بیت المال زرد اور سفید مال سے بھر گیا ہے

ابن التیاح دوڑتا ہوا بارگاہِ خلافت میں حاضر ہوا، اس نے دیکھا کہ حضرت علیؓ، حضور اکرمؐ کی سیرت طیبہ کے ذکر سے اہل مجلس کو معطر کیے ہوئے ہیں۔ ابن التیاح نے عرض کیا: اے امیر المومنین! بیت المال زرد اور سفید مال سے بھر گیا ہے۔ (یعنی سونے اور چاندی سے) حضرت علیؓ فوراً اٹھے اور ابن التیاح کا سہارا لیے بیت المال پہنچے۔

یہاںپہنچ کر آپؓ نے سونے چاندی کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرمایا: اے زرد مال! اسے سفید مال! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دے۔ اس کے بعد آپؓ نےوہ مال مسلمانوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا حتیٰ کہ بیت المال میں ایک درہم یا ایک دینار بھی باقی نہ رہا۔ پھر آپؓ نے اس جگہ کو صاف کرنے اور پانی چھڑکنے کا حکم دیا اور پھر وہاں دو رکعتیں نماز ادا کیں۔

سب سے بہادر شخص کون ہے؟

ایک دن حضرت علیؓ کوفہ میں تھے۔ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں کو خاموش کرانے لگے تاکہ سابقین اولین کے حالات سے لوگوں کو آگاہ کر سکیں، آپؓ مخاطب ہوئے، لوگو! مجھے بتاؤ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپؓ ہیں۔ فرمایا کہ میں نے کسی سے مبارزت طلب نہیں کی مگر اس سے پورا انتقام لیا، لیکن تم مجھے یہ بتاؤ کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم۔ امیر المومنین! آپؓ ہی بتا دیں کہ کون ہو سکتا ہے؟

حضرت علیؓ نے فرمایاکہ سب سے بہادر آدمی، ابوبکرصدیقؓ ہیں، اس لیے کہ بدر کے دن ہم نے رسول اللہؐ کے لیے ایک عریش بنایا تو ہم ن ے کہا کہ اب رسول اللہؐ کے ساتھ کون رہے گا تاکہ مشرکین آپؐ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں تو خدا کی قسم! ابوبکر صدیقؓ کے سوا اور کوئی آنحضورؐ کے قریب نہیں ہوا، ابوبکرؓ رسول اللہؐ کے سر پر کھڑے تھے اور تلوار سونتی ہوئی تھی، دشمن کی طرف سے جو بھی قریب آتا آپؓ فوراً اپنی تلوار سے اس پر وار کرتے۔ پس ابوبکرؓ ہی سب سے بہادر آدمی ہیں۔

اے علیؓ! تیرا مرتبہ ایسا ہے جیسے ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا

جب حضورِ اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو اپنے گھر میں رہنے کاحکم دیا اور خود ہجرت پر تشریف لے گئے تو منافقین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ آنحضورؐ حضرت علیؓ کو معمولی حیثیت کا خیال کرکے اور اپنے پر بوجھ سمجھتے ہوئے چھوڑ گئے ہیں۔

منافقین کی یہ باتیں حضرت علیؓ تک پہنچیں تو آپؓ نے اپنا اسلحہ اٹھایا اور نکلے، یہاں تک کہ نبی کریمؐ کے پاس پہنچے، حضورؐ اس وقت مدینہ کے قریب مقام ’’جرف‘‘ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور عرض کیا: اے اللہ کےنبیؐ! منافقین یہ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ مجھے اس لیے چھوڑ آئے ہیں کہ آپؐ مجھے اپنے لیے بوجھ سمجھتے تھے اور مجھے کم حیثیت خیال کرتے تھے۔ نبی کریمؐ نے سختی سے فرمایا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں میں نے تو محض ان امانتوں کی وجہ سے تجھے پیچھے چھوڑا تھا اب تم واپس جاؤ اور میرے اہل و عیال اور اپنے اہل و عیال کی خبر گیری کرو، اس کے بعد آنحضرتؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے بنو جیسے ہارونؑ ، موسیٰ ؑ کے لیے تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (یہ سن کر) حضرت علیؓ کا رنج و غم دور ہوا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ گئی پھر آپؓ مکہ واپس آ گئے۔

حضرت علیؓ کا شفا پانا

رات کی تاریکی چھا چکی تھی اور مکہ اپنی گھاٹیوں کے ساتھ تاریک اندھیرے میں چھپ چکا تھا، اس دوران قرشی نوجوان علیؓ نے اپنی لاٹھی کندھے پر ڈالی اور رات کے اندھیرے میں لوگوں سے چھپ چھپا کر رختِ سفر باندھا۔

بعد اس کے کہ آپؓ تین روز تک ان امانتوں کی ادائیگی کے لیے جو نبی اکرمؐ نے آپؓ کے حوالہ کی تھیں، مکہ میں مقیم رہے۔ وہ نوجوان بلاتردد اور بلا خوف جرأت مندی کے ساتھ سفر طے کرتا رہا، رات کو سفر کرتے اور دن کو کہیں روپوش ہو جاتے حتیٰ کہ آپؓ مدینہکے قریب پہنچ گئے حال یہ تھا کہ پاؤں مبارک سوج گئےاور پھٹ گئے تھے۔ جب نبی کریمؐ کو آپؓ کی آمد کا علم ہوا تو فرمایا: علیؓ کو میرے پاس بلاؤ۔ عرض کیا گیا کہ وہ تو پیدل نہیں چل سکتے، زیادہ چلنے کی وجہ سے ان کے پاؤں متورم ہیں، چنانچہ خود نبی اکرمؐ ان کے پاس تشریف لے گئے، آپؐ نے دیکھا کہ حضرت علیؓ زمین پر پڑے ہیں۔ آپؐ جذبۂ شفقت و رحمت سے رونے لگے اور شوق سے گلے لگایا۔ پھر آنخضورؐ نے اپنے دست مبارک میں لعاب دہن ڈال کر حضرت علیؓ کے قدموں کو لگا دیا تو وہ اس سے بالکل ٹھیک ہو گئے، پھر حضرت علیؓ کو تادمِ حیات اپنے قدموں میں تکلیف نہیں ہوئی تھی۔

یہ اونٹ کتنے کا ہے؟

پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک فقیر آیا، جو فقر و ذلت کا مارا ہوا تھا اور بدن بھی نہایت کمزور و نحیف تھا۔ بارگاہِ مرتضوی رضی اللہ عنہ میں حاضر ہو کر دست سوال دراز کیا۔ حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ سے فرمایا کہ اپنی اماں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ابا جان نے آپؓ کو جو چھ درہم دیے تھے ان میں ایک درہم دے دو۔ حضرت حسنؓ گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد واپس آ گئے،اور کہنے لگے وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ چھ درہم آٹے کے لیےرکھ چھوڑے ہیں۔

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کسی بندے کا ایمان اس وقت تک صادق نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی چیز کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتا جو اس کے پاس ہیں۔ پھر فرمایا: ان سے جا کر کہو کہ چھ کے چھ درہم بھیج دو۔ حضرت فاطمہؓ نے چھ کے چھ درہم بھیج دیے۔ حضرت علیؓ نے وہ چھ کے چھ درہم اس سائل کو دے دئیے۔ ابھی حضرت علیؓ اپنی مجلس سے اٹھے نہیں تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے پاس اونٹ تھا، وہ اس کو بیچنا چاہتا تھا، حضرت علیؓ نے پوچھا بھائی! یہ اونٹ کتنے کا ہے؟ اس نے کہا کہ ایک سو چالیس درہم کا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس کو یہیں باندھ دو، میں تجھے اس کی قیمت بعد میں دے دوں گا، اس آدمی نے ایسا ہی کیا، اونٹ باندھا اور جہاں سے آیا تھا چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک اور آمی آیا، اس نے پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرا ہے اس نے کہا کہ آپؓ اس کو بیچیں گے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہاں، اس آدمی نے پوچھا: آپؓ یہ اونٹ کتنے کا بیچیں گے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ دو سو درہم کا۔ اس آدمی نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں نے یہ اونٹ خرید لیا۔ اس نے اونٹ پکڑا اور دو سو درہم حضرت علیؓ کو دے دئیے۔ پھر حضرت علیؓ نے ایک سو چالیس درہم اس آدمی کو دے دئیے جس سے اونٹ خریدا تھا اور باقی ساٹھ درہم لے کر حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے پاس پہنچے۔ حضرت فاطمہؓ نے پوچھا کہ یہ کیاہے؟

تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو

حضرت علیؓ آنسو بہاتے ہوئے حضور نبی کریمؐ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور کپڑے کے کونے سے آنسو پونچھتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! آپؐ نے اپنے صحابہ کرامؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ نبی کریمؐ مسکرائے

اور ان کو اپنے ساتھ بٹھایا اور اپنے سینہ سے لگا کر فرمایا: تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ پھر لوگوں کے عام مجمع میں یہ اعلان فرما دیا: لوگو! یہ علیؓ میرا بھائی ہے۔ یہ علیؓ میرا بھائی

لوگوں کو ان کے درجات پر اتارو

امیر المومنین حضرت علیؓ کی مجلس میں ایک ضعیف البدن آدمی آ گھسا، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور پیشانی ابھری ہوئی تھی اور فقر و حاجت اور افلاس و بھوک کے آثار اس پر ظاہر ہو رہے تھے اور جو کپڑے اس نے پہن رکھے تھے اس میں بے شمار پیوند لگے ہوئے تھے، آہستہ آہستہ قریب آیا اور آپؓ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، اس کے ہونٹ مارے حیاء کے کانپ رہے تھے،پھر اس نے اپنے اوپر ضبط کرنے کے بعد بارگاہِ خلافت میں اپنی نحیف آواز کے ساتھ عرض کیا: یا امیر المومنین!میں ضرورت مند ہوں،

میں نے اپنی حاجت آپؓ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے بارگاہِ الٰہی میں بھی پیش کی ہے۔ اگر آپؓ میری حاجت روائی کریں گے تو میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور آپؓ کا شکریہ ادا کروں گا اور اگر آپؓ نے میری حاجت پوری نہ کی تو میں اللہ کی تو تعریف کروں گا اور آپؓ کا عذر قبول کروں گا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: یہ بات زمین پر لکھو، کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ میں تیرے چہرے پر سوال کی ذلت دیکھوں۔ اس آدمی نے زمین پر لکھ دیا کہ میں حاجت مند ہوں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ایک جوڑا (کپڑوں کا) پیش کیاجائے۔ جوڑا لایاگیا، آپؓ نے وہ جوڑا اس آدمی کو پہنا دیا۔ پھر اس آدمی نے یہ اشعار کہے۔ ’’آپؓ نے مجھے کپڑوں کا ایسا جوڑا پہنایا جس کی خوبیاں پرانی ہو جائیں گی لیکن میں آپؓ کو حسنِ تعریف کے جوڑے پہناؤں گا اگر آپؓ کو میری حسن تعریف حاصل ہوئی تو آپؓ نے عزت کی چیز کو حاصل کیا اور جو کچھ میں نے کہا ہے آپ اس کا بدل نہیں ڈھونڈیں گے۔ کسی کی تعریف، اس ممدوح کے ذکر کو زندہ رکھتی ہے جیسے شیر کی آواز میدانوں میں اور پہاڑوں میں زندہ رہتی ہے ، تو کبھی بھی خیر کے کام سے بے رغبت نہ ہو جس کی تجھے توفیق ملے، کیونکہ ہر بندے کو اس کے عمل کا بدلہ ملنے والا ہے۔‘‘(جب حضرت علیؓ نے اس کے اشعار سنے تو) فرمایا: اشرفیاں لاؤ، چنانچہ سو دینار لائے گئے، آپؓ نے اس فقیر کو دے دئیے۔ اصبغ نے کہا: اے امیرالمومنین! آپؓ نے اس کو حلہ (جوڑا) اور سو دینار دے دئیے؟

حضرت علیؓ نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول کریمؐ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپؐ نے فرمایا: ’’لوگوں کو ان کے درجات پر اتارو‘‘ میرے نزدیک اس آدمی کا یہی مرتبہ تھا۔

کیا کوئی مردِمیدان ہے؟

زوۂ احد میں لڑائی کے انگارے برس رہے تھے، مشرکین کی نعشیں بہادروں کی تلواروں کی زد میں آ کر اِدھر اُدھر بکھر رہی تھیں اور موت سروں پر منڈلا رہی تھی، اتنے میں حضرت علیؓ مسلمانوں کے علمبردار ہوئے تو مشرکین کے علمبردار ابو سعد بن ابی طلحہ نے ان کو دیکھا اور اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا میدانِ جنگ کے بیچ میں پہنچا جہاں گردنیں اڑ رہی تھیں اور فخریہ انداز میں کہنے لگا: کیا کوئی مردِمیدان ہے؟

کسی نے جواب نہیں دیا، اس نے غرور و تکبر کے لہجہ میں پکارا۔ کیا تم یہنہیں کہتے کہ تمہارے مقتول جنت میں اور ہمارے مقتول دوزخ میں جائیں گے، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ نہیں چاہتا کہ وہ میری تلوار کے ذریعے جنت میں چلا جائے یا میں اس کی تلوار سے دوزخ میں چلا جاؤں؟ حضرت علیؓ نے اس مشرک ابو سعد بن ابی طلحہ کی پکار کا جواب دیتے ہوئے کہا: اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس وقت تک تجھ سے جدا نہیں ہوں گا جب تک کہ تو مجھے اپنی تلوار سے جنت میں نہ پہنچا دے یا میں تجھے اپنی تلوار سے جہنم رسید نہ کر دوں۔ دونوں میدانِ کارزار میں نکلے دونوں کا مقابلہ ہوا دونوں نے اپنے اپنے وار کیے مگر حضرت علیؓ نے تلوار کی ایک ضرب لگائی اور اس کی ٹانگ کاٹ دی، اور وہ زمین پر گر پڑا اور ابوسعد برہنہ ہوگیا۔ پھر وہ ملتجی ہوا: اے ابن عم! میں تجھے خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں اور تجھ سے رحم کی درخواست کرتا ہوں، حضرت علیؓ نے اس کو چھوڑ دیا، حضورِ اکرمؐ نے اللہ اکبر کہا، حضرت علیؓ کے ساتھیوں نے پوچھا: بھلا آپؓ نے اس کو کیوں چھوڑ دیا، اس کا کام ہی تمام کر دیتے؟ حضرت علیؓ نے ان کو جواب دیا کہ میرے سامنے اس کا ستر کھل گیا تھا اور اس نے مجھ سے رحم کی اپیل بھی کی تھی۔

حضرت عمرؓ کا حضرت علیؓ کو بوسہ دینا

یک آدمی پریشان روتا ہوا امیر المومنین حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سخت آواز میں پکار کر کہنے لگا: یا امیر المومنین! میری مدد فرمائیں۔ یا امیرالمومنین! میری مدد فرمائیں۔ حضرت عمرؓ نے متحیر ہو کر فرمایا: ارے! کس کے خلاف تیری مدد کروں؟اس آ دمی نے حضرت علیؓ کو اپنی نظر کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: اس آدمی کے خلاف جو آپؓ کے برابر بیٹھا ہوا ہے، حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کی طرف دیکھا،

پھر فرمایا: اے ابوالحسن! اٹھو اور اپنے فریق کے برابر بیٹھ جاؤ۔ حضرت علیؓ اٹھے اور اپنےفریق مخالف کے برابر بیٹھ گئے، دونوں نے باہمی مباحثہ کیا پھر وہ شخص جو صاحب استغاثہ تھا واپس چلا گیا اور حضرت علیؓ اپنی جگہ پر امیر المومنین کے برابر آ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کا چہرہ متغبر ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اے ابوالحسن: کیا بات ہے آپ کا رنگ کیوں بدلا ہواہے؟ کیا آپؓ کو اس واقعہ سے ناگواری ہوئی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہاں، حضرت عمرؓ نے پوچھا: آپؓ کو کس بات پر ناگواری ہوئی؟ حضرت علیؓ نے فرایا کہ آپؓ نے مجھے میرے مخالف فریق کی موجودگی میں میری کنیت سے یاد کیا اور کہا کہ اے ابو الحسن! اٹھو! آپؓ نے یوں کیوں نہیں کہا: اے علیؓ اٹھو! اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھ جاؤ؟ فاروقِ اعظمؓ کا چہرہ دمک اٹھا، چہرہ پر خوشی کے آثار نمایاں ہو گئے، حضرت علیؓ کو گلے لگایا اور یہ کہتے ہوئے ان کو بوسہ دینے لگے: میرے باپ تم پرفدا ہوں، تمہاری وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی اور تمہاری وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے ہم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی عطا فرمائی۔

حضرت علیؓ کی فطانت اور دور اندیشی

چانک ایک شہسوار دوڑتا ہوا آیا اور بلند آواز سے عرض کرنے لگا: یا رسول اللہؐ قریش مکہ نے بد عہدی کر دی، نبی کریمؐ نے فتح مکہ کے لیے تیاری شروع فرما دی۔ دوسری جانب حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ نے قریش کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے حضور نبی کریمؐ کی مکہ روانگی اور مکہ پر فوج کشی کی تیاریوں کے متعلق خبر کا ذکر کیا۔ حاطبؓ نے وہ خط ایک عورت کو دیا،

اور اس کو کچھ مال دیا کہ وہ یہ خط قریش مکہ تک پہنچا دے، چنانچہ اس عورتنے وہ خط اپنے سر کے بالوں میں چھپا کر اوپر سے جوڑا کر لیا اور فوری طور پر مکہ کے لیے روانہ ہوئی۔ حاطبؓ کے اس عمل کی خبر وحی آسمانی کے ذریعہ پہنچ گئی تو حضورِ اقدسؐ نے حضرت علیؓ اور حضرت مقدادؓ یا حضرت زبیرؓ کو گرفتاری کے لیے بھیجا اور فرمایا: اس عورت کو گرفتار کرو حاطب رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے ہاتھ قریش مکہ کو خط لکھا ہے جس میں اس نے ہماری تیاری وغیرہ کے متعلق ان کو ہوشیار کیا ہے۔ وہ دونوں حضرات دوڑتے ہوئے گئے اور اس عورت کو اسی جگہ پا لیا، اس عورت سے کہا: کیا تیرے پاس کوئی خط ہے؟ اس نے گھبراتے ہوئے کہا: نہیں، میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ ان دونوں نے اس عورت کے سامان اور کجاوہ کی تلاشی لی مگر کچھ نہ ملا، جب وہ ناامید ہو کر واپس جانے لگے تو حضرت علیؓ نے اس عورت کو پُرعزم اور ایمان بھرے قلب سے کہا: خدا کی قسم! رسول اللہؐ پر آنے والی وحی جھوٹی نہیں ہو سکتی اور رسول کریمؐ نے بھی ہم سے جھوٹ نہیں بولا،۔ جب اس عورت نے معاملہ کی سنگینی اور ان کے چہرہ پر آثارِ سنجیدگی دیکھی تو کہنے لگی: ذرا چہرہ پھیرو۔ آپؓ نے اس سے منہ پھیرا تو اس نے اپنے سر کے بالوں سے وہ خط نکالا حضرت علیؓ کا چہرہ دمک اٹھا، وہ خط پکڑا اور اسے لے کر رسول اللہؐ کی جانب روانہ ہوگئے۔