نیل پالش لگی لڑکی کا غسل، شرعی حکم کیا ہے؟

دنیا میں آنے والے ہر شخص کو موت کا مزہ چکنا ہے، حضرت آدم ؍ سے لے کر آخری انسان تک دنیا میں آنے والے ہر شخص کو رخصت ہوکر اللہ کی بارگاہ میں اپنی گزاری جانے والی زندگی کا جواب دینا ہے. اسلامی تعلیمات پر دنیا سے رخصت ہونے والے مسلمانوں کے لیے تدفین سے قبل کچھ شرعی شرائط ہیں جنہیں پورا کیا جانا بہت ضروری ہوتا ہے.

کوئی بھی مسلمان شخص جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو سب سے پہلے اُس کو غسل دے کر پاک اور پھر کفن پہنایا جاتا ہے جس کے بعد اُس کا نمازِ جنازہ اور پھر تدفین کا عمل ہوتا ہے. نیل پالش لگی لڑکی کا غسل  مفتی اکمل قادری کے سامنے خاتون نے ایک مسئلہ رکھا جس کے مطابق کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی کے ناخنوں پر نیل پالش لگی ہوئی تھی اور اُس کو ایسی غسل دے کر دفنایا گیا، اس ضمن میں شرعی احکامات کیا ہیں.؟ مسئلہ سننے کے بعد مفتی اکمل قادری نے کہا کہ چونکہ ناخن پر نیل پالش لگے رہنے پانی کی رسائی نہیں ہوسکتی اس لیے وہ وضو اور غسل نہیں ہوتا. نیل پالش لگا چونکہ وضو نہیں ہوتا اس لیے نماز بھی ادا نہیں کی جاسکتی کیونکہ نماز کی ادائیگی کے لیے پہلی شرط وضو ہے. انہوں نے کہا کہ شرعی لحاظ سے جب کوئی شخص مرتا ہے چاہیے وہ پاک ہی کیوں نہ ہو اُس پر حالتِ جنابت طاری ہوجاتی ہے، چونکہ وہ شخص مر چکا ہوتا ہے اس لیے زندہ لوگوں کو حکم ہے کہ وہ مردے کو غسل دیں تاکہ اُس کا جسم پاک ہو اور وہ اللہ کی بارگاہ میں پاک حالت میں پہنچے. مفتی اکمل قادری نے کہاکہ چونکہ مرنے والی لڑکی خود نیل پالش نہیں اتار سکتی تھی اس لیے اب اس کو ہٹانے کی ذمہ داری غسل دینے والوں اور قریبی لوگوں پر عائد ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ غسل دینے والی یا اُس وقت موجود افراد کے پاس چونکہ علم نہیں ہوتا اس لیے وہ ان تمام معاملات پر غور نہیں کرتے، غسل میں اگر کسی بھی چیز کی کمی رہ جائے تو اس کی ذمہ داری مردے پر عائد نہیں ہوتی. مفتی اکمل نے شرعی تعلیمات کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے

کہاکہ علم کا تعلق عمرسے نہیں بلکہ حاصل کرنے سے ہوتا ہے، اگر عمر سے علم کا تعلق ہوتا تو سفید داڑھی والے شخص کو مفتی اعظم بنادیاجاتا. مسئلہ بیان کرتے ہوئے مفتی اکمل نے کہا کہ انتقال کرنے والی بچی کو نیل پالش لگی ہوئی تھی اس لیے اُس کے ناخنوں تک پانی نہیں پہنچا جس سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شرعی لحاظ سے اُس کا غسل نہیں ہوا اس لیے وہاں موجود تمام ہی لوگ گناہ گار ہوں گے. مفتی اکمل نے کہا کہ اچھی طرح سے یاد رکھیں کہ لڑکی کو غسل دے کر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ ناقص غسل کی وجہ سے اُسے غضبناک کیا ہے اسی وجہ سے ممکن ہے کہ روز قیامت وہ لڑکی غسل دینے والوں کو کھڑا کر کے اللہ کی بارگاہ میں التجاء کرے کے کہ انہوں نے مجھے تیری بارگاہ ناپاکی کی حالت میں پہنچایا اس لیے ان سے اس کوتاہی کا بدلا دلوا.

..

اگر چاند تجھ سے زیادہ خوبصورت ہے تو تمہیں تین طلاقیں ہوں

حضرت عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی اپنی بیوی سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے. ایک دن چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا تھا کہنے لگے اگر چاند تجھ سے زیادہ حسین ہے تو تجھ کو تین طلاقیں‌ ہوں.بیوی نے فوراً پردہ کر لیا اور کہا کہ چاند تو پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور میری رنگت میں تو وہ چمک نہیں ہے لہذا تو نے مجھے تین طلاقیں

دیں اور طلاقیں جمع ہوگئیں. بڑے پریشان ہو گئے. رات بہت مشکل سے گزاری. صبح خلیفہ منصور کے پاس آ گئے . اور کہا کہ رات اپنی بیوی کو یہ کہہ بیٹھا ہوں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو خلیفہ نے علما کو بلایا اور سب کے سامنے یہ مسئلہ رکھا رو سب نے کہا کہ طلاق ہو گئی. ایک آدمی خاموش بیٹھا تھا اور وہ اما ابو حنیفہ کا شاگرد تھا.سب نے کہا

کہ طلاق ہوگئی. منصور پوچھنے لگا کہ تم نہیں بول رہے ہو. تو اس عالم نے سورہ طین کی آیات تلاوت کیں اور کہا کہ میرے رب نے کہا کہ میں نے انسان کو سب سے زیادہ خوبصورت بنایا ہے. فرمایہ کہ چاند جتنا بھی زیادہ خوبصورت کیوں نہ ہو اور یہ کتنی ہی کالی کیوں نہ ہو انسان ہونے کے ناطے یہ چاند سے زیادہ حسین ہے تو خلیفہ منصور نے کہا کہ جاؤ اپنی بیوی سے کہو کوئی طلاق نہیں‌ہوئی تم پریشانی چھوڑ دو.

.

معاشرے میں آج کل کمیٹی ڈالنا بہت عام سی بات ہے ۔۔ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اورشریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟

پاکستان ہی نہیں برصغیرمیں بھی کمیٹی ایک وبا کی طرح ہر خاص و عام میں موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ جب اس کے فوائد بھی بیش بہا ہیں . آپ کی ضروریات ، آپ کے رکے ہوئے چھوٹے موٹے کام ، گھروں کی آرائش و زیبائش اور مرمت جیسی چیزیں اسی کمیٹی سے ہی تو پوری ہوتی ہیں .

مگر کیا آپ نے سوچا کہ کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ . گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک سائل نے مفتی صاحب سے سوال کیا کہکیا کمیٹی ڈالنا جائز ہے اور شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟ تو مفتی صاحبان نے اس حوالے سے مفصل جوابات دیے جو ہم اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں . کمیٹی کے ذریعے مالی مدد کا حصول ممکن بنانا کوئی نیا عمل نہیں بلکہ برس ہا برس پرانا ہے لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ کمیٹی کئی طرح کی ہیں ان میں سے صرف ایک جائز ہے بقیہ کمیٹیاں ناجائز اور جوا کھیلنے کے مترادف ہیں.مفتی صاحبان کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹیاں اس طرح ڈالی جائیں کہ اگر ممبران کو اپنی باری آنے پر رقم ملے اور شروع سے آخر تک ممبران کمیٹیاں بھرتے رہیں تو ایسی صورت میں یہ عمل جائز ہوگا.مفتی صاحب نے سائل کے سوال پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر لوگ اپنی کسی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کمیٹیاں ڈالتے ہیں جس میں ممبران کی مخصوص تعداد مقررہ رقم ہر ماہ جمع کرواتی ہے یوں ایک خطیر رقم اکٹھی ہو جاتی ہے جو قرعہ اندازی کر کے کسی ایک رکن کو دے دی جاتی ہے تاہم قرعہ اندازی میں نام آنے والا ممبر بھی کمیٹی ختم ہونے تک اپنی ماہانہ کمیٹی بھرتا رہتا ہے.لیکن کئی کاروباری حضرات ایسی کمیٹیاں بھی ڈالتے ہیں جنہیں ’’لکی کمیٹی‘‘ کہا جاتا ہے،اس کمیٹی میں جس ممبر کی کمیٹی کھل جاتی ہے وہ پوری رقم تو لے جاتا ہے لیکن پھر کمیٹی کی ماہانہ رقم بھرنے کا پابند نہیں ہوتا اسے لکی کمیٹی کہا جاتا ہے اور یہ جوا کھیلنے کی مانند ہے.اس لیے لکی کمیٹی یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور کمیٹی ڈالنا اور اس پہ رقم حاصل کرنا جائز نہیں.اسی طرح ایک ’’بولی کمیٹی‘‘ ہوتی ہے جس میں قرعہ اندازی میں جس ممبر کا نام آتا ہے اسے کوئی دوسرا ممبر زیادہ رقم دے کر وہ کمیٹی لے لیتا ہے اور اس کمیٹی میں بھی جس جس کا نام قرعہ اندازی میں آتا جاتا ہے وہ کمیٹی سے باہر ہو جاتا ہے چنانچہ یہ کمیٹی بھی سراسر جوا اور سود ہے جو کسی طور جائز نہیں…

وہ کون سے 10 مجرم تھے جن کے بارے میں رسول ؐ نے کہا کہ ان میں سے کوئی غلاف کعبہ کے نیچے چھپا ہوا ملے تب بھی اسے معاف نہ کیا جائے؟

قریش میں سترہ ایسے مجرم بھی تھے، جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شفقت سے محروم کر کے واجب القتل قرار دیتے ہوئے فرما دیا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص غلاف کعبہ کے نیچے چھپا ہوا ملے تب بھی اسے معاف نہ کیا جائے.جن لوگوں کے متعلق فرمان قتل نافذ ہوا ان میں سے بعض لوگ ادھر ادھر روپوش ہو گئے، بعض بھاگ کر مکہ سے دور چلے گئے، لیکن ان مجرموں کے ساتھ یہ برتاؤ کسی کینہ یا برہمی کیوجہ سے نہ تھا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ذمائم (برے) اخلاق سے مبرا تھے، بلکہ ان بدنصیبوں نے خود اپنے اعمال کی وجہ سے یہ روز بد دیکھا. ان مجرموں میں مندرجہ ذیل اشخاص تھے:1. عبداللہ ابن ابی سرح تھے

جو مسلمان ہو جانے کے بعد کاتب وحی کے منصب پر فائز ہوئے اور ان کی طبیعت رنگ لائے بغیر نہ رہی. ترک اسلام کر کے قریش کے ہاں چلے آئے اور یہاں آ کر یہ ڈینگیں مارنے لگے کہ میں قرآن میں کمی بیشی کرتا ہوں.2. عبداللہ ابن خطل یہ بھی اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا اور مرتد ہونے کے بعد اپنے بے گناہ غلام کو قتل کر دیا. اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی دو کنیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کے قصائد سوز میں سننے سنانے کا مشغلہ بنا لیا.3, 4. مذکورۃ الصدر دونوں کنچنیوں کے لئے.5. عکرمہ بن ابوجہل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے حسد و دشمنی میں حد سے گزرے ہوئے. فتح مکہ کے زمانے میں بھی حضرت خالد بن ولیدؓ کے دستے پر حملہ کر دیا.6. صفوان بن امیہ.7. حویرث بن نقیذ. جناب زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقعہ پر سیدہ کے درپے آزار ہوا. بی بی کی سواری کے جانور کو اس زور سے کونچا دیا کہ سواری بے تحاشا بھاگ اٹھی. سیدہ زمین پر گر پڑیں اور اسقاط ہو گیا.8. مقیس بن حبابہ. مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو کر مشرکوں کا ناصر و معین بن گیا.9. ھبار بن اسود.10. ہند بنتعتبہ (زوجہ ابو سفیان) سید الشہداء (عم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والی.ان میں چار اشخاص کیفر کردار

کو پہنچ گئے. ابن اخطل، اس کی کنیز قریبہ، مقیس، حویرث باقیوں کی سرگزشت یہ ہے.1. عبداللہ بن سرح: (نمبر ایک) حضرت عثمان کے سوتیلے رضاعی بھائی تھے. ممدوح اسے ہمراہ لائے. جاں بخشی کی سفارش پیش کی. رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد معاف فرما دیا.2.عکرمہ بن ابوجہل (نمبر5) کی اہلیہ سیدہ ام حکیم بنت الحارث اسلام لے آئی تھیں. عکرمہ فرمان قتل سن کر یمن کی طرف بھاگ گئے. ام حکیم نے اپنے شوہر کی جاں بخشی کی التجا کی اور قبول عرض کے بعد بی بی خود یمن کی طرف گئیں.3. صفوان بن امیہ (نمبر6) بھی عکرمہ کے ہمراہ تھے. دونوں ایک کشتی میں سوار ہو کر یمن کی طرف جانے کے لئے پتوار کھول رہے تھے کہ بی بی ام حکیم جا پہنچیں اور جاں بخشی کے مژدہ سنا کر دونوں کو مکہ واپس لے آئیں. 4. سیدہ ہند (نمبر10) زوجہ ابوسفیان. حوالہ: حیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: صلحِ حدیبیہ سے وفات ابراہیمؓ تک مصنف: محمد حسین ہیکل

..

رات کا بچا ہوا آٹا پھینکیں نہیں بلکہ۔۔تنگ دستی کا شکار افراد کیلئے ایسا مجرب عمل کہ جس کی وجہ دولت اور رزق اتنا کہ نسلیں بیٹھ کر کھائیں

اگر آپ تنگ دستی اور رزق میں کمی کا شکار ہیں تو ہم آپ کو یہاں نہایت مجرب عمل بتانے جا رہے ہیں جس کے کرنے سے نہ صرف آپ مالا مال ہو جائیں گے بلکہ رزق میں برکت کےدروازے بھی آپ پر کھول دئیے جائیں گے. وظیفے پر عمل کرنے سے پہلے ان چند باتوں کا خاص خیال رکھیں، پانچ وقت نماز کی ہر حال میں پابندی کریں، تمام انسانوں اور کلمہ گو سے محبت رکھیں اور فرقہ وارانہ یا متعصبانہ خیالات کو ذہن سے نکال دیں تاکہ جب آپ رب کی مخلوق سے اخلاص اور محبت رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے محبت رکھیں گے، آپس کی رنجشوں کو ختم کریں، جھوٹ بولنے سے گریز کریں، صدقہ و خیرات بھی کرتے رہیں.

جو شخص کاروبار میں مندی اور ملازمت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو یا ملازمت میں ترقی کا خواہش مند ہو ، اگر کسی مشکل میں پھنسا ہو تو یہ وظیفہ خاص اس کیلئے ہے. ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ آٹے کی سو گولیاں جو انگور کے دانہ کے برابر ہوں بنا لے، اور انہیں دھوپ میں سکھا لے یا بغیر سکھائے ہر جمعرات کے دن عشا کی نماز پڑھنے کے بعد ان آٹے کی ہر ایک گولی پر ایک مرتبہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحٰنک ان کنت من الظلمین پڑھے، اس طرح سو مرتبہ آیت کریمہ پڑھنے کی تعداد ہو جائے گی، اس عمل کے اول و آخر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھے. اس کے بعد ان گولیوں کو دریا میں یا صاف بہتے پانی میں بہاد یں. اس عمل کی بدولت بہت سے افراد نے اپنی مراد پائی ہے اور اللہ نے انہیں اپنے خزانوں سے غنی بنا دیا…

آنسو، پسینے اور تھوک سے بھی بجلی بنائی جائے گی

آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لمیرک کے سائنسدانوں نے بجلی بنانے کےلیے ایک ایسا مفید پروٹین دریافت کرلیا ہے جو ہمارے آنسوؤں، پسینے اور تھوک کے علاوہ دودھ اور انڈے کی سفیدی میں بھی شامل ہوتا ہے جبکہ اس پروٹین کو ’’لائسوزائیم‘‘ (lysozyme) کہا جاتا ہے.اپنے قدرتی ماحول میں یہ پروٹین جرثوموں کی خلوی دیواریں پھاڑ کر انہیں ناکارہ بنانے اور ہماری حفاظت کرنے کا کام کرتا ہے.

البتہ آئرلینڈ کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ یہی پروٹین اپنی خالص اور قلمی (کرسٹلائن) حالت میں ’’پیزو الیکٹرک ایفیکٹ‘‘ نامی اصول سے استفادہ کرتے ہوئے بجلی بنانے کا کام بھی کرتا ہے. اس اعتبار سے یہ وہ پہلا قدرتی نامیاتی (آرگینک) مادّہ ہے جس میں پیزو الیکٹرک خصوصیات پائی گئی ہیں.واضح رہے کہ پیزو الیکٹرک ایفیکٹ یا ’’داب برق اثر‘‘ کے تحت کسی مادّے پر دباؤ بڑھانے

یا اسے بھینچنے پر بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ ہر قسم کی ’’ٹچ اسکرین‘‘ کے کام کرنے کا راز بھی یہی پیزو الیکٹرک اثر ہے. تاہم اس مقصد کےلیے ’’کوارٹز‘‘ کہلانے والی قلمیں استعمال کی جاتی ہیں جو غیر نامیاتی مادّوں میں شمار ہوتی ہیں؛ یعنی کوارٹز قلموں کو کسی جاندار کے جسم میں بجلی بنانے والے کسی آلے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا.اس کے برعکس لائسوزائیم کی خالص قلمیں چونکہ قدرتی حیاتیاتی نظام کا حصہ ہیں لہٰذا انہیں استعمال کرتے ہوئے بجلی بنانے والے ایسے داب برق نظام (پیزو الیکٹرک سسٹمز) تیار کیے جاسکیں گے جو جسم کے اندر پیوند کیے جانے والے آلات کی توانائی کی

ضروریات پوری کرسکیں گے. دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ لائسوزائیم قلموں سے (پیزو الیکٹرک ایفیکٹ کے تحت) تقریباً اتنی ہی بجلی پیدا ہوتی ہے جتنی کوارٹز قلموں سے بنتی ہے.یونیورسٹی آف لمیرک کے ماہرین نے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے جس میں لائسوزائیم قلموں کو دو پتلے شیشوں کے درمیان دبا کر ان سے بجلی پیدا کی گئی.

خواتین کا بھنویں بنوانا حرام ہے، درالعلوم دیوبند کا فتویٰ

بھارت میں دارالعلوم دیوبند نے خواتین کے بھنویں بنوانے کے فعل کو حرام قرار دیا ہے. بھارتی میڈیا کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کی جانب سے جاری کردہ فتوے میں کہا گیا کہ مسلمان خواتین کا بھنویں بنوانا غیر اسلامی فعل ہے اس لیے وہ اس کام سے گریز کریں.

بھارتی شہر سہارن پور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے دارالعلوم دیو بند سے خواتین کے بھنویں بنوانے اور بال کٹوانے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تھا

جس پر یہ فتویٰ جاری کیا گیا، مذکورہ شخص نے پوچھا کہ کیا شریعت کی رو سے میری اہلیہ کے لیے بھنویں بنوانا جائز ہے.سوال کے جواب میں دارالعلوم نے کہا کہ بھنویں بنوانا یا بھنوؤں کے بال اکھاڑنا دونوں ہی غیر اسلامی فعل ہیں اور شریعت کی رو سے حرام ہیں، اگر کوئی مسلمان خاتون یہ کام کرتی ہے تو وہ شریعت کی خلاف ورزی کررہی ہے.دارالفتاء کے سربراہ مولانا صادق قاسمی نے کہا کہ مسلمان خواتین بیوٹی پارلرز جانے سے بھی گریز کریں

کیونکہ انہیں غیر مردوں کے سامنے اپنا بناؤ سنگھار دکھانے کی اجازت نہیں. انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمان مردوں کو داڑھی منڈوانے کی اجازت نہیں اسی طرح خواتین کے لیے بھی بھنویں بنوانا ممنوع ہے.مولانا صادق قاسمی کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان خواتین کے بیوٹی پارلر جانے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جو کوئی اچھی علامت نہیں اور اسے فورا بند ہونا چاہیے.

..

خواتین کا بھنویں بنوانا حرام ہے، درالعلوم دیوبند کا فتویٰ

بھارت میں دارالعلوم دیوبند نے خواتین کے بھنویں بنوانے کے فعل کو حرام قرار دیا ہے. بھارتی میڈیا کے مطابق دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کی جانب سے جاری کردہ فتوے میں کہا گیا کہ مسلمان خواتین کا بھنویں بنوانا غیر اسلامی فعل ہے اس لیے وہ اس کام سے گریز کریں.

بھارتی شہر سہارن پور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے دارالعلوم دیو بند سے خواتین کے بھنویں بنوانے اور بال کٹوانے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تھا

جس پر یہ فتویٰ جاری کیا گیا، مذکورہ شخص نے پوچھا کہ کیا شریعت کی رو سے میری اہلیہ کے لیے بھنویں بنوانا جائز ہے.سوال کے جواب میں دارالعلوم نے کہا کہ بھنویں بنوانا یا بھنوؤں کے بال اکھاڑنا دونوں ہی غیر اسلامی فعل ہیں اور شریعت کی رو سے حرام ہیں، اگر کوئی مسلمان خاتون یہ کام کرتی ہے تو وہ شریعت کی خلاف ورزی کررہی ہے.دارالفتاء کے سربراہ مولانا صادق قاسمی نے کہا کہ مسلمان خواتین بیوٹی پارلرز جانے سے بھی گریز کریں

کیونکہ انہیں غیر مردوں کے سامنے اپنا بناؤ سنگھار دکھانے کی اجازت نہیں. انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمان مردوں کو داڑھی منڈوانے کی اجازت نہیں اسی طرح خواتین کے لیے بھی بھنویں بنوانا ممنوع ہے.مولانا صادق قاسمی کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان خواتین کے بیوٹی پارلر جانے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جو کوئی اچھی علامت نہیں اور اسے فورا بند ہونا چاہیے.

’تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی‘

تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی یہودیوں کیلئے روح زمین پر انتہائی مقدس ترین چیزیں ہیں. تابوت سکینہ دراصل ایک صندوق کا نام ہے جس میں جلیل القدر پیغمبروں کے تبرکات اور آسمانی اشیا رکھی گئی تھیں.

تابو ت سکینہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتا ہوا حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچا. اس صندوق میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک کے تبرکات محفوظ تھے،اسی تابوت سکینہ میں تورات کی وہ تختیاں بھی تھیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رب تعالیٰ نے سینا پہاڑ پر عطا کیں.قصص الانبیا میں درج ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت طالوت علیہ السلام کو دی گئی .

حضرت دائود علیہ السلام نے حضرت طالوت کی صاحبزادی سے عقد کیا اور آپ ؑ کے دل میں ہی اللہ تعالیٰ نے تابوت سکینہ کی حفاظت کا خیال ڈالا. آپ تابوت سکینہ کی حفاظت کیلئے ایک عمارت تعمیر کرنا چاہتا تھے مگر اپنی زندگی میں ایسا نہ کر سکے . آپؑ کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور جنات کی مدد سے اس کی تعمیر شروع کی. ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے آخری مراحل میں اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بتا دیا تھا کہ آپؑ کی زندگی کا وقت پورا ہو چکا ہے، جلد آپ ؑ اس دار فانی سے کوچ کر جائیں گے. آپؑ نے جنات کو حکم دیا کہ ان کیلئے شیشے کا ایک کمرہ تعمیر کریں ، کمرےکی تعمیر مکمل ہونے پر آپؑ اس میں چلے گئے اور اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو گئے تاکہ موت واقع ہو جانے پر آپ ؑ کا جسم مبارک زمین پر نہ گرے اور جنات یہی سمجھتے رہیں کہ آپ ؑ زندہ ہیں اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کریں. قرآن میں اس واقع کا ذکر موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ہیکل سلیمانی کی تعمیر جنات نے مکمل کر لیتو اللہ کے حکم سے جس لاٹھی کے سہارے حضرت سلیمانؑ کھڑے تھے اسے دیمک نے کھا کر کھوکھلا کر دیا اور وہ آپؑ کا بوجھ نہ سہار سکی اور آپؑ جو موت واقع ہو جانے کے بعد اس کے سہارے کھڑے تھے گر گئے جس سے جنات اور دیگر مخلوقات کو آپؑ کی موت کا علم ہوا.ہیکل سلیمانی کے اندر ایک اور کمرہ نما عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی جسے ’’قدس ‘‘کا نام دیا گیا تھاجہاں ایک پردہ کے پیچھے محراب تھی جس میں تابوت سکینہ کو رکھا گیا تھا. بنی اسرائیل کے مذہبی رہنمائوں میں یہ رواج تھا کہ وہ ہر سال ایک مقررہ تاریخ میں اپنی باری پر تنہا قدس میں پردے کے پیچھے اس محراب میں داخل ہو کر تابوت سکینہ اور اس میں موجود چیزوں کی صفائی کرتے تھے اور اس مقدس محراب میں عبادت اور دعائیں کرتے تھے. یہی وہ محراب ہےجہاں حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں نیک فرزند کی بڑھاپے میں خوشخبری دی تھی.بنی اسرائیل کے لئے یہ قبلہ کے طور پر مقرر کیا گیا تھا. یہ مسلمانوں کا بھی قبلہ اول رہا ہے اور پھر مدینہ میں مسجد قبلہتین میں امامت کرواتے ہوئے حضور ﷺ پر بذریعہ وحی حکم نازل کیا گیا تھا کہ آپ ؐ اپنا رخ کعبہ شریف کی طرف کر لیں.تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ تابوت سکینہ ہیکل سلیمانی میں قدس کے اندراہل بابل کے حملے تک محفوظ رہابعض روایات میں ہے کہ اہل بابل اسے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسے آسمانوں پر اٹھالیا گیا. اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل نے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کیا. کچھ عرصہ بعد رومیوں نے حملہ کر کے ہیکل سلیمانی کوآگ لگا دی.حکومت کے دوران رومیوں نےاس جگہ ایک عبادت گاہ بنائی. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب یروشلم فتح ہوا تو آپ ؓ خود یہاں تشریف لائے . آپ ؓ نےرومیوں کی تعمیر کردہ عبادت گاہ سے کچھ فاصلے پر دعا فرمائی، یہ ٹھیک وہی جگہ ہے جہاں مسجد اقصیٰ تعمیر کی گئی.یہودی کا دعویٰ ہے کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ واقع ہے وہاں قدس اور ہیکل سلیمانی تھے،ہیکل سلیمانی کی ایک بار پھر تعمیر کیلئے ان کی کوششیں جاری ہیں اور مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی مذموم کوششیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں.مقدس تبرکات کی تلاش کے

نام پر مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے اور وہاں کئی سرنگیں بنا دی گئی ہیں .یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے دور میں جن پتھروں سے ہیکل سلیمانی تعمیر کی گئی تھی وہ اسی جگہ زمین میں دفن ہیںاور انکی تلاش کے بعد دوبارہ سے ہیکل سلیمانی انہیں پتھروں سے تعمیر کی جائے گی. مسلمان کیلئے یہ جگہ اس لئے مقدس ہے کہ یہ ان کا قبلہ اول ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کا مقام بھی ہے جہاں حضور ﷺ نے معراج کے موقع پر آسمان پر جانے سے پہلے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیا اور رسولوں کی امامت کروائی تھی .یہودی ہیکل کی ایک بچ جانے والی پس ماندہ دیوار میںواقع دروازے کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ قیامت سے قبل ان کے آخری نبی اوربادشاہ کی واپسی کا راستہ ہے. وہ سمجھتے ہیں کہ جب اس دروازے سے ان کا بادشاہ نکلے گا تو اس کے پیچھے تمام مردے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے قریب دجال کا ظہور ہو گا اور تمام دنیا کے یہودی اس کی بادشاہت اور نبوت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے .

..

روضہ رسول ﷺ کی کھڑکی

حدیث شریف میں آتا ہے کہ مدینہ شریف میں بارش نہیں برس رہی تھی قحط سالی پڑھ گئی تھی.کچھ صحابی اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اماں جان کوئی ایسا وظیفہ کوئی ایسا امر بتائیں کہ قحط سالی ختم ہو جائے اور ابر رحمت برسنے لگے.

تو اُم المومنین رضی اللہ عنها نے فرمایا کہروضئہ رسولﷺ کی چھت پر جو روشندان یعنی کھڑکی رکھی گئی ہے اسے کھول دو.جب روضئہ رسولﷺ کا اور آسمان کا سامنہ ہوا تو خوب بارش برسنے لگی یہاں تک کہ لوگ دوبارہ ام المومنین ؓکی بارگاہ میں حاظر ہوئے اور

بارش روکنے کے وظائف و تدابیر دریافت کرنے لگے.تو اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها نے فرمایا کہ روضئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کھڑکی دوبارہ بند کر دو.چنانچہ کھڑکی بند کرتے ہی بارش تھم گئی.(وہ حدیث شریف یہ ہے )ترجمہ : اوس بن عبد اللہ فرماتے ہیں ، اہل مدینہ شدید قحط میں مبتلا ہوگئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ حالت بیان کی ، انہوں نے فرمایا : جاؤ قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر کی طرف سے تھوڑا سا کھول دو ، اس طرح کہ قبر اور

آسمان کے درمیان کوئی چھت نہ ہو ، کہتے ہیں : لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو اللہ تعالی نے اتنی بارش نازل فرمائی کہ ہر طرف ہریالی پھیل گئی ، اونٹ اس قدر سیر ہوگئے کہ چربی کی وجہ سے ان کے جسمانی اعضاء الگ الگ نظر آنے لگے ، اس مناسبت سے اس سال کو ’ عام الفتق ‘ کا نام دیا گیا .

..