح ہوا

. (ii) ٹیلی فون پر جب نکاح فارموں کے مطابق فام ولدیت، پتہ اور دوسرے فریق سے ان کا تعلق، ہونے والے نکاح کے بارے میں اجازت و رضا مندی‘ شرائطِ مکتوبہ کی تائید و توثیق وغیرہ صراحتاً موجود ہے اور دوسری طرف سے پوری احتیاط کے ساتھ تمام مراحل طے کرا لئے گئے اور گواہوں کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھا گیا تو نکاح درست رہا

. (iii) بالفرض ٹیلی فون پر گفتگو میں کوئی غلط بیانی ہوگئی تو ایسا امکان لڑکے‘ لڑکی کی موجودگی میں بھی ممکن ہے. مثلاً یہاں ہم آئے دن نکاح پڑھتے ہیں. نکاح خوان کو کیا معلوم کہ یہی لڑکی ہے، یہی لڑکا ہے اور یہی ان کی پہلی شادی ہے وغیرہ. محض اعتماد و اعتبار کی بات ہے.

ملک اور بیرونِ ملک میں جب ٹیلی فون پر شادی ہوگی تو اس میں بھی خطا و غلطی کا امکان رہتا ہے. بالکل اسی طرح جیسے یہاں‘ محض غلطی کے اتنے سے امکان سے فرق نہیں پڑتا. آخر ٹیلیفون پر کاروبار‘ لین دین‘ ٹھیکے‘ در آمد و برآمد‘ موت و حیات کے بہت سے دوسرے امور بھی انجام پاتے ہیں. غلطی کا امکان ان میں زیادہ ہے کیونکہ نکاح کے سلسلہ میں ہم نے جتنی بھی احتیاط برتی دوسرے معاملات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں.

جب اس کے باوجود دوسرے معاملات میں ٹیلی فون وغیرہ سے استفادہ کرتے ہیں تو نکاح و شادی کے معاملات بھی اس احتیاط کے ساتھ کر لئے جائیں تو شرعاً جائز ہے. غلطی کا امکان : جس طرح آج کل نکاح پڑھا جاتا ہے. اس میں بھی غور کریں تو غلطی یا غلط بیانی اور فراڈ کا امکان موجود ہے اور بڑی آسانی سے فراڈ کیا جا سکتا ہے.

مثلاً نکاح خوان کو لڑکی، لڑکے کے نام، ولدیت‘ گواہوں کے نام، پتے‘ دولہا، دلہن کی عمریں بتائی اور لکھوائی جاتی ہیں. اگر اہلِ خانہ چاہیں تو کس کس جگہ فراڈ نہیں کر سکتے؟ لڑکی کونسی ہے؟ نکاح خوان نہیں جانتا‘ اس نے بلا جبر نکاح کی اجازت دی ہے یا گن پوائنٹ پر اسے اس کی بھی خبر نہیں؟

یہ گھر کے محض لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا. نکاح پڑھنے والے کو کچھ معلوم نہیں. وہ تو ہر بات میں اہلِ خانہ پر اعتماد کر کے قدم اٹھاتا ہے. یہاں بھی ممکن ہے شکل کسی اور لڑکی کی دکھائی اور بیاہ کر کوئی دوسری دیدی. نکاح خوان ان حقائق سے بے خبر ہے. یہ اور ایسی دوسری باتیں نکاح پڑھنے والا نہیں جانتا.

محض اہل خانہ پر اعتبار و اعتماد کرتا ہے اور یہ اس کی مجبوری بھی ہے. بایں ہمہ ہر روز ہی تقریباً کوئی نہ کوئی نکاح آتا رہتا ہے اور نکاح خوان محض اہل خانہ پر اعتماد کر کے جملہ کوائف تحریر کرتا ہے اور نکاح پڑھاتا ہے. غلطی اور فراڈ کا امکان بھی ہوتا ہے . تاہم جہاں تک انسان کے بس میں ہے احتیاط لازمی ہے.

باقی سپردِ خدا. یونہی مذکورہ بالا طریق پراحتیاط کے ساتھ فارم فِل کئے جائیں. فریقین میں سے جو حاضر ہے‘ اس کو اس کے والدین اور دیگر اعزاء کے ساتھ اس تقریب میں مدعو کریں. یونہی جن جن کا نام کسی بھی حیثیت سے نکاح فارم پر لکھا ہوا ہے، ان میں سے وہ لوگ جو اس ملک اور اس شہر میں رہتے ہیں‘ ان کو مجلسِ نکاح میں حاضر رکھیں. اب نکاح خوان سے بیرونِ ملک متعلقہ لوگوں کا رابطہ کروائیں.

یہ صاحب نکاح فارم ہاتھ میں پکڑیں اور وہاں پر موجود فریق لڑکا یا لڑکی جو بھی ہے اس کانام‘ ولدیت‘ پتہ اُسی سے دریافت کریں. وہ بتاتا جائے گا آپ فارم پر چیک کرتے جائیں. پھر وہاں کے دوسرے لوگ جن کے نکاح فارم پر دستخط ہیں‘ ان سب سے ان کا نام پتہ دریافت کریں اور فارم چیک کرتے جائیں. دیگر شرائط بھی ان سے پوچھیں.

لڑکے اور لڑکی سے جو بھی باہر ہے اس کا نام، پتہ معلوم کریں اور نکاح سے متعلق معلومات اس سے پوچھیں. اس طرح تمام متعلقہ امور کی واضح معلومات حاصل ہو جائیں گی. یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ نکاح خوان دو طرح سے ایجاب و قبول کرے : (1) جہاں نکاح خوان موجود ہے وہاں لڑکا ہے یا لڑکی اُس سے اجازت اور شرائط وغیرہ بالمشافہ طے کرے اور دوسرے فریق سے بذریعہ ٹیلیفون پر مسئلہ طے کرے.

ہر اس آدمی سے ٹیلیفون پر رابطہ کرے جس کا فارم کے اوپر نام درج ہے اور اس کی قانونی حیثیت کی اُس فارم پر وضاحت کرے. اب اس محفل میں ایک فریق اصالۃً موجود ہے، دوسرے فریق سے ٹیلیفون پر رابطہ ہے. یوں ایجاب و قبول آسانی سے کر سکتا ہے. (2) نکاح پڑھنے کا دوسرا طریقہ بھی استعمال کرے‘ اس طرح کہ جو فریق حاضر ہے وہ تو

اصالۃً ایجاب و قبول کرے گا. مگر جو فریق بیرون ملک ہے، اس کا وہ وکیل جس کا نام نکاح فارم پر لکھا ہے، وہ یہاں موجود ہے. نکاح خوان اُن گواہوں کے رُوبرو جن کا نام بطور وکیل کے تقرر کے گواہان فارم پر موجود ہے، اس وکیل سے یوں کہے ’’ کہ فلاں لڑکا‘ لڑکی ولد فلاں‘ بنت فلاں کا نکاح اتنے حق مہر معجل‘ موجل یا عند الطلب کے بدلے ان مسلمان گواہوں کے رو برُو کرتا ہوں‘ تمہیں اپنے موکل کے نکاح کیلئے یہ لڑکی ان شرائط کے ساتھ قبول ہے، وہ کہے ہاں قبول ہے.

تین بار (احتیاطاً) یہ ایجاب و قبول کیا جائے‘ یہ نکاح شرعاً ہو جائے گا. بالفرض اتنی احتیاطوں کے باوجود کوئی ابہام یا غلطی ہوگئی تو اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے. مثلاً اتنی احتیاط کے باوجود اگر ثابت ہو جائے کہ ٹیلیفون پر متعلقہ لڑکے‘ لڑکی کا ایجاب و قبول نہیں ہوا، دھوکہ سے کسی اور سے کروایا گیا ہے تو کوئی بات نہیں.

دار و مدار صرف ٹیلیفون پر نہیں تھا، تحریری طور پر مقررہ وکیل اور گواہان موجود ہیں. ان کے وکالتاً نکاح کرنے سے نکاح ہوگیا. بالفرض یہاں کوئی خرابی نکل آئے تو رخصتی کے بعد قربت سے پہلے نکاح ہو سکتا ہے‘ گویا یہ ممکنہ غلطیاں ہو بھی جائیں تو ان کا ازالہ ممکن ہے.

نکاح فضولی : بالفرض دو شخص دو گواہوں کے سامنے کسی غیر حاضر مرد اور غیر حاضر عورت کے بن بنائے وکیل بن جائیں اور حق مہر بھی خود متعین کریں اور ایجاب و قبول بھی کر لیں تو اسے نکاح فضولی کہا جاتا ہے اور متعلقہ لڑکے لڑکی کی اجازت پر موقوف ہے. جب متعلقہ لڑکے‘ لڑکی کو پتہ چلا اور انہوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کر دی تو نکاح درست ہو جائے گا اور دونوں نے یا ایک نے انکار کر دیا تو نکاح نہیں ہوگا.

بالفرض ٹیلیفون پر کئے ہوئے نکاح میں کوئی بھول چُوک ہوگئی تو نکاح فضولی کی طرح یہ بھی مسترد کر دیا جائے گا. عام طور پر جو نکاح ہوتے ہیں‘ وہاں بھی تو گواہوں پر اعتبار ہی ہوتا ہے. بالفرض جن دو مرد و زن میں رشتہ نکاح ہو رہا ہے‘ ان میں حرمت کا کوئی سبب موجود ہے اور نکاح پڑھنے‘ گواہی دینے اور نکاح کرنے والے سے یہ حقیقت پوشیدہ رکھی گئی ہے تو ہزار احتیاط کے باوجود ایسا ممکن ہے.

اگر ایسی غلطی کر دی گئی ہے تو لا علم لوگ تو بری الذمہ ہونگے کہ معذور ہیں اور نکاح نہ ہوگا کہ حرمت کا سبب موجود ہے. مثلاً وہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بہن ہے اور ذمہ دار لوگوں نے اُسے یہ حقیقت بتائی نہیں تو یہ نکاح اللہ کے نزدیک نہ ہوگا. البتہ اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوگا، اس کا وبال ان لوگوں پر ہوگا جو اس کے ذمہ دار ہیں. نکاح خوان‘ گواہان اور لڑکا‘ لڑکی بے گناہ ہیں.